زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰۱۰ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

صاحب ِقربانی یا جانور قربانی میں کس کی جگہ کا اعتبار ہے؟

صاحب ِقربانی یا جانور قربانی میں کس کی جگہ کا اعتبار ہے؟

کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
اگر کوئی برطانیہ میں مقیم ہو اور وہ پاکستان میں کسی کو اپنا وکیل بنا دے کہ آپ میری طرف سے قربانی کریں‘ چونکہ عموماً برطانیہ والے پاکستان سے دو دن پہلے عید کرتے ہیں یعنی جس دن پاکستان میں عید ہوتی ہے وہ ان کا تیسرا دن ہوتا ہے اور جب پاکستان میں عید کا دوسرا دن ہوتا ہے تو ان کے ایام ختم ہو چکے ہوتے ہیں تو کیا یہ وکیل ان کی طرف سے دوسرے دن میں قربانی کرسکتا ہے یا نہیں؟ یعنی قربانی میں،قربانی کرنے والے کے مقام کا اعتبار ہوتا ہے یا جانور کے مقام کا؟جبکہ فتاویٰ رحیمیہ میں ہے کہ: جانور کے مقام کا اعتبار ہوگا (۱۰/۴۰‘ اشاعت) اور دار الافتاء دار العلوم کراچی سے فتویٰ دیا گیا ہے کہ قربانی کرنے والے کے مقام کا اعتبار ہوگا‘ جس کی فوٹو کاپی ساتھ منسلک کی جاتی ہے‘ برائے کرم اپنی رائے سے مطلع فرمائیں۔

مستفتی:ارشاد الرحمن ویسہ‘ اٹک

الجواب ومنہ الصدق والصواب

بطور تمہید چند امور کا ابتداء میں ذکر کرنا ضرری ہے تاکہ اصل مسئلہ سمجھنے میں آسانی ہو۔ واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں قربانی کا تعلق چونکہ مخصوص ایام ومخصوص زمانہ کے ساتھ رکھا گیا ہے اس لئے فقہاء کرام نے قربانی کے وجوب کے لئے بنیادی اعتبار سے دو شرطیں ضروری قرار دی ہیں:
۱- ایک یہ کہ نفس وجوب پایا جائے یعنی ایام نحر کے مخصوص ایام شروع ہوجائیں‘ جو ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کے دن صبح صادق طلوع ہونے کے بعد سے لے کر بارہویں ذی الحجہ کے سورج غروب ہونے سے پہلے تک ہے یعنی مذکورہ ایام کا دخول قربانی کے نفس وجوب کے لئے بنیادی شرط ہے‘ ان تین ایام میں جس دن بھی چاہے قربانی کرنا جائز ہے‘ان دنوں کے علاوہ میں قربانی کرنا جائز نہیں‘ جیساکہ ”بدائع الصنائع“ میں ہے:

”وایام النحر ثلاثة: یوم الاضحی وہو الیوم العاشر من ذی الحجہ‘ والحادی عشر‘ والثانی عشر بعد طلوع الفجر من الیوم الاول الی غروب الشمس من الیوم الثانی عشر“۔ (کتاب:التضحیة‘ ۴/۱۹۸‘ ط:دار احیاء التراث العربی‘ کذا فی الہندیہ‘ الاضحیہ‘ الباب الثالث: فی وقت الاضحیة‘ ۵/۲۹۵‘ط: رشیدیہ)
ان ایام کے گذرنے کے بعد بھی قربانی کرنا جائز نہیں ہوگا‘ جیساکہ ”فتح القدیر“ میں ہے:
”ولو ذہب الوقت تسقط الاضحیة“۔ (الاضحیة‘ ۸/۴۲۵‘ ط:رشیدیہ)
۲- دوسری شرط یہ کہ وجوب بھی ہو اور وہ ”غنیٰ“ (مالداری) ہے یعنی اس شخص پر قربانی واجب ہوجاتی ہے جو مقدار نصاب یا اس سے زائد کا مالک ہو‘ یا اس کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنا سامان ہو جس کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد ہو‘ یا ساڑھے سات تولہ سونا یا اس کی قیمت کے برابر ضرورت سے زائد دیگر اشیاء اس کی ملکیت میں ہوں، جیساکہ ”الدر مع الرد“ میں ہے:
”وشرائطہا ای شرائط وجوبہا: الاسلام‘ والاقامة‘ والیسار الذی یتعلق بہ وجوب صدقة الفطر“۔ وفی الشامیة: ”(قولہ: والیسار) بان ملک مائتی درہم او عرضاً یساویہا غیر مسکنہ وثیاب اللبس او متاع یحتاجہ الی ان یذبح الاضحیة ولولہ عقار یستغلہ‘ فقیل: تلزم لو قیمتہ نصاباً ․․․ وصاحب الثیاب الاربعة لو ساوی الرابع نصابا غنی وثلاثة فلا ․․․ الخ“۔ (الاضحیة‘ ۶/۳۲۱‘ط:سعید)
غرض یہ کہ یہ دو چیزیں قربانی کے وجوب کے لئے بنیادی شرطیں ہیں‘ لہذا پہلی شرط کے مطابق وقت کے داخل ہونے کے بعد ہی قربانی کرنا جائز ہوگا‘ نہ وقت سے پہلے جائز ہے اور نہ ہی وقت کے ختم ہونے کے بعد جائز ہے‘ جیساکہ ”ضرح العنایة علی ہامش فتح القدیر“ میں ہے: ”فلایجوز فی لیلة النحر البتة‘ لوقوعہا قبل وقتہا ولا فی لیلة التشریق المحض لخروجہ“۔ (الاضحیة‘ ۸‘۴۳۲‘ط: رشیدیہ)
نیز قربانی کرنے والا جس ملک میں موجود ہے اس ملک کے ایام النحر کا اعتبار ہوگا‘ اگر کوئی پاکستانی مثلاً برطانیہ میں رہ رہا ہے اور وہاں ایام النحر شروع ہوجائیں تو اس پر لازم ہے کہ برطانیہ کے ایام نحر کے اعتبار سے قربانی کرے‘ کیونکہ وہاں نفس وجوب کا سبب پایا جاچکا ہے۔پھر یہ کہ قربانی کرنے والے حضرات یا تو شہری ہوتے ہیں یا دیہاتی‘ شہری باشندوں کا حکم الگ ہے اور دیہات میں رہنے والوں کا حکم الگ ہے۔
شہری باشندوں کے لئے نماز عید سے قبل قربانی کا جانور ذبح کرنا جائز نہیں‘ جبکہ دیہات میں رہنے والوں کے لئے طلوع صبح صادق کے ساتھ ہی قربانی کا جانور ذبح کرنا درست ہے‘ اس لئے کہ ان پر عید کی نماز واجب نہیں‘ جیساکہ ”ہندیہ“ میں ہے:
”والوقت المستحب للتضحیة فی حق اہل السواد بعد طلوع الشمس وفی حق اہل المصر بعد الخطبة “۔ کذا فی الظہیریة (الاضحیة‘ الباب الثالث: فی وقت الاضحیة‘ ۵/۲۹۵‘ ط:رشیدیہ)
فتح القدیر میں ہے:
”ووقت الاضحیة یدخل بطلوع الفجر من یوم النحر الا انہ لایجوز لاہل الامصار الذبح حتی یصلی الامام العید“۔ (الاضحیة ‘۸/۴۳۰‘ ط:رشیدیہ)
مذکورہ سطور سے معلوم ہوا کہ نفسِ وجوب کا تعلق مکلف یعنی قربانی کرنے والے کے ساتھ ہے‘ لہذا نفسِ وجوب میں قربانی کرنے والے کے محل (مکان) کا اعتبار ہوگا‘ نیز مذکورہ بالا تفصیل کا تعلق اس مسئلہ کے ساتھ ہے کہ اگر کوئی شخص بذات خود اپنے مکان ومحل میں قربانی کرے‘ لیکن اگر کوئی شخص از خوداپنے محل میں قربانی نہیں کرتا‘ بلکہ کسی دوسرے ملک میں رہنے والے کسی دوسرے شخص کو اپنی قربانی کا وکیل بنادے تو اس مسئلہ سے متعلق حکم کے لئے آئندہ سطور میں تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔چونکہ نفسِ وجوب کا سبب یوم النحر ہے جیساکہ اوپر کی تفصیل سے معلوم ہوا‘ لہذا اگر کوئی شخص اپنی قربانی کے لئے کسی دوسرے ملک میں رہنے والے کسی شخص کو وکیل بنادے تو ایسی صورت میں یہ دیکھا جائے گا کہ قربانی کا وکیل بننے والا اور کروانے والا (مؤکل) دونوں کے ہاں یوم النحر ہوچکا ہے یا نہیں۔ اگر یوم نحر ہوچکا ہے تو نفسِ وجوب ہوگیا‘ اب دیگر شرائط کے پائے جانے کی صورت میں قربانی کرنے والا خود قربانی کرے یا کسی کو وکیل بناکر کروائے‘ دونوں صورتوں میں قربانی شرعاًادا ہوجائے گی‘ لیکن قربانی کرنے والا جہاں رہ رہا ہے‘ اگر وہاں یومِ نحر نہیں ہوا ہے جو کہ نفسِ وجوب کا سبب ہے تو جس طرح اس وقت وہ خود اپنی قربانی نہیں کرسکتا‘ اسی طرح اس کی طرف سے کوئی اور بھی نہیں کرسکتا‘ اگر چہ دوسرا شخص یعنی وکیل کے شہر یا ملک میں یوم النحر شروع ہوچکا ہو۔
اسی وجہ سے فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ: اگر کوئی شخص قربانی کے لئے رقم کسی دوسرے ملک میں بھیج دے اور کسی کو قربانی کرنے کے لئے کہہ دے تو اس طرح رقم بھیج کر قربانی کرنا اگرچہ درست ہے اور شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ہے‘ لیکن اتنی بات ضروری ہے کہ قربانی دونوں ملکوں کے مشترکہ دن میں کی جائے‘ ورنہ قربانی درست نہیں ہوگی۔ مثلاً: برطانیہ میں پاکستان کے حساب سے دو دن پہلے اگر قربانی کے ایام شروع ہوتے ہیں اور پاکستان میں دو دن بعد۔ تو برطانیہ میں رہنے والے آدمی کی قربانی پاکستان میں صرف پہلے دن میں صحیح ہوگی‘ دوسرے اور تیسرے دن میں نہیں‘ کیونکہ پاکستان کا پہلا دن برطانیہ کے حساب سے قربانی کا تیسرا دن ہے جبکہ دوسرا اور تیسرا دن برطانیہ کے حساب سے قربانی کا دن نہیں۔
نیز یہ بھی واضح رہے کہ برطانیہ کا وقت پاکستان کے وقت سے پانچ گھنٹے پیچھے ہے مثلاً: جب پاکستان میں صبح ساڑھے چھ بج رہے ہوتے ہیں تو برطانیہ میں رات کا ڈیڑھ بج رہا ہوتا ہے‘ لہذا اگر کوئی آدمی برطانیہ میں رہ رہا ہو اور وہ پاکستان میں کسی کو اپنی قربانی کا جانور ذبح کرنے کا وکیل بنادے تو پاکستان میں اس کی قربانی اس وقت تک شرعاً معتبر نہ ہوگی جب تک برطانیہ میں یومِ نحر کی صبح صادق طلوع نہ ہو‘ کیونکہ یومِ نحر کی ابتداء دس ذی الحجہ کی طلوع صبح صادق سے ہوتی ہے۔
لہذا برطانیہ اور پاکستان کے ایام النحر میں جو دن دونوں ملکوں میں مشترک ہو‘ صرف اس دن میں قربانی کرنا صحیح ہوگا‘ اس کے علاوہ دنوں میں قربانی کرنا جائز نہیں ہوگا۔
باقی فقہاء کی جن عبارات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مکانِ اضحیہ کا اعتبار ہے‘ تو اس کا تعلق ”اداء“ سے ہے یعنی جانور جس جگہ پر ہے ذبح کے احکامات میں وہاں کا اعتبار ہوگا‘ نفسِ وجوب میں وہاں کا اعتبار نہیں ہوگا‘ بلکہ نفسِ وجوب میں مکلف یعنی قربانی کرنے والے کے محل کا اعتبار ہوگا۔
اگر جانور دیہات میں ہے تو اس صورت میں دیہات میں قربانی کے جانور کو صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد ذبح کرنا جائز ہوگا‘ اگرچہ خود قربانی کروانے والا شہر میں ہو‘ جیساکہ ”فتاویٰ ہندیہ“ میں ہے:
”ولو اخرج الاضحیة من المصر فذبح قبل صلوٰة العید‘ قالوا: ان خرج من المصر مقدار ما یباح للمسافر قصر الصلوٰة فی ذلک المکان جاز الذبح قبل صلوٰة العید وا لا فلا“۔ (الاضحیة‘ الباب الرابع: فیما یتعلق بالمکان والزمان‘ ۵/۲۹۶‘ط:رشیدیہ)
”بدائع الصنائع میں ہے:
”روی عن ابی یوسف: یعتبر المکان الذی یکون فیہ الذبح‘ ولایعتبر المکان الذی فیہ المذبوح عنہ‘ وانما کان کذلک ‘ لان الذبح ہو القریة فیعتبر مکان فعلہا لا مکان المفعول عنہ“۔ (کتاب: التضحیة ‘ فصل‘ واما شرائط اقامة الواجب‘ ۵/۷۴‘ط:سعید)
اس کے برعکس اگر جانور شہر میں ہے اور قربانی کرنے والا دیہات میں ہو تو اس صورت میں جب تک شہر میں کسی ایک جگہ پر بھی عید کی نماز نہیں ہوگی‘ جانور کو ذبح کرنا جائز نہیں ہوگا‘ جیساکہ ”ہندیہ“ میں ہے:
”ولو کان الرجل بالسواد واہلہ بالمصر لم تجز التضحیة عنہ الا بعد صلوٰة الامام“۔ (الاضحیة‘ الباب الرابع: فیما یتعلق بالمکان والزمان‘ ۵/۲۹۶‘ ط: رشیدیہ)
غرض یہ کہ ”مکان الاضحیة“ سے مطلق مراد لینا کہ قربانی کا جانور جہاں پر ہے وہاں اگر ایام نحر شروع ہے تو قربانی جائز ہے‘ چاہے قربانی کرنے والا کسی ایسے ملک میں کیوں نہ ہو جہاں ایام نحر ابھی شروع ہی نہیں ہوئے ہیں‘ ہرگز درست نہیں ہے‘ کیونکہ جہاں ایام نحر شروع ہی نہیں ہیں وہاں اس شخص پر وجوب کا سبب ہی متحقق نہیں ہوا اور وجوب ذمہ سے ساقط نہیں ہوتا جب تک کہ نفسِ وجوب کا تحقق نہ ہو‘ اس پوری تفصیل کا لب ِ لباب اور خلاصہ یہ ہوا کہ قربانی کروانے والے (مؤکل) اورکرنے والے (وکیل) کے مکان میں اگر اختلاف اور فرق ہو تو دونوں جگہوں میں دیگر شرائط کے ساتھ ایام نحر کا پایا جانا ضروری ہے۔
باقی جہاں ”فتاویٰ رحیمیہ“ میں ایک سوال کے جواب سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مفتی صاحب  نے مطلق مکانِ اضحیہ کو معتبر قرار دیا ہے خواہ قربانی کروانے والے شخص (مؤکل) پر نفسِ وجوب (ایام نحر کا پایا جانا) متحقق ہوا ہو یا نہیں‘ تو گذشتہ تفصیل اور فقہاء کرام کی صریح عبارات کے مطابق یہ رائے درست نہیں ہے کہ شہری اگر دیہات میں اپنا جانور قربانی کی نیت سے بھیج دے توایسی صورت میں مؤکل کے شہر میں عید کی نماز پڑھی گئی ہو یانہ پڑھی گئی ہو بہر صورت دیہات میں اس جانور کی قربانی شرعاً معتبر ہوگی‘ اور اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ شہر میں رہنے والے شخص پر قربانی کا وجوب متحقق ہو چکا ہو اور وہ ایام نحر ہیں ‘ قربانی شرعاً متبر نہیں۔
لہذا حضرت مفتی صاحب کا سائل کے جواب میں یہ فرمانا کہ مدراس میں عید الاضحی پیر کے دن ہو اورمدراس میں رہنے والا کوئی شخص حیدر آباد میں رہنے والے کسی شخص کو اپنی قربانی کے لئے وکیل بنادے جبکہ حیدر آباد میں عید الاضحی‘ مدراس سے ایک دن قبل یعنی بروز اتوار ہو تو مدراس والے کی طرف سے حیدر آباد میں بروز اتوار قربانی کی جاسکتی ہے تو حضرت مفتی صاحب  کی یہ رائے فقہی عبارات کے مطابق درست نہیں ہے‘ کیونکہ قربانی کے جانورکے ذبح وقت مدراس والے پر قربانی کا وجوب ہی متحقق نہیں ہوا‘ جس کی تفصیل ما قبل میں گذرچکی۔ اور ادباً عرض ہے کہ مذکورہ تفصیل کی روشنی میں ہمیں حضرت مفتی صاحب کی مذکورہ تحقیق یا رائے سے اتفاق نہیں ہے۔ باقی زیر بحث مسئلہ کے بارے میں استفتاء کے ہمراہ منسلکہ دارالعلوم کراچی کے فتویٰ کو بغور پڑھنے کے بعد واضح ہوتا ہے کہ اس فتویٰ کی رو سے مطلق جانور کا محل معتبر نہیں‘ بلکہ مؤکل پر بھی نفسِ وجوب کا پایا جانا ضروری ہے‘ یعنی دونوں جگہوں پر ایام نحر کا پایا جانا ضروری ہے‘ لہذا اس مسئلہ میں ان کے فتویٰ اور ہمارے فتویٰ میں کوئی اختلاف نہیں۔فقط واللہ اعلم

الجواب صحیح

محمد عبد المجید دین پوری

الجواب صحیح

محمد انعام الحق محمد ,محمد شفیق عارف,محمد داؤد

کتبہ

طارق جمیل

متخصص فی الفقہ الاسلامی

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی