زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰۱۰ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

حضرت مولانا حافظ عبدالکریم خالدی

حضرت مولانا حافظ عبدالکریم خالدی
۱۹۴۱ء .....۲۰۰۹ء

۲۷ رمضان المبارک ۱۴۳۰ھ مطابق ۱۸ ستمبر ۲۰۰۹ء بروز جمعہ مدرسہ عربیہ احیاء العلوم ظاہر پیر تحصیل خان پور ضلع رحیم یار خان کے استاذ حدیث، مفسر قرآن حضرت مولانا منظور احمد نعمانی مدظلہ کے معتمد و دست راست، باوفا شاگرد اور تلمیذ، امام الزاہدین حضرت اقدس مولانا حبیب اللہ گمانوی قدس سرہ کے زہد و تقویٰ کی تصویر، امام المعقول والمنقول شیخ الحدیث مولانا منظور احمد نعمانی ثم گمانوی کے علوم و معارف کا عکس اور ان کے خوشہ چیں، اسلاف و اکابر کی نشانی، تقویٰ و طہارت کی تصویر، کفاف و قناعت کے امام، مسند درس و تدریس کی زینت، علم و عرفان کے بحربیکراں، سراپا شفقت و رحمت اور حزم و احتیاط کے ماتھے کا جھومر، استاذ العلما حضرت مولانا حافظ عبدالکریم خالدی نو ماہ بیمار رہنے کے بعد راہی عالم آخرت ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان للہ ما اخذ ولہ مااعطی وکل شی عندہ باجل مسمٰی۔
حضرت حافظ صاحب قدس سرہ اگرچہ عوامی اعتبار سے چنداں شہرت نہ رکھتے تھے مگر علمی اور درسی حلقوں میں ان کا ایک نام اور مقام تھا، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی صفت علم کا مظہر اتم بنایا تھا۔
بلاریب حضرت حافظ صاحب کے غیر معمولی ملکات، ان کے تقویٰ و تدین اور اخلاص و للہیت کے مرہون منت تھے۔ بلاشبہ جس شخص نے حضرت حافظ صاحب کی نجی زندگی اور ان کے روزمرہ معمولات کو قریب سے نہ دیکھا ہو یا ان کی خدمت میں نہ رہا ہو ، وہ ان کی عظمت و رفعت اور مقام و مرتبہ کا کما حقہ ادراک نہیں کرسکتا۔ بنابریں اگر کوئی اللہ کا بندہ ان کے بارہ میں کچھ کہے یا لکھے گا تو اس کو مبالغہ اور بے جا تعریف و توصیف پر محمول کیا جائے گا، اس کے برعکس جس نے حضرت کی زندگی اور معمولات یومیہ کو قریب سے دیکھا ہوگا، یقینا وہ ہماری اس تحریر کو ان کے مرتبہ و مقام سے بہت ہیچ اور کم تر سمجھے گا۔
حضرت حافظ صاحب قدس سرہ ظاہر پیر کے مضافاتی گاؤں رکن پور کے غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ حضرت حافظ صاحب نے اپنے خاندانی حالات اور تعلیمی پس منظر کو بیان کرتے ہوئے جو کچھ فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ :آپ نے ۱۹۴۱ء میں ایک غریب کاشتکار جناب نور محمد کے گھر میں آنکھ کھولی، بچپن میں ہی آپ کے والد صاحب کا انتقال ہو گیا، تو انہیں حسب دستور چھوٹے موٹے کاموں اور بھیڑ بکریوں کے چرانے پر لگادیا گیا، اس لئے کہ ان کے خاندان میں تعلیم و تعلم کا کوئی رواج نہ تھا۔
حضرت حافظ صاحب نے دینی تعلیم کی طرف اپنے متوجہ ہونے کا پس منظر اور اس کے اسباب و وجوہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ”: جب میں اپنے چچا اور دادا مرحوم کی زیر کفالت تھا، ایک بار میرے دادا مرحوم نے خربوزے کا کھیت لگایا تو مجھے اس کی دیکھ بھال پر مامور کردیا، جب فصل پکنے لگی اور دادا مرحوم خربوزے فروخت کرنے کے لئے بازار لے جانے لگے تو میں نے اپنے بھول پن کی وجہ سے ایک دن چاقو لیا اور کھیت میں گھس گیا، جو خربوزہ پکا ہوا محسوس ہوتا اسے چاقو سے کاٹتا، کھانے کے قابل ہوتا تو کھالیتا، اگر کھانے کے قابل نہ ہوتا تو اسے وہیں چھوڑ دیتا، یوں میں روزانہ بیسیوں خربوزوں کا قتل عام کرتا، ایک دن دادا صاحب نے کھیت کا چکر لگایا اور کھیت کی بدحالی دیکھی تو انہوں نے نہ صرف مجھے بُرا بھلا کہا بلکہ میری مرمت کردی۔
حضرت دادا جان کی اس مرمت کی برکت سے میں گھر سے بھاگ کر ظاہر پیر کی ایک مضافاتی بستی گھنیر کے ایک حفظ قرآن کے مدرسہ میں پہنچ گیا اور شعبہ قرآن میں داخل ہوگیا۔ اس مدرسہ کے مدیر و استاذ حضرت حاجی واحد بخش نہایت نیک دل انسان اور ولی اللہ تھے۔ حضرت حاجی واحد بخش صاحب اگرچہ خود حافظ نہ تھے مگر عجیب بات یہ ہے کہ وہ حفظ کے بہترین استاذ تھے، انہوں نے ابتداً مجھے ناظرہ مکمل کرایا پھر حفظ کرایا، بلاشبہ حضرت حاجی صاحب نے میرے ساتھ بہت ہی محبت و شفقت کا مظاہرہ کیا اور میری ہمت افزائی فرمائی تو میں ان کی محبت و شفقت اور حضرت دادا جان کی مار کی برکت سے حفظِ قرآن کی دولت سے سرفراز ہوگیا۔ حفظ قرآن مکمل کرنے کے بعد خود حضرت حاجی واحد بخش مرحوم کتابوں اور درس نظامی کی تعلیم کے لئے مجھے ترنڈہ مولویاں رحیم یارخاں چھوڑ آئے، وہاں ابتدائی صرف و نحو پڑھنے کے بعد مزید تعلیم کے لئے ظاہر پیر کے مضافاتی دیہات مسن آباد کے مدرسہ میں آگیا، وہاں سے مدرسہ عربیہ احیاء العلوم ظاہر پیر آگیا، جہاں اس وقت فاضل علوم عقلیہ و نقلیہ حضرت مولانا منظور الٰہی، اپنے علوم کی زکوٰة تقسیم فرماتے تھے، اس کے دو سال بعد ۱۹۵۹ء میں حضرت مولانا منظور احمد نعمانی مدظلہ کو حضرت درخواستی قدس سرہ نے یہاں کا مدرس مقرر فرماکر بھیجا تو میں حضرت مولانا منظور احمد نعمانی مدظلہ کے زیر سایہ آگیا... حضرت نعمانی مدظلہ سے پہلے کے استاذ اور مدرسہ کے ذمہ دار حضرت مولانا منظور الٰہی بھی حضرت درخواستی کے فرستادہ تھے، اس لئے کہ یہ مدرسہ دراصل حضرت درخواستی کا قائم کردہ تھا، لہٰذا اس کے اساتذہ کا عزل و نصب بھی حضرت درخواستی کی مرضی و منشا پر موقوف تھا، چنانچہ جب تک حضرت مولانا منظور الٰہی حیات رہے، وہی اس مدرسہ کے ذمہ دار رہے، جب ان کی وفات ہوگئی تو حضرت درخواستی قدس سرہ نے حضرت مولانا منظور احمد نعمانی مدظلہ کو اس مدرسہ کا ذمہ دار، صدر مدرس اور مہتمم نامزد فرمادیا، جو بحمداللہ! تاحال اپنے شیخ سے کئے گئے عہد کو نبھارہے ہیں...
بہرحال یہ ۱۹۵۹ء کا سال تھا، اگلے سال ۱۹۶۰ء سے میں باقاعدہ حضرت نعمانی مدظلہ کے تلمذ میں آگیا۔ ․․․اسی لئے حضرت حافظ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ: میرے تین باپ ہیں، ایک وہ جن کے گھر میں پیدا ہوا، دوسرے حضرت حاجی واحد بخش  اور تیسرے مفسر قرآن حضرت مولانا منظور احمد نعمانی مدظلہ جن کی محبت و شفقت بلاشبہ کسی باپ سے کم نہیں تھی․․․ناقل۔ اللہ جزائے خیر دے حضرت نعمانی صاحب کو جنہوں نے مجھے باپ سے زیادہ محبت و شفقت اور سرپرستی سے نوازا، دیکھا جائے تو میری تعلیمی زندگی حضرت مولانا منظور احمد نعمانی مدظلہ کی مرہون منت ہے۔
۱۹۶۱ء میں طاہر والی کی مشہور زمانہ درس گاہ جامعہ انوریہ حبیب آباد طاہر والی ضلع بہاول پور کا رخ کیا اور اس درس گاہ تک پہنچانے اور اس میں داخلہ دلانے کا سہرا بھی حضرت مولانا منظور احمد نعمانی زید مجدہ کے سر ہے، چنانچہ حضرت نعمانی مدظلہ اپنے بچوں کی طرح مجھے خود بنفس نفیس مدرسہ انوریہ طاہر والی میں پہنچا آئے، وہاں میں نے پہلے سال ...۱۹۶۱ء میں...موقوف علیہ یعنی مشکوٰة شریف وغیرہ اور فنون کی کتب پڑھیں اور دوسرے سال ۱۹۶۲ء دورئہ حدیث کی کتب پڑھ کر فاتحہ فراغ پڑھا۔ فراغت کے بعد ...۱۹۶۳ء میں... حضرت نعمانی مدظلہ نے مجھے اپنے پاس مدرسہ احیاء العلوم ظاہر پیر میں تدریس پر مامور فرمالیا، یوں روز اول سے آج تک میں حضرت کے قدموں میں ہوں۔“
جس طرح دوسرے بہت سے حضرات ،حضرت حافظ صاحب کی شخصیت سے نا آشنا ہیں، راقم بھی آپ کے نام تک سے واقف نہ تھا، وہ تو اللہ بھلا کرے میرے برادر بزرگ حضرت مولانا محمد رب نواز صاحب زید مجدہ کا جنہوں نے مجھے اس عبقری شخصیت کی خدمت میں پہنچایا تومیں کسی قدر ان کے کمالات و مقامات سے آشنا ہوسکا....ہوا یوں کہ:
۱۹۷۲ء میں میرے برادر بزرگ حضرت مولانا محمد رب نواز صاحب زید لطفہ نے اپنے استاذ حضرت مولانا مفتی غلام حیدر، استاذ و مفتی جامعہ مخزن العلوم خان پور سے راقم الحروف کی مزید تعلیم کے لئے مشورہ چاہاتو اس باخدا اور فقیر منش استاذ نے نہایت بے تکلفی سے مشورہ دیا کہ اگر بھائی کو پڑھانا ہے تو مدرسہ احیاء العلوم ظاہر پیر، میں داخل کرادو۔
۱۹۷۲ء کا تعلیمی سال شروع ہونے سے قبل شوال کی ابتدائی تاریخوں میں حضرت برادر مکرم نے حضرت والد صاحب سے مشورہ اور اجازت لے کر میرا سامان تیار کیا اور مجھے لے کر عازم ظاہر پیر ہوگئے۔ مدرسہ احیاء العلوم ظاہرپیر کے مدیر اور صدر مدرس حضرت مولانا منظور احمد نعمانی مدظلہ ان کے خواجہ تاش تھے اور زمانہ طالب علمی سے ان کی آپس کی آشنائی تھی، کیونکہ یہ ہر دو حضرات حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی قدس سرہ کے خصوصی اور محبوب تلامذہ میں سے تھے۔
مدرسہ پہنچنے پر ان ہر دو قدیم رفقاء کی ملاقات ہوئی، برادر محترم نے اپنے آنے کا مدعا بیان کیا، میرا داخلہ ہوگیا، اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ مجھ سے کسی قسم کا کوئی امتحان وغیرہ نہیں لیا گیا، نامعلوم یہ حضرت بھائی صاحب کی برکت تھی یا اس مدرسہ کا نظام داخلہ ایسا تھا! چنانچہ میرا نہ کوئی داخلہ فارم پُر کیا گیا اور نہ کوئی تحریری و تقریری امتحان ہوا، یہ یاد نہیں کہ بھائی صاحب کتنا وقت مدرسہ میں رہے، بہرحال بھائی صاحب راقم کو حضرت مولانا منظور احمد نعمانی زید مجدہ کے سپرد کرکے واپس تشریف لے گئے۔ چونکہ راقم کی اس وقت کچی عمر تھی ...یہی کوئی ۱۶ ،۱۷ سال کی عمر رہی ہوگی... چنانچہ حسب دستور مدرسہ راقم کو چھوٹے اور بے ریش طلبا کے کمرہ میں رکھا گیا، اگلے دن کتابیں دی گئیں اور چند دن بعد تعلیم کا آغاز ہوگیا۔
اس سال غالباً میرے اسباق میں شرح تہذیب، ہدایہ اولین، شرح جامی اور نورالانوار وغیرہ شامل تھے۔ مدرسہ کا ماحول نہایت ہی محبت و شفقت کا تھا، طلبا بھی زیادہ نہ تھے اور اساتذہ بھی غالباً صرف تین ہی تھے، ایک خود حضرت مہتمم صاحب، دوسرے مولانا حافظ عبدالکریم  اور تیسرے مولانا سعید احمد، مولاناسعید احمد صاحب ابتدائی فارسی اور اردو کے استاذ تھے، جبکہ اول الذکر دونوں حضرات بڑے اساتذہ تھے، چونکہ میری تعلیمی زندگی اور خصوصاً گھر سے دوری کا یہ دوسرا سال تھا، کیونکہ پہلے سال ۱۹۷۱ء میں راقم الحروف مشہور زمانہ بزرگ حضرت مولانا حبیب اللہ گمانوی قدس سرہ کے مدرسہ انوریہ حبیب آباد طاہر والی ضلع بہاول پور میں زیر تعلیم رہا تھا، سابقہ مدرسہ اور اس مدرسہ کے ماحول میں فرق یہ تھا کہ وہاں طلبا سبق کی حد تک اساتذہ کی نگرانی میں رہتے تھے اور اسباق کے بعد ذاتی شوق اور محنت سے پڑھتے تھے، جبکہ اس مدرسہ کا ماحول اس سے بالکل مختلف تھا، چنانچہ جس طرح عام مدارس میں درجہ قرآن کے طلبا ہر وقت استاذ کی نگرانی میں رہتے ہیں، یہاں بھی ٹھیک اسی طرح شعبہ کتب کے طلبا مدرسہ کے برآمدہ میں چٹائیوں پر بیٹھ کر اساتذہ کی نگرانی میں پڑھتے اور تکرار کرتے تھے اور حضرت مہتمم صاحب مدظلہ اور حضرت مولانا حافظ عبدالکریم صاحب اپنے اپنے رہائشی کمرہ...جو ان کی درس گاہ بھی تھی...میں بیٹھ کر سبق پڑھایا کرتے تھے، جس جماعت کا سبق ہوتا یا جس جماعت کو استاذ نے چاہا، بلالیا اور سبق پڑھاکر دوسری جماعت کو بلالیا، البتہ سبق سے فارغ ہونے والے طلبا بھی درس گاہ سے متصل برآمدہ میں بیٹھ کر اپنا تکرار کرنے کے پابند تھے اور پورے تعلیمی اوقات میں اساتذہ کی نگرانی میں رہتے، مدرسہ کے انتظامی اور تعلیمی نظام پر حضرت مولانا منظور احمد نعمانی مدظلہ کی گرفت مضبوط تھی اور تمام طلبا گویا ہر وقت اساتذہ کی نظر میں رہتے تھے۔
یوں تو ہمارے اکابر و اساتذہ سارے ہی اعلیٰ پائے کے متقی و پرہیزگار تھے، مگر استاذ مکرم حضرت مولانا عبدالکریم  کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی کمالات و ملکات سے نوازا تھا، ان میں سے چند ایک کا تذکرہ کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے، مثلاً:
مدرسہ کے تمام اساتذہ حتی کہ حضرت مہتمم صاحب مدرسہ کے مطبخ کا کھانا تناول فرمالیا کرتے تھے، مگر حضرت مولانا حافظ عبدالکریم صاحب واحد استاذ تھے جو مدرسہ کا سالن استعمال نہیں فرماتے تھے، البتہ مدرسہ کے تنور کی روٹی استعمال فرمالیا کرتے تھے، جبکہ سالن اپنا پکوایا کرتے تھے، مدرسہ کے تنور کی روٹی بھی تب کھاتے جب طباخ اور باورچی کو کئی دن چھپ، چھپ کر اس کی پاکیزگی اور نظافت کا جائزہ لے کر اطمینان کرلیتے ۔ ان اساتذہ کرام میں جہاں حضرت مہتمم صاحب طبی اصولوں کے انسان تھے وہاں حضرت حافظ عبدالکریم  حد درجہ کی حزم و احتیاط کے انسان تھے، مدرسہ میں ”بڑے استاذ صاحب“ اور ”حافظ صاحب“ کی اصطلاح مروج تھی، بڑے بڑے القاب و آداب اور الفاظ کے استعمال کا دور دور کہیں کوئی نشان نہ تھا۔
اس دور میں چونکہ راقم الحروف بے ریش تھا، اس لئے حضرت مولانا منظور احمد نعمانی زید مجدہ تو میرے برادر بزرگ کی نسبت سے راقم الحروف کا زیادہ خیال فرماتے تھے اور زیر نگرانی رکھتے تھے اور حال احوال پوچھتے اور ضروریات کا خیال فرماتے تھے۔ مگر حضرت حافظ عبدالکریم صاحب چونکہ خالص زاہدانہ اور صوفیانہ مزاج کے انسان تھے، اس لئے وہ نہ صرف یہ کہ طلبا کے ساتھ میل جول سے پرہیز فرماتے، بلکہ بے ریش طلبا سے دور دور رہتے، حتی کہ ان کو اکیلے بلانا تو درکنار ان سے بات چیت سے بھی اجتناب فرماتے۔
حضرت حافظ صاحب اپنی اسی احتیاط پسندی اور پاکیزگی طبیعت کے باعث بڑے اور قدیم طلبا سے سالن پکوایا کرتے تھے، ایسے طلبا جو نئے ہوتے یا بے ریش، ان سے کام لینے یا ان سے سودا سلف منگوانے سے حد درجہ احتراز فرماتے تھے، اسی طرح ایسے بے ریش طلبا پر دوران سبق نگاہ ڈالنے یا ان کو دیکھنے اور ان کی طرف رخ کرکے تقریر کرنے سے بھی پہلوتہی فرماتے تھے، اگر ان کے سبق میں کوئی بے ریش طالب علم ہوتا تو اس کی بجائے باریش طلبا کی طرف رخ کرکے تقریر فرماتے، ان کی اسی حزم و احتیاط اور تقویٰ و طہارت کے پیش نظر راقم الحروف مسلسل دو سال تک ان کی خدمت اور ان کی نگاہ التفات سے محروم رہا۔
اگرچہ بحمدللہ! سبق میں ان کا روئے سخن راقم ہی کی طرف ہوتا مگر وہ کتاب پر نگاہ جمائے یا نیچے دیکھتے ہوئے سبق پڑھایا کرتے تھے، دو سال بعد جب راقم الحروف کے چہرہ پر کچھ داڑھی کے آثار شروع ہوگئے اور وہ راقم کی طبیعت و مزاج سے آگاہ و آشنا ہوگئے اور راقم قدیم طلبا میں شمار ہونے لگا تو حضرت کی شفقتیں اس ناکارہ کی طرف متوجہ ہوگئیں، اب حضرت حافظ صاحب دوران سبق راقم کی طرف متوجہ ہوکر بلکہ راقم ہی کو مخاطب فرماکر سبق پڑھایا کرتے تھے اور راقم سے روٹی لانے، سالن پکوانے اور بازار سے سودا سلف وغیرہ منگوانا بھی شروع فرمادیا۔
حضرت حافظ صاحب کے تقویٰ و طہارت، حزم و احتیاط، زہد و قناعت، کم گوئی و کم آمیزی کی وجہ سے نہ صرف تمام طلبا کے دلوں میں ان کی عزت و عظمت تھی، بلکہ حضرت مہتمم صاحب، جو ان کے استاذ و مربی بھی تھے، ان کے دل میں بھی ان کا اونچا مقام تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ شہر بھر میں ان کی نیکی اور تدین کا شہرہ تھا، اور شہر و مضافات کے لوگ ان کو اپنے استاذ اور شیخ کا درجہ دیتے تھے۔
حضرت حافظ عبدالکریم صاحب کا مدرسہ سے باہر نکلنے اور بازار جانے کامعمول نہیں تھا، اور ان کی ضروریات بھی کچھ زیادہ نہ تھیں، بس سادہ سی روٹی اور سالن اور سد رمق کی غذا ان کی ضرورت تھی، ان کا اوڑھنا بچھونا کتاب تھی، وہ ہمہ اوقات تعلیم و تدریس اور مطالعہ میں مصروف نظر آتے، ان کا اوابین کا معمول بڑا پختہ تھا، ان کا نماز کا اہتمام قابل رشک تھا، اذان ہوتے ہی ہاتھ میں اپنا لوٹا لئے وضو اور استنجا کو تشریف لے جاتے اور اسباغ کے درجہ کا وضو فرماکر صف اول میں نماز پڑھتے۔ ظاہر بین حضرات کی طرح بعض ناواقف طلبا بھی ان کی صفائی، ستھرائی پاکیزگی اور نظافت کے اہتمام اور مبالغہ کو دیکھ کر عام طور پر یہی کہتے کہ حضرت حافظ صاحب وہمی آدمی ہیں جب ہی تو وہ اس درجہ پاکیزگی و نظافت کا اہتمام فرماتے ہیں۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ حضرت حافظ صاحب ظاہر پیر کی مضافاتی بستی رکن پور سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے بیوی بچے بھی تھے، گھر قریب ہونے کے باوجود بھی وہ دو تین ہفتہ یا مہینہ بھر بعد گھر تشریف لے جاتے، گھر آنے جانے کے لئے ا نہوں نے ایک پرانی سی سائیکل رکھی ہوئی تھی، اس پر سوار ہوکر تقریباً دس کلو میٹر کا سفر طے فرماکر جمعرات شام کو گھر جاتے اور ہفتہ کو علی الصبح مدرسہ تشریف لے آتے تھے۔
جس جمعہ کو حضرت گھر نہ جاتے اپنے کپڑے بڑے اور قدیم طلبا سے دھلواتے، مگر جب تک ان کے کپڑے دھلتے رہتے وہ کپڑے دھونے والے طالب علم کے سر پر کھڑے رہتے، باوجودیکہ ان کے کپڑے پاک ہی ہوتے مگر وہ ان کی طہارت و پاکی کا اس قدر اہتمام فرماتے کہ ہر ہرکپڑے کو تین تین بار پاک کرواتے اور پوری قوت سے نچڑواتے، اس پر مستزاد یہ کہ ہر بار نچوڑنے کے بعد اس طالب علم کو ہاتھ دھونے، اور نل کو صاف کرنے کا حکم دیتے۔
خواہ سردی ہو یا گرمی آپ ہمیشہ سفید رنگ کی ٹیٹرون کا تہہ بند، لمبا کرتا اور خانے دار رومال استعمال فرماتے ، آپ کپڑوں کو نیل لگانے اور استری کرنے کے قائل نہیں تھے، اسی طرح آپ باریک کرتے کے بھی روادار نہ تھے ، میرا احساس ہے کہ کپڑے بھی محدود ہی رکھتے، ایک جوڑا دھویا اور دوسرا زیب تن فرمالیا۔
ان کے کمرے میں سوائے کتب کے اور کچھ نہ ہوتا، وہ ہمیشہ زمین اور فرش پر سوتے، کسی قسم کا کو ئی تکلف و تعیش ان کے پاس سے نہیں گزرا تھا، وہ طلبا کو زد و کوب کرنے کے قائل نہ تھے، اسی طرح ان کی غصہ کے سب سے بڑی گالی ”نکما“ اور ”چندرا“ کے علاوہ کوئی نہ تھی۔
وہ رات کو دیر تک طلبا کی مطالعہ گاہ میں بیٹھ کر طلبا کی نگرانی کے ساتھ ساتھ خود اپنا مطالعہ بھی فرماتے، رات گئے دیر تک طلبا کی مطالعہ گاہ سے اٹھ کر اپنے کمرے میں تشریف لے جاتے تو طلبا سونے کو جاتے، مگر حضرت حافظ صاحب طلبا کی مطالعہ گاہ سے اٹھنے کے بعد اپنی درس گاہ میں جاکر مطالعہ میں مصروف ہوجاتے، عموماً ان کو رات کے دو ڈھائی بج جاتے، پھر کہیں جاکر چند گھنٹے آرام فرماتے۔
حضرت حافظ صاحب کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ وہ فارغ نہیں رہتے تھے، اسی طرح وہ اوقات کو ضائع نہیں کرتے تھے، اور نہ ہی فضول گفتگو کے قائل تھے، وہ پڑھتے، پڑھاتے اور مطالعہ کرتے یا پھر حسب ضرورت آرام کرتے۔ اس کے علاوہ باقی اوقات میں وہ نماز و تلاوت میں مصروف رہتے تھے۔
حضرت حافظ صاحب کو حلال، حرام، مشکوک اور مشتبہات کا بڑا اہتمام تھا، وہ بازار کی چیزیں اور ایسے موسمی پھل اور فروٹ نہ کھاتے جن کی عموماً پکنے سے پہلے بیع ہوجاتی ہے، جیسے آم اور کھجور وغیرہ، وہ فرمایا کرتے کہ ان کی بیع عموماً فاسد ہوتی ہے، کیونکہ اکثر و بیشتر ان کی بیع اس وقت ہوتی ہے جب پھل ناقابل انتفاع ہوتا ہے، اور بیع کے باوجود درختوں پر باقی رکھ کرپھل کو پکایا جاتا ہے، جو فقہ کی اصطلاح میں: ”بیع الثمار قبل بدوھا“ کے فساد کی زد میں آتی ہے، ہاں اگر کوئی عقیدت مند اپنے باغ کی کھجور اور آم لاکر پیش کرتا تو استعمال فرمالیا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایسے فواکہہ اور پھل استعمال فرماتے جن کی بیع پکنے کے بعد ہوتی ہے، جیسے بادام، اخروٹ اور مونگ پھلی وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ حضرت مرحوم کے درجات بلند فرمائے آپ نے اپنی زندگی کو نہایت مشکل و صعب بنارکھا تھا، اور انہیں احتیاطوں اور نزاکتوں کی وجہ سے وہ بہت سی نعمتوں اور پھلوں سے محروم رہتے، مگر انہوں نے مشکوک و مشتبہ چیزوں کو کبھی اپنے قریب نہیں آنے دیا، یہی وجہ ہے کہ ان کا جسم اور جسمانی قویٰ روز بروز کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی گئیں مگر انہوں نے اپنے اصول و ضوابط سے انحراف گوارا نہیں کیا، چنانچہ ان کے تن بدن پر سوائے چمڑے اور ہڈیوں کے گوشت نام کی کوئی شیٴ نہ تھی۔ اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ وہ مشت استخواں تھے۔
حضرت حافظ صاحب کی مسکنت، تواضع اور سادگی کی بنا پر ان کی شخصیت سے ناآشنا آدمی انہیں کوئی عالم و فاضل تو کجا، لکھا پڑھا انسان تک باور کرنے کو تیار نہ ہوتا۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو نیکی، تقویٰ اور تدین کی برکت سے وہبی علوم عطا فرمائے تھے۔ وہ جس کتاب کو پڑھاتے نہایت سہل انداز میں پڑھاتے، اس کا پہلے مطالعہ فرماتے، کتاب کی دستیاب شروح دیکھتے پھر اس کا خلاصہ بناتے اور نقشوں کی مدد سے سبق کو اس قدر آسان کرکے سمجھاتے کہ کوئی غبی سے غبی طالب علم بھی ان کی درس گاہ سے محروم نہ اٹھتا۔
انسان تو انسان وہ جانوروں پر بھی حد درجہ شفیق تھے، چنانچہ بارہا مشاہدہ کیا کہ ظاہر پیر ریلوے اسٹیشن کے شیڈ میں رکھے تارکول کے ڈرم جب پنجاب کی جون جولائی کی گرمی سے پگھلتے تو بعض ٹوٹے ہوئے یا اوندھے پڑے ڈبوں سے تارکول نکل کر بہنے لگتا تو وہاں سے گزرنے والے کتے، بلیاں اس میں پھنس جاتے، اگر کبھی حافظ صاحب کا ایسی کسی جگہ سے گزر ہوتا جہاں کوئی کتا، بلی وغیرہ اسی تارکول میں دھنسے نظر آتے تو فوراً مدرسہ واپس آتے اور کسی طالب علم کو بلاکر پیسے دیتے اور مٹی کا تیل منگواکر فرماتے فلاں جگہ کتا یا بلی تارکول میں پھنسی ہوئی ہے جاکر اس کو نکال لاؤ اور تیل سے صاف کرکے اس کو چلنے پھرنے کے قابل بناؤ، مبادا وہ اس طرح پڑا تڑپ تڑپ کر مرجائے اور کل قیامت کے دن ہم سے باز پرس ہوجائے۔
اسی طرح ان کے شاگرد اورمدرسہ احیأ العلوم ظاہرپیر کے استاذمولانا ظفیر احمد نے بتلایاکہ ایک باراستاذصاحب نے گھر کے لئے مٹھائی منگوائی اوران کے کمرے کی چیونٹی اس پر چڑھ گئی،گھر جاتے ہوئے راستہ میں جب انہوں نے دیکھاکہ اس پر ایک چیونٹی چل رہی ہے تو یہ سوچ کرکہ اگر اس کو یہاں نکال پھینکوں تووہ اپنے گھر اورقبیلہ سے بچھڑجائے گی ،اس لئے گھرجانے کے بجائے واپس آئے اوراس چیونٹی کو اپنے کمرے میں چھوڑکردوبارہ نئے سرے سے گھرکاسفرشروع کیا۔انہوں نے یہ بھی بتلایاکہ استاذ صاحب نے اپنے حصے کی زمین کے کنارہ پرکھجورکادرخت لگایا،جب وہ بڑاہوگیاتومزدوروں سے اس کو یہاں سے اٹھا کر زمین کے بیچ میں لگا دیا ،پڑوس کی زمین والوں نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ مجھے خیال ہوا کہ اگرچہ یہ کھجور میری زمین میں تھی مگر اس کا امکان اور قوی اندیشہ تھا کہ وہ آپ کی زمین کی طاقت یا آپ کے پانی سے فائدہ اٹھائے گی تو اس کا پھل مشکوک ہوجائے گا، اس لیے میں نے اس کو اپنی زمین کے وسط میں گاڑ دیا ۔
ان کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ وہ قناعت و کفایت کے انسان تھے، بڑے استاذ جی حضرت مولانا منظور احمد نعمانی دامت برکاتہم نے بتلایا کہ ایک بار مجھے خیال آیا کہ مہنگائی ہوگئی ہے اور حضرت حافظ صاحب کے بچے بھی ہوگئے ہیں، لہٰذا ان کی تنخواہ میں اضافہ ہونا چاہئے، چنانچہ میں نے دوسرے اساتذہ کی طرح ان کی تنخواہ میں بھی کسی قدر اضافہ کردیا، جب ان کو تنخواہ ملی اور تنخواہ کی رقم پہلے سے زیادہ تھی تو انہوں نے حضرت مہتمم صاحب سے درخواست کی کہ جب میرا گزارا پہلی تنخواہ میں ہورہا تھا تو میری تنخواہ کیوں کر بڑھائی گئی؟ حضرت مہتمم صاحب نے فرمایا کہ آپ کے ساتھ ساتھ دوسرے اساتذہ کی تنخواہ میں بھی اضافہ ہوا ہے اور یہ سب کچھ آپ کی طلب اور مطالبہ کے بغیر ہوا ہے ،لہٰذا یہ قبول کرلیں، مگر وہ اس پر مصر رہے کہ نہیں میں اس اضافی رقم کا کیا کروں گا؟ الغرض جب تک اضافہ واپس نہیں کروایا وہاں سے نہیں ہٹے۔ آج کے اس ہوأ و ہوس اور مہنگائی کے دور میں کوئی اس کا تصور کرسکتا ہے؟ خصوصاً جبکہ وہ اضافہ بھی بلا طلب ہو؟
الغرض حضرت مرحوم غیر معمولی کمالات و صفات کے حامل تھے، آپ جہاں اعلیٰ پائے کے مدرس و محدث تھے، وہاں صرف، نحو، فقہ، اصول فقہ، حدیث، تفسیر اور علم میراث کے ماہر تھے، چنانچہ آپ کی تسہیل المیراث نامی کتاب شائع ہوکر قبول عام حاصل کرچکی ہے، اس طرح آپ کو فقہ و فتویٰ میں خصوصی مہارت اور درک تھا، اور انہوں نے جس فن کی جس کتاب کو پڑھایا اس کا حق ادا فرمایا۔ راقم الحروف کو آپ کے پاس شرح تہذیب، ہدایہ اولین، قطبی، سلم العلوم اور میبذی جیسی اہم کتب پڑھنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ بلامبالغہ انہوں نے جو جو کتابیں پڑھائیں، ایسا لگتا تھا کہ یہ کتابیں، آپ کو زبانی یاد ہیں اور جس طرح وہ سہل انداز میں پڑھاتے، ایسا محسوس ہوتا کہ انہوں نے زندگی بھر ان کتابوں پر ہی محنت و جدوجہد کی ہے جس کی برکت سے وہ سہل الحصول ہوگئی ہیں۔
عمر کے اعتبار سے حضرت حافظ صاحب اس وقت ستر کے پیٹے میں تھے مگر خفیف الجسم ہونے کی وجہ سے وہ کسی طرح بوڑھے نہیں لگتے تھے، خدا کی قدرت کہ گزشتہ سال محرم ۱۴۳۰ھ میں وہ اچانک بیمار ہوگئے، جب ان کو علاج کی غرض سے مختلف اطباء ، ڈاکٹروں کے پاس اور ہسپتالوں میں لے جایا گیا اور مختلف ٹیسٹ کرائے گئے تو سب کی متفقہ رائے تھی کہ ان کو دل کی جھلی کی ٹی بی ہوگئی۔
بلاشبہ حضرت اقدس مولانا منظور احمد نعمانی مدظلہ نے اپنے عزیز شاگرد اور باوفا مدرس کی صحتیابی اور علاج معالجہ میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھا۔ چنانچہ ابتدائی طور پر انہیں رحیم یار خان کے شیخ زید ہسپتال کے پرائیویٹ روم میں رکھ کر علاج کرایا گیا۔ مگر کچھ حضرات نے حضرت حافظ صاحب کو باور کرایا کہ آپ کا صحیح علاج کراچی میں ہوگا، چنانچہ جب حضرت حافظ صاحب نے اپنے استاذ سے کراچی میں علاج کی غرض سے جانے کی خواہش کا اظہار کیا تو حضرت استاد صاحب نے سب سے پہلے مولانا محمد طیب لدھیانوی مدیر دارالعلوم یوسفیہ ابوالحسن اصفہانی روڈ کراچی سے رابطہ کیا، اور فرمایا کہ حضرت حافظ صاحب کو علاج کے لئے کراچی بھیجنا ہے، پھر راقم الحروف کا نام لے کر فرمایا کہ اس سے رابطہ کرکے کوئی نظام وضع کرلو، مولانا محمد طیب لدھیانوی صاحب نے حسب فرمان راقم سے رابطہ کیا صورت حال بتلائی تو راقم نے فوراً اپنے احباب ڈاکٹروں خصوصاً ڈاکٹر عبدالباری خان ماہر امراض قلب، ڈاکٹر محمد امین چینائی سے رابطہ کرکے پروگرام طے کیا اور ان کو کراچی بلانے کافیصلہ کیا ، دوسری جانب راقم الحروف نے فون پر حضرت مولانا منظور احمد نعمانی مدظلہ سے تفصیلی گفتگو کے بعد درخواست کی کہ آپ حضرت حافظ صاحب کو کراچی بھیج دیں انشاء اللہ بہتر سے بہتر علاج کی پوری کوشش کی جائے گی بلکہ یہ ہماری سعادت ہوگی کہ ہم اپنے استاذ محترم کی کچھ خدمت کرسکیں، چنانچہ حضرت نعمانی صاحب مدظلہ نے پرائیویٹ گاڑی کرکے اپنے صاحبزادہ حافظ و قاری محمد ساجد کے ہمراہ حضرت حافظ صاحب  ان کے صاحبزادے مولوی محمد ارشد اور خدمت کے لئے مدرسہ کے ایک طالب علم کو کراچی روانہ کردیا۔
حضرت حافظ صاحب کے دارالعلوم یوسفیہ ابوالحسن اصفہانی روڈ کراچی پہنچنے پر راقم الحروف فوراً ان کی خدمت میں حاضر ہوگیا اور دیر تک علمی گفتگو اور حال احوال ہوتے رہے اور ماشاء اللہ باوجود طویل سفر کی تھکن کے حضرت حافظ صاحب ہشاش بشاش نظر آرہے تھے،بعد نمازعشأ حضرت حافظ صاحب سے اجازت لے کر گھر آیا اور ڈاکٹر عبدالباری خان صاحب کو حضرت حافظ صاحب کے کراچی پہنچ جانے کی اطلاع دی اور اگلا پروگرام معلوم کیا تو انہوں نے فرمایا کہ انہیں انڈس ہسپتال لایا جائے، چنانچہ اگلے دن صبح راقم الحروف، مولانا محمد طیب لدھیانوی سلمہ اور مولانا مفتی عبدالقیوم دین پوری سلمہ حضرت حافظ صاحب کو انڈس ہسپتال لے گئے تمام ٹیسٹ کروائے گئے تو کراچی کے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کی بھی متفقہ رائے یہی تھی کہ ان کو دل کی جھلی کی ٹی بی ہے، لہٰذا مناسب دیکھ بھال اور مکمل علاج کے لئے انہیں کچھ دن کے لئے انڈس ہسپتال میں داخل کر دیا گیا، شومیٴ قسمت کہ وہاں ایئرکنڈیشنڈ نہ ہونے کی وجہ سے حضرت حافظ صاحب پریشان ہوگئے۔شاید اس لئے کہ دل کی جھلی کی ٹی بی والوں کو گرمی زیادہ لگتی ہے۔
مجبوراً ڈاکٹر عبدالباری خان صاحب کے مشورہ سے ہل پارک جنرل ہسپتال کے پرائیویٹ کمرہ میں ماہر امراض قلب جناب ڈاکٹر سہیل اختر کی زیر نگرانی علاج شروع کرایا گیا، کمرہ اور علاج معالجہ کی پیشگی رقم بھی ادا کردی گئی۔ چند دن کے علاج اور احتیاط سے ان کی طبیعت اچھی خاصی سنبھل گئی ،ان کے پاؤں کا ورم اتر گیا اور وہ اپنے پاؤں پر چل کر باتھ روم وغیرہ آنے جانے لگے، بلکہ ڈاکٹر صاحب کی ہدایت پر وہ چہل قدمی بھی کرنے لگے، اس پر ڈاکٹر سہیل اختر صاحب نے تجویز کیا کہ اب چونکہ حضرت حافظ صاحب کی طبیعت سنبھل گئی ہے، لہٰذا ان کو ہسپتال کی بجائے کسی صاف ستھرے ماحول میں رکھ کر ان کی مناسب دیکھ بھال کی جائے اور یہی دوائیاں استعمال کرائی جائیں اور ہفتہ واری معائنہ کرایا جائے۔اتنے استاذ محترم حضرت مولانامنظور احمد نعمانی مدظلہ بھی حسب معمول سالانہ دورہ تفسیر پڑھانے کے لئے دارالعلوم یوسفیہ ابوالحسن اصفہانی روڈ پہنچ گئے،ان سے مشورہ ہواانہوں نے بھی اس کی تائید کی۔
لہٰذا حضرت حافظ صاحب کی رہائش کے لئے راقم الحروف کی تجویز اور حضرت مولانا منظور احمد نعمانی مدظلہ کے معائنہ کے بعد دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایئرکنڈیشنڈ مہمان خانہ کا انتخاب کیا گیا، ادھر ڈاکٹر سہیل اختر صاحب نے ان کو رخصت دے دی تو حضرت مولانا منظور احمد نعمانی مدظلہ اور حضرت حافظ صاحب کے بہی خواہوں نے راتوں رات ان کو ہسپتال سے رخصت کرایا اور اپنے حصے کی خدمت کی نیت سے بلا کسی مشورہ کے خاموشی سے اپنے ہاں لے گئے۔ مگر افسوس کہ اس کے بعد ان کی طبیعت روز بروز کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی گئی، یہاں تک کہ ان کا وقت موعود آگیا اور ۲۷رمضان المبارک بروز جمعہ انہوں نے ماہ مقدس کے مقدس دن اور جمعہ کی مبارک ساعتوں میں داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے جان جان آفریں کے سپرد کردی۔
ان کی وصیت تھی کہ ان کا جنازہ حضرت مولانا منظور احمد نعمانی مدظلہ پڑھائیں، چنانچہ ان کی میت کو ظاہر پیر لے جایا گیا، حضرت نعمانی صاحب مدظلہ نے ان کا جنازہ پڑھایا، دیکھنے والوں کا کہنا تھا کہ ظاہر پیر کی تاریخ کا بڑا جنازہ تھا،حضرت حافظ صاحب کی وصیت، حضرت نعمانی مدظلہ اور شہر بھر کے عقیدت مندوں کی خواہش تھی کہ ان کی تدفین ظاہر پیر کے قبرستان میں ہو، مگر افسوس کہ ایسا نہ ہوسکا، بہرحال ان کے صاحبزادے کی خواہش پر ان کو ان کے آبائی گاؤں رکن پور میں سپرد خاک کردیا گیا۔ اللّٰھم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ واکرم نزلہ وادخلہ الجنة۔
قارئین بینات سے درخواست ہے کہ میرے استاذ اور استاذ العلما حضرت حافظ عبدالکریم صاحب کو اپنی ادعیہ میں فراموش نہ فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت حافظ صاحب کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کے پسماندگان خصوصاً مولوی محمد ارشد سلمہ کو صبر جمیل کی توفیق بخشے اور اپنے والد ماجد کا صحیح جانشین بنائے۔آمین ۔