لارڈمیکالے کا نظام تعلیم اور اس کے اثرات ونتائج !
لارڈمیکالے کا نظام تعلیم
اور اس کے اثرات ونتائج
(آخری قسط)
علی گڑھ کالج (جو بعد میں مسلم یونیورسٹی بنا) نے مسلمانوں کی تعلیم وترقی میں جو نمایاں خدمات سرانجام دیں اگرچہ ان کی فہرست بڑی طویل ہے تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شبلی اور حالی کی طرح سرسید کے رفقاء بھی علی گڑھ کالج کے نتائج سے کچھ زیادہ خوش نہ تھے‘ جیساکہ علامہ شبلی جنہوں نے سرسید کے ساتھ سولہ سال علی گڑھ میں مل کرکام کیا‘ اس کے پست معیار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مولوی محمد سمیع کے نام خط میں لکھتے ہیں:
”․․․․․معلوم ہوا کہ انگریزی خوان فرقہ، نہایت مہمل فرقہ ہے‘ مذہب کو جانے دو‘خیالات کی وسعت‘ سچی آزادی‘ بلند ہمتی ‘ ترقی کا جوش برائے نام نہیں‘ یہاں ان چیزوں کا ذکر تک نہیں آتا‘ بس خالی کوٹ پتلونوں کی نمائش گاہ ہے․․․“۔ (۲۳)
جب کہ مولانا حالی کا ذکر کرتے ہوئے مولوی عبد الحق کہتے ہیں:
”جدید تعلیم کے بڑے حامی تھے اور اس کی اشاعت اور تلقین میں مقدور بھر کوشش کرتے رہے لیکن آخر عمر میں ہمارے کالجوں کے طلباء کو دیکھ کر انہیں کسی قدر مایوسی ہونے لگی تھی‘ مجھے خوب یاد ہے کہ جب ان کے نام حیدر آباد میں ایک روز اولڈ بوائے آیا تو اسے پڑھ کر بہت افسوس کرنے لگے کہ اس میں سوائے مسخرے پن کے کچھ بھی نہیں ہوتا‘ انہیں علی گڑھ کے طلباء سے اس سے بڑھ کر توقع تھی“۔ (۲۴)
غرض یہ کہ علی گڑھ نے ہندوستانی طلباء میں انگریزی تعلیم اور تہذیب وثقافت کا وہ صحیح ذوق پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا جس کا خواب لارڈ میکالے نے دیکھا تھا اور جس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سرسید مرحوم نے اس ادارہ کی بنیاد رکھی تھی‘ جسے بعد میں آنے والوں نے مزید آگے بڑھایا یہاں تک کہ نوبت بایں جارسید‘ بقول مشہور ماہر تعلیم ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی مرحوم:
”․․․․ہمیں اس سے قطعاً کوئی تعلق نہیں کہ ہماری اولاد کافر اٹھے گی‘ بے دین اٹھے گی‘ کیا اٹھے گی‘ ہمیں محض اس چیز سے تعلق ہے کہ جب یہ ہمارا بیٹا کسی انٹرویو میں جائے گا تو انگریزی اس طرح سے بولے گا کہ اب تک انگریز کا جانشین جو کرسی پر موجود ہے‘ وہ مرعوب ہوجائے گا ۔اس کے علاوہ اور کوئی مقصد ہمارا نہیں ہوتا اور اس کی خاطر ہم اس کے لئے تیار ہیں کہ ہماری اولاد مسلمان نہ رہے‘ نہ رہے تو کیا بات ہے․․․“ (۲۵)
۴- حقیقت یہ ہے کہ گلوبل ویلج کے اس دور میں انگریزی بین الاقوامی رابطے کی زبان ہے اور ویسے بھی علمی لحاظ سے اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے اور غالباً انہی ضرورتوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہمارے اکابرین نے شروع ہی سے اس کے سیکھنے کے جواز کا فتویٰ دیا تھا‘ جیساکہ سرسید احمدخان کے ہم عصر مولانا عبد الحئی فرنگی محلی ارشاد فرماتے ہیں: ”․․․․لغت انگریزی کا پڑھنا یا انگریزی لکھنا، سیکھنا اگر بلحاظ تشبہ ومحبت ہو تو ممنوع ہے اور اگر اس لئے ہو کہ ہم انگریزی میں لکھے ہوئے خطوط پڑھ سکیں اور ان کتابوں کے مضامین سے آگاہ ہوسکیں تو کچھ مضائقہ نہیں ہے۔ مشکوٰةشریف میں ہے کہ حضور ا نے حضرت زید بن ثابت کو یہود کا خط سیکھنے کے لئے حکم فرمایا اور انہوں نے تھوڑے دنوں میں اسے سیکھ لیا ․․․“۔(۲۶) حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی کے فتاویٰ میں انگریزی پڑھنے پڑھانے کے جواب میں تحریر ہے کہ:
”․․․․انگریزی زبان سیکھنا درست ہے بشرطیکہ کوئی معصیت کا مرتکب نہ ہو اور نقصان دین میں اس سے نہ آئے․․․“۔(۲۷)
اسی طرح دار العلوم دیوبند کی اساسی شخصیت مولانا محمد قاسم نانوتوی کا واقعہ ہے کہ جب انہیں سفر حج کے دوران ایک انگریزی خواں کپتان سے ترجمان کے ذریعہ گفتگو کرنے میں دقت محسوس ہوئی تو آپ نے مصمم ارادہ فرمایا کہ واپس ہونے کے بعد خود انگریزی زبان سیکھوں گا تاکہ اس زبان میں گفتگو پر اچھی طرح قادر ہوسکوں۔ (۲۸)
جب کہ مولانا سید محبوب رضوی نے ان اسباب وعوامل کا تجزیہ کرتے ہوئے بڑے جامع انداز میں لکھا ہے کہ:
”․․․․․انگریزی تہذیب وکلچر انگریزی تعلیم کے ساتھ لازم وملزوم بن گئے تھے اور انہیں کو ذریعہ ترقی وتہذیب سمجھا جاتا تھا‘ علماء صرف اس چیز کے خلاف تھے․․․․“۔(۲۹)
”․․․․․سرسید کی یہی انتہاء پسندی تھی جس نے انگریزی زبان کی تعلیم کے ساتھ انگریزی کلچر کو بھی ضروری قرار دیا اور صرف انگریزی تعلیم کی حیثیت سے نہیں‘ بلکہ انگریزی کلچر کی تربیت گاہ کی حیثیت سے علی گڑھ کالج کی بنیاد رکھی جس کے نتیجے میں وہ اختلافات برپا ہوئے جس کا شور آج تک کانوں میں گونج رہا ہے ․․․․“ (۳۰)
”․․․․․تاریخ اس طرز تعلیم کے لئے کوئی جواز پیش کرنے سے قاصر ہے‘ جس کی میکالے نے ڈالی تھی۔ میکالے کی یہ دلیل کہ سنسکرت اور فارسی کو ذریعہ تعلیم نہیں قرار دیا جاسکتا‘ غلط نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ حجت لغو ہے کہ ذریعہ تعلیم صرف انگریزی زبان ہو سکتی ہے“۔(۳۱)
آپ نے اس بات کی وضاحت تو نہیں کی کہ وہ کون سی زبان ہونی چاہئے جسے برصغیر کی اقوام کے لئے ذریعہ تعلیم بنایاجائے‘ تاہم ایک مستند عالم دین اور عبقری شخصیت ہونے کے ناطے ظاہر ہے کہ آپ کی پسندیدہ زبان (Choice)عربی ہی ہو سکتی ہے جو آپ کی مادری زبان بھی تھی۔ ورنہ کم از کم اردو‘ جس کے آپ صاحب طرز ادیب تھے۔
۲- علامہ مناظر احسن گیلانی اسلامی نظام تعلیم وتربیت کے فیوض وبرکات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
”․․․․․اور یہ سلسلہ اس وقت تک باقی رہا جب تک بجائے مشرق کے مغرب سے ایک عجیب تعلیم اور غریب تربیت کا آفتاب طلوع نہیں ہوا تھا۔ اس کے بعد تو خیر قیامت ہی برپاہوگئی۔ ہند میں بھی‘ مصر میں بھی‘ ترکی میں بھی‘ ایران میں بھی‘ حتی کہ اب تو اس کی شعاعیں عرب کو بھی گرمارہی ہیں اور اسلام غریب کا آخری کوہستانی حصار یا پناہ گاہ افغانستان بھی اس کی روشنی نماتاریکی میں بتدریج گھرتاچلا گیا۔ لعل اللّٰہ یحدث بعد ذلک امراً․․․“۔(۳۲)
۳- شاعر مشرق علامہ اقبال نے اسے دین ومروت کے خلاف ایک سازش قرار دیا‘ جیساکہ آپ ضرب کلیم میں ارشاد فرماتے ہیں:
اور یہ اہلِ کلیسا کا نظامِ تعلیم
اک سازش ہے فقط دین ومروت کے خلاف
اس کی تقدیر میں محکومی ومظلومی ہے
قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف
فطرت افراد سے اغماض بھی کرلیتی ہے
جب کہ کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف (۳۳)
ایک اور جگہ آپ فرماتے ہیں:
یہ مدرسہ‘ یہ کھیل‘ یہ غوغائے روارو
اس عیش فراواں میں ہے ہر لحظہ غم نو
وہ علم نہیں زہر ہے احرار کے حق میں
جس علم کا حاصل ہے جہاں میں دو کف جو (۳۴)
۴- اردو شعراء میں اکبر الٰہ آبادی سے بڑھ کر شاید ہی کسی نے اس نظام تعلیم پر تنقید کی ہو‘ جیساکہ آپ جدید تعلیم پر براہ راست تنقید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
نقص تعلیم سے اب اس کی سمجھ ہی نہ رہی
دل تو بڑھ جاتا تھا اجداد کے افسانے سے
شیخ مرحوم کا قول اب مجھے یاد آتا ہے
دل بدل جائے گا تعلیم بدل جانے سے
چھوڑ لٹریچر کو اپنی ہسٹری کو بھول جا
شیخ ومسجد سے تعلق ترک کر اسکول جا
چار دن کی زندگی ہے کوفت سے کیا فائدہ
کھاڈبل روٹی کلرکی کر خوشی سے پھول جا
مسجدیں سنسان ہیں اور کالجوں میں دھوم ہے
مسئلہ قومی ترقی کا مجھے معلوم ہے
بے سبب زیں لائبریرہا مرااکراہ نیست
ہرکتابہ ٴ را کہ بکشاد یم بسم اللہ نیست
نئی تعلیم میں تقوے کا وہ اکرام کہاں
ناز بے حد ہیں مگر غیرتِ اسلام کہاں
توپ کھسکی پروفیسر پہنچے
جب بسولاہٹا تو رندا ہے
مسٹر نقلی کو عقبیٰ میں سزا کیسی ملی
شرح اس کی نامناسب ہے جیسی ملی
اس نے بھی لیکن ادب سے کردیا یہ التماس
چارہ کیا تھا اے خدا تعلیم ہی ایسی ملی
برگڈ کواٹا لے سے نزدیک کروں کیونکر
روٹی کے لئے کالج جنت کے لئے مسجد
مے فروشی کو تو روکوں گا میں باغی ہی سہی
سرخ پانی سے بہتر ہے مجھے کالاپانی
یہ مغربی ترقی اخلاق کی عدو ہے
گھر گھر ہے اس کا چرچا یہ ذکر کو بہ کو ہے
عمدہ حدیث اکبر چاہو جو یاد کرنی
رکھو نظر کے آگے خیر القرون قرنی
دینی طریق کو اب سمجھے ہیں اک تماشا
کالج کے کورس پر ہم گرتے ہیں بے تحاشا
وہ فخر امر دینی دل سے نکل گیا ہے
عزت کا ادب تو ہم میں حس ہی بدل گیا ہے
حس سے کہاں مفر احساس ہے تو سب کچھ
ہوجائے پاس لڑکا اور یاس ہے تو سب کچھ
(۳۵)
ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا جنہوں نے اکبر الٰہ آبادی پر ”پی ایچ ڈی“ کا تحقیقی مقالہ لکھا ہے کے مطابق‘ آپ کے نزدیک ہندوستان میں انگریزی تعلیم سے لوگوں کو صرف یہ فائدہ ہوا کہ:
میں کیا کہوں احباب کیا کارِ نمایاں کرگئے ۔
بی اے کیا‘ نوکر ہوئے‘ پنشن ملی اور مرگئے
(۳۶)
بقول پروفیسر سید محمد سلیم
”․․․․․لارڈمیکالے کے نظام تعلیم کو اگر تعلیم برائے ملازمت کا عنوان دیا جائے تو غلط نہ ہوگا اور دنیا میں شایدہی کسی نے نظام تعلیم کا مقصد اتنا پست مقرر کررکھا ہو“۔(۳۷)
۵- اس بحث کو ختم کرنے سے قبل بابائے اردو مولوی عبد الحق مرحوم کے ایک خطبے کے چند ارشادات پیش خدمت ہیں جو انہوں نے بلوچستان ٹیچر ایسوسی ایشن کے سالانہ جلسہ کے موقع پر دیا تھا:
”․․․․انگریزی حکومت میں ہماری تعلیم کا جو ڈول ڈالا گیا تھا‘ اس کا مقصد ہمیں علم سکھانا نہ تھا بلکہ اس کی تہہ میں زیادہ تر سیاسی اغراض تھیں۔ اہل حکومت صاف کہتے تھے کہ ہم مٹھی بھر آدمی ایک ایسے وسیع ملک اور ایسی آبادی میں ہیں جن کی کوئی بات ہم سے نہیں ملتی۔ رنگ وروپ‘ مذہب واخلاق‘ رسم ورواج‘ تہذیب وتمدن غرض ہر چیز میں ہم سے مغائر ہیں۔ ایک قوم کو بہ زور شمشیر فتح کیا جاسکتا ہے‘ لیکن اس سے مغائرت اور نفرت کم نہیں ہوتی، بڑھتی ہے․․․․اس خطرہ سے بچنے کی صرف ایک ہی تدبیر ہوسکتی ہے اور وہ یہ کہ اہل ہند کو فاتح کی تہذیب اور تمدن میں ڈھال لیا جائے اور یہ تہذیبی فتح انگریزی زبان کے ذریعے پوری علم وحکمت کی تعلیم دینے سے ہوسکتی ہے“۔(۳۸)
”․․․․ایک اور بات جو انگریزی کی تعلیم کی محرک ہوئی ‘ وہ یہ تھی کہ دفتروں میں انگریزی داں کلرکوں اور اس قسم کی چھوٹی موٹی ملازمتوں کی ضرورت تھی۔ انگریز کم تنخواہ پر کہاں کام کرتے‘ انگریزی پڑھے لکھے ہندی بہت سستے ملنے لگے‘ اس میں سرکاری کفایت مدنظر تھی“۔(۳۹)آپ فرماتے ہیں کہ:
”․․․سب سے بڑا نقص جو اس تعلیم میں ہے وہ یہ کہ اس تعلیم کے بندے اپنی روایات وتہذیب اور اپنے اخلاق اور تاریخ سے بیگانہ ہوجاتے ہیں۔ یہ چیزیں جو قومیت کی بنیاد ہیں‘ ان کی نظروں میں حقیر معلوم ہونے لگتی ہیں‘ وہ مغربی تہذیب ورسوم کے رنگ میں رنگے جاتے ہیں اور مغرب کی نقالی ان کا سب سے بڑا ہنر ہوتا ہے۔ ان کا اب ایک فرقہ بن گیا ہے جو قومی نظام کے لئے نہایت خطرناک ہے“۔(۴۰)
غرض یہ کہ اگر لارڈ میکالے کے نظام تعلیم کو موصوف کے اصل نام (T.B. Macaulay) کی مناسبت سے مسلم تہذیب وتمدن کے حق میں حقیقی T.Bکا مصداق قرار دیا جائے جو اسے تا حال دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے تو شاید غلط نہ ہوگا۔
۲۳- شبلی نعمانی‘ ”مکاتیب شبلی“ مرتبہ سید سلیمان ندوی‘ نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد طبع اول ۱۹۷۹ء حصہ اول ص:۴۵۔
۲۴- موج کوثر ص:۲۲۸
۲۵- محمد سعید‘ حکیم‘ ”مقالات شام ہمدرد“ مکتبہ جدید لاہور ۱۹۶۹ء ص:۷۱-۷۲
۲۶- عبد الحئی فرنگی محل‘ مولانا‘ ”مجموعة الفتاویٰ“ اردو ترجمہ شہزاد پبلشرز جان محمد روڈ انار کلی لاہور (س ن) جلد ۱‘ص:۱۲۱)
۲۷- گنگوہی‘ رشید احمد‘ مولانا ”فتاویٰ رشیدیہ کامل“ ایچ ایم سعید کراچی ۱۳۹۵ء ص:۲۷۳
۲۸- گیلانی‘ مناظر احسن‘ علامہ‘ ”برصغیر پاک وہند میں مسلمانوں کا نظام تعلیم وتربیت“ ۲۰۰۶ء جلد ۲‘ ص:۴۰
۲۹- مکمل تاریخ دار العلوم دیوبند جلد ۲‘ ص:۳۰۸
۳۰-میاں‘ سید محمد‘ مولانا‘ ”علماء ہند کا شاندار ماضی“ مکتبہ محمودیہ کریم پارک لاہور (س ن) جلد ۴‘ص:۴۰۳
۳۱- شاہجہان پوری‘ ابوسلمان‘ ڈاکٹر‘ ”فیضان ابو الکلام آزاد“ مکی دار الکتب میکلیگن روڈ لاہور ۲۰۰۴ء ص:۲۵۲
۳۲- برصغیر پاک وہند میں مسلمانوں کا نظام تعلیم وتربیت جلد ۲‘ ص:۲۷۸
۳۳- اقبال ‘ محمد‘ ڈاکٹر ”کلیات اقبال اردو“ نیشنل بک فاؤنڈیشن لاہور ۱۹۹۹ء ص:۵۹۹
۳۴- ایضاً ص:۶۷۸ ۳۵- اکبر الٰہ آبادی‘ سید اکبر حسین‘ ”کلیات اکبر“ فرید بک ڈپولمیٹڈ نئی دہلی (س ن) ص:۸۹‘ ۳۲۳‘ ۳۵۹‘ ۳۷۳‘ ۴۳۱‘ ۵۰۰‘ ۵۹۷‘ ۶۳۲‘ ۶۸۵‘
۳۶- زکریا‘ خواجہ محمد‘ ڈاکٹر‘ ”اکبر الہ آبادی تحقیقی وتنقیدی مطالعہ“ سنگ میل پبلی کیشنز چوک اردو بازار لاہور ۱۹۸۶ء ص:۱۷۵
۳۷- سلیم‘ سید محمد‘ پروفیسر‘ ”مغربی فلسفہ تعلیم کا تنقیدی مطالعہ“ ادارہٴ تعلیمی تحقیق‘ تنظیم اساتذہ پاکستان ۱۹۸۹ء ص:۱۱۹
۳۸- عبد الحق مولوی‘ بابائے اردو‘ ”خطبات عبد الحق“ گلڈ‘ انجن کتاب گھر وکٹویہ روڈ کراچی ۱۹۶۴ء ص:۴۰۲‘۴۰۳۔
۳۹- ایضاً ص:۴۰۴ ۔ ۴۰- ایضاً۔
علی گڑھ کالج (جو بعد میں مسلم یونیورسٹی بنا) نے مسلمانوں کی تعلیم وترقی میں جو نمایاں خدمات سرانجام دیں اگرچہ ان کی فہرست بڑی طویل ہے تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شبلی اور حالی کی طرح سرسید کے رفقاء بھی علی گڑھ کالج کے نتائج سے کچھ زیادہ خوش نہ تھے‘ جیساکہ علامہ شبلی جنہوں نے سرسید کے ساتھ سولہ سال علی گڑھ میں مل کرکام کیا‘ اس کے پست معیار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مولوی محمد سمیع کے نام خط میں لکھتے ہیں:
”․․․․․معلوم ہوا کہ انگریزی خوان فرقہ، نہایت مہمل فرقہ ہے‘ مذہب کو جانے دو‘خیالات کی وسعت‘ سچی آزادی‘ بلند ہمتی ‘ ترقی کا جوش برائے نام نہیں‘ یہاں ان چیزوں کا ذکر تک نہیں آتا‘ بس خالی کوٹ پتلونوں کی نمائش گاہ ہے․․․“۔ (۲۳)
جب کہ مولانا حالی کا ذکر کرتے ہوئے مولوی عبد الحق کہتے ہیں:
”جدید تعلیم کے بڑے حامی تھے اور اس کی اشاعت اور تلقین میں مقدور بھر کوشش کرتے رہے لیکن آخر عمر میں ہمارے کالجوں کے طلباء کو دیکھ کر انہیں کسی قدر مایوسی ہونے لگی تھی‘ مجھے خوب یاد ہے کہ جب ان کے نام حیدر آباد میں ایک روز اولڈ بوائے آیا تو اسے پڑھ کر بہت افسوس کرنے لگے کہ اس میں سوائے مسخرے پن کے کچھ بھی نہیں ہوتا‘ انہیں علی گڑھ کے طلباء سے اس سے بڑھ کر توقع تھی“۔ (۲۴)
غرض یہ کہ علی گڑھ نے ہندوستانی طلباء میں انگریزی تعلیم اور تہذیب وثقافت کا وہ صحیح ذوق پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا جس کا خواب لارڈ میکالے نے دیکھا تھا اور جس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سرسید مرحوم نے اس ادارہ کی بنیاد رکھی تھی‘ جسے بعد میں آنے والوں نے مزید آگے بڑھایا یہاں تک کہ نوبت بایں جارسید‘ بقول مشہور ماہر تعلیم ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی مرحوم:
”․․․․ہمیں اس سے قطعاً کوئی تعلق نہیں کہ ہماری اولاد کافر اٹھے گی‘ بے دین اٹھے گی‘ کیا اٹھے گی‘ ہمیں محض اس چیز سے تعلق ہے کہ جب یہ ہمارا بیٹا کسی انٹرویو میں جائے گا تو انگریزی اس طرح سے بولے گا کہ اب تک انگریز کا جانشین جو کرسی پر موجود ہے‘ وہ مرعوب ہوجائے گا ۔اس کے علاوہ اور کوئی مقصد ہمارا نہیں ہوتا اور اس کی خاطر ہم اس کے لئے تیار ہیں کہ ہماری اولاد مسلمان نہ رہے‘ نہ رہے تو کیا بات ہے․․․“ (۲۵)
۴- حقیقت یہ ہے کہ گلوبل ویلج کے اس دور میں انگریزی بین الاقوامی رابطے کی زبان ہے اور ویسے بھی علمی لحاظ سے اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے اور غالباً انہی ضرورتوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہمارے اکابرین نے شروع ہی سے اس کے سیکھنے کے جواز کا فتویٰ دیا تھا‘ جیساکہ سرسید احمدخان کے ہم عصر مولانا عبد الحئی فرنگی محلی ارشاد فرماتے ہیں: ”․․․․لغت انگریزی کا پڑھنا یا انگریزی لکھنا، سیکھنا اگر بلحاظ تشبہ ومحبت ہو تو ممنوع ہے اور اگر اس لئے ہو کہ ہم انگریزی میں لکھے ہوئے خطوط پڑھ سکیں اور ان کتابوں کے مضامین سے آگاہ ہوسکیں تو کچھ مضائقہ نہیں ہے۔ مشکوٰةشریف میں ہے کہ حضور ا نے حضرت زید بن ثابت کو یہود کا خط سیکھنے کے لئے حکم فرمایا اور انہوں نے تھوڑے دنوں میں اسے سیکھ لیا ․․․“۔(۲۶) حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی کے فتاویٰ میں انگریزی پڑھنے پڑھانے کے جواب میں تحریر ہے کہ:
”․․․․انگریزی زبان سیکھنا درست ہے بشرطیکہ کوئی معصیت کا مرتکب نہ ہو اور نقصان دین میں اس سے نہ آئے․․․“۔(۲۷)
اسی طرح دار العلوم دیوبند کی اساسی شخصیت مولانا محمد قاسم نانوتوی کا واقعہ ہے کہ جب انہیں سفر حج کے دوران ایک انگریزی خواں کپتان سے ترجمان کے ذریعہ گفتگو کرنے میں دقت محسوس ہوئی تو آپ نے مصمم ارادہ فرمایا کہ واپس ہونے کے بعد خود انگریزی زبان سیکھوں گا تاکہ اس زبان میں گفتگو پر اچھی طرح قادر ہوسکوں۔ (۲۸)
جب کہ مولانا سید محبوب رضوی نے ان اسباب وعوامل کا تجزیہ کرتے ہوئے بڑے جامع انداز میں لکھا ہے کہ:
”․․․․․انگریزی تہذیب وکلچر انگریزی تعلیم کے ساتھ لازم وملزوم بن گئے تھے اور انہیں کو ذریعہ ترقی وتہذیب سمجھا جاتا تھا‘ علماء صرف اس چیز کے خلاف تھے․․․․“۔(۲۹)
”․․․․․سرسید کی یہی انتہاء پسندی تھی جس نے انگریزی زبان کی تعلیم کے ساتھ انگریزی کلچر کو بھی ضروری قرار دیا اور صرف انگریزی تعلیم کی حیثیت سے نہیں‘ بلکہ انگریزی کلچر کی تربیت گاہ کی حیثیت سے علی گڑھ کالج کی بنیاد رکھی جس کے نتیجے میں وہ اختلافات برپا ہوئے جس کا شور آج تک کانوں میں گونج رہا ہے ․․․․“ (۳۰)
ناقدین
۱- برصغیر کے جن مسلم اکابرین نے اس نظریہ تعلیم کو خصوصیت سے ہدف تنقید بنایا ہے‘ ان میں مولانا ابو الکلام آزاد سرفہرست ہے۔ آپ فرماتے ہیں:”․․․․․تاریخ اس طرز تعلیم کے لئے کوئی جواز پیش کرنے سے قاصر ہے‘ جس کی میکالے نے ڈالی تھی۔ میکالے کی یہ دلیل کہ سنسکرت اور فارسی کو ذریعہ تعلیم نہیں قرار دیا جاسکتا‘ غلط نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ حجت لغو ہے کہ ذریعہ تعلیم صرف انگریزی زبان ہو سکتی ہے“۔(۳۱)
آپ نے اس بات کی وضاحت تو نہیں کی کہ وہ کون سی زبان ہونی چاہئے جسے برصغیر کی اقوام کے لئے ذریعہ تعلیم بنایاجائے‘ تاہم ایک مستند عالم دین اور عبقری شخصیت ہونے کے ناطے ظاہر ہے کہ آپ کی پسندیدہ زبان (Choice)عربی ہی ہو سکتی ہے جو آپ کی مادری زبان بھی تھی۔ ورنہ کم از کم اردو‘ جس کے آپ صاحب طرز ادیب تھے۔
۲- علامہ مناظر احسن گیلانی اسلامی نظام تعلیم وتربیت کے فیوض وبرکات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
”․․․․․اور یہ سلسلہ اس وقت تک باقی رہا جب تک بجائے مشرق کے مغرب سے ایک عجیب تعلیم اور غریب تربیت کا آفتاب طلوع نہیں ہوا تھا۔ اس کے بعد تو خیر قیامت ہی برپاہوگئی۔ ہند میں بھی‘ مصر میں بھی‘ ترکی میں بھی‘ ایران میں بھی‘ حتی کہ اب تو اس کی شعاعیں عرب کو بھی گرمارہی ہیں اور اسلام غریب کا آخری کوہستانی حصار یا پناہ گاہ افغانستان بھی اس کی روشنی نماتاریکی میں بتدریج گھرتاچلا گیا۔ لعل اللّٰہ یحدث بعد ذلک امراً․․․“۔(۳۲)
۳- شاعر مشرق علامہ اقبال نے اسے دین ومروت کے خلاف ایک سازش قرار دیا‘ جیساکہ آپ ضرب کلیم میں ارشاد فرماتے ہیں:
اور یہ اہلِ کلیسا کا نظامِ تعلیم
اک سازش ہے فقط دین ومروت کے خلاف
اس کی تقدیر میں محکومی ومظلومی ہے
قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف
فطرت افراد سے اغماض بھی کرلیتی ہے
جب کہ کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف (۳۳)
ایک اور جگہ آپ فرماتے ہیں:
یہ مدرسہ‘ یہ کھیل‘ یہ غوغائے روارو
اس عیش فراواں میں ہے ہر لحظہ غم نو
وہ علم نہیں زہر ہے احرار کے حق میں
جس علم کا حاصل ہے جہاں میں دو کف جو (۳۴)
۴- اردو شعراء میں اکبر الٰہ آبادی سے بڑھ کر شاید ہی کسی نے اس نظام تعلیم پر تنقید کی ہو‘ جیساکہ آپ جدید تعلیم پر براہ راست تنقید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
نقص تعلیم سے اب اس کی سمجھ ہی نہ رہی
دل تو بڑھ جاتا تھا اجداد کے افسانے سے
شیخ مرحوم کا قول اب مجھے یاد آتا ہے
دل بدل جائے گا تعلیم بدل جانے سے
چھوڑ لٹریچر کو اپنی ہسٹری کو بھول جا
شیخ ومسجد سے تعلق ترک کر اسکول جا
چار دن کی زندگی ہے کوفت سے کیا فائدہ
کھاڈبل روٹی کلرکی کر خوشی سے پھول جا
مسجدیں سنسان ہیں اور کالجوں میں دھوم ہے
مسئلہ قومی ترقی کا مجھے معلوم ہے
بے سبب زیں لائبریرہا مرااکراہ نیست
ہرکتابہ ٴ را کہ بکشاد یم بسم اللہ نیست
نئی تعلیم میں تقوے کا وہ اکرام کہاں
ناز بے حد ہیں مگر غیرتِ اسلام کہاں
توپ کھسکی پروفیسر پہنچے
جب بسولاہٹا تو رندا ہے
مسٹر نقلی کو عقبیٰ میں سزا کیسی ملی
شرح اس کی نامناسب ہے جیسی ملی
اس نے بھی لیکن ادب سے کردیا یہ التماس
چارہ کیا تھا اے خدا تعلیم ہی ایسی ملی
برگڈ کواٹا لے سے نزدیک کروں کیونکر
روٹی کے لئے کالج جنت کے لئے مسجد
مے فروشی کو تو روکوں گا میں باغی ہی سہی
سرخ پانی سے بہتر ہے مجھے کالاپانی
یہ مغربی ترقی اخلاق کی عدو ہے
گھر گھر ہے اس کا چرچا یہ ذکر کو بہ کو ہے
عمدہ حدیث اکبر چاہو جو یاد کرنی
رکھو نظر کے آگے خیر القرون قرنی
دینی طریق کو اب سمجھے ہیں اک تماشا
کالج کے کورس پر ہم گرتے ہیں بے تحاشا
وہ فخر امر دینی دل سے نکل گیا ہے
عزت کا ادب تو ہم میں حس ہی بدل گیا ہے
حس سے کہاں مفر احساس ہے تو سب کچھ
ہوجائے پاس لڑکا اور یاس ہے تو سب کچھ
(۳۵)
ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا جنہوں نے اکبر الٰہ آبادی پر ”پی ایچ ڈی“ کا تحقیقی مقالہ لکھا ہے کے مطابق‘ آپ کے نزدیک ہندوستان میں انگریزی تعلیم سے لوگوں کو صرف یہ فائدہ ہوا کہ:
میں کیا کہوں احباب کیا کارِ نمایاں کرگئے ۔
بی اے کیا‘ نوکر ہوئے‘ پنشن ملی اور مرگئے
(۳۶)
بقول پروفیسر سید محمد سلیم
”․․․․․لارڈمیکالے کے نظام تعلیم کو اگر تعلیم برائے ملازمت کا عنوان دیا جائے تو غلط نہ ہوگا اور دنیا میں شایدہی کسی نے نظام تعلیم کا مقصد اتنا پست مقرر کررکھا ہو“۔(۳۷)
۵- اس بحث کو ختم کرنے سے قبل بابائے اردو مولوی عبد الحق مرحوم کے ایک خطبے کے چند ارشادات پیش خدمت ہیں جو انہوں نے بلوچستان ٹیچر ایسوسی ایشن کے سالانہ جلسہ کے موقع پر دیا تھا:
”․․․․انگریزی حکومت میں ہماری تعلیم کا جو ڈول ڈالا گیا تھا‘ اس کا مقصد ہمیں علم سکھانا نہ تھا بلکہ اس کی تہہ میں زیادہ تر سیاسی اغراض تھیں۔ اہل حکومت صاف کہتے تھے کہ ہم مٹھی بھر آدمی ایک ایسے وسیع ملک اور ایسی آبادی میں ہیں جن کی کوئی بات ہم سے نہیں ملتی۔ رنگ وروپ‘ مذہب واخلاق‘ رسم ورواج‘ تہذیب وتمدن غرض ہر چیز میں ہم سے مغائر ہیں۔ ایک قوم کو بہ زور شمشیر فتح کیا جاسکتا ہے‘ لیکن اس سے مغائرت اور نفرت کم نہیں ہوتی، بڑھتی ہے․․․․اس خطرہ سے بچنے کی صرف ایک ہی تدبیر ہوسکتی ہے اور وہ یہ کہ اہل ہند کو فاتح کی تہذیب اور تمدن میں ڈھال لیا جائے اور یہ تہذیبی فتح انگریزی زبان کے ذریعے پوری علم وحکمت کی تعلیم دینے سے ہوسکتی ہے“۔(۳۸)
”․․․․ایک اور بات جو انگریزی کی تعلیم کی محرک ہوئی ‘ وہ یہ تھی کہ دفتروں میں انگریزی داں کلرکوں اور اس قسم کی چھوٹی موٹی ملازمتوں کی ضرورت تھی۔ انگریز کم تنخواہ پر کہاں کام کرتے‘ انگریزی پڑھے لکھے ہندی بہت سستے ملنے لگے‘ اس میں سرکاری کفایت مدنظر تھی“۔(۳۹)آپ فرماتے ہیں کہ:
”․․․سب سے بڑا نقص جو اس تعلیم میں ہے وہ یہ کہ اس تعلیم کے بندے اپنی روایات وتہذیب اور اپنے اخلاق اور تاریخ سے بیگانہ ہوجاتے ہیں۔ یہ چیزیں جو قومیت کی بنیاد ہیں‘ ان کی نظروں میں حقیر معلوم ہونے لگتی ہیں‘ وہ مغربی تہذیب ورسوم کے رنگ میں رنگے جاتے ہیں اور مغرب کی نقالی ان کا سب سے بڑا ہنر ہوتا ہے۔ ان کا اب ایک فرقہ بن گیا ہے جو قومی نظام کے لئے نہایت خطرناک ہے“۔(۴۰)
غرض یہ کہ اگر لارڈ میکالے کے نظام تعلیم کو موصوف کے اصل نام (T.B. Macaulay) کی مناسبت سے مسلم تہذیب وتمدن کے حق میں حقیقی T.Bکا مصداق قرار دیا جائے جو اسے تا حال دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے تو شاید غلط نہ ہوگا۔
حوالہ جات وحواشی
_______________________________________________________۲۳- شبلی نعمانی‘ ”مکاتیب شبلی“ مرتبہ سید سلیمان ندوی‘ نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد طبع اول ۱۹۷۹ء حصہ اول ص:۴۵۔
۲۴- موج کوثر ص:۲۲۸
۲۵- محمد سعید‘ حکیم‘ ”مقالات شام ہمدرد“ مکتبہ جدید لاہور ۱۹۶۹ء ص:۷۱-۷۲
۲۶- عبد الحئی فرنگی محل‘ مولانا‘ ”مجموعة الفتاویٰ“ اردو ترجمہ شہزاد پبلشرز جان محمد روڈ انار کلی لاہور (س ن) جلد ۱‘ص:۱۲۱)
۲۷- گنگوہی‘ رشید احمد‘ مولانا ”فتاویٰ رشیدیہ کامل“ ایچ ایم سعید کراچی ۱۳۹۵ء ص:۲۷۳
۲۸- گیلانی‘ مناظر احسن‘ علامہ‘ ”برصغیر پاک وہند میں مسلمانوں کا نظام تعلیم وتربیت“ ۲۰۰۶ء جلد ۲‘ ص:۴۰
۲۹- مکمل تاریخ دار العلوم دیوبند جلد ۲‘ ص:۳۰۸
۳۰-میاں‘ سید محمد‘ مولانا‘ ”علماء ہند کا شاندار ماضی“ مکتبہ محمودیہ کریم پارک لاہور (س ن) جلد ۴‘ص:۴۰۳
۳۱- شاہجہان پوری‘ ابوسلمان‘ ڈاکٹر‘ ”فیضان ابو الکلام آزاد“ مکی دار الکتب میکلیگن روڈ لاہور ۲۰۰۴ء ص:۲۵۲
۳۲- برصغیر پاک وہند میں مسلمانوں کا نظام تعلیم وتربیت جلد ۲‘ ص:۲۷۸
۳۳- اقبال ‘ محمد‘ ڈاکٹر ”کلیات اقبال اردو“ نیشنل بک فاؤنڈیشن لاہور ۱۹۹۹ء ص:۵۹۹
۳۴- ایضاً ص:۶۷۸ ۳۵- اکبر الٰہ آبادی‘ سید اکبر حسین‘ ”کلیات اکبر“ فرید بک ڈپولمیٹڈ نئی دہلی (س ن) ص:۸۹‘ ۳۲۳‘ ۳۵۹‘ ۳۷۳‘ ۴۳۱‘ ۵۰۰‘ ۵۹۷‘ ۶۳۲‘ ۶۸۵‘
۳۶- زکریا‘ خواجہ محمد‘ ڈاکٹر‘ ”اکبر الہ آبادی تحقیقی وتنقیدی مطالعہ“ سنگ میل پبلی کیشنز چوک اردو بازار لاہور ۱۹۸۶ء ص:۱۷۵
۳۷- سلیم‘ سید محمد‘ پروفیسر‘ ”مغربی فلسفہ تعلیم کا تنقیدی مطالعہ“ ادارہٴ تعلیمی تحقیق‘ تنظیم اساتذہ پاکستان ۱۹۸۹ء ص:۱۱۹
۳۸- عبد الحق مولوی‘ بابائے اردو‘ ”خطبات عبد الحق“ گلڈ‘ انجن کتاب گھر وکٹویہ روڈ کراچی ۱۹۶۴ء ص:۴۰۲‘۴۰۳۔
۳۹- ایضاً ص:۴۰۴ ۔ ۴۰- ایضاً۔



