ذکر واذکار !
ذکر واذکار
اکابر صوفیا ذکر اللہ کو لذیذ ترین دولت ارشاد فرماتے ہیں، اگر کسی کو یہ لذت محسوس نہیں ہوتی تو یہ دل کے بیمار ہونے کی علامت ہے، دل کی زنگ وصحت بھی ذکر اللہ سے ہی نصیب ہوتی ہے۔ نیز پریشانیوں کے ازالہ میں بھی ذکر اللہ انتہائی نافع تدبیر ہے۔ زیر نظر ارشادات حضرت مولانا ابرار الحق ہردوئی کے ہیں، جس میں ذکر اللہ کی اہمیت وآداب کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔
۱:…ارشاد فرمایا کہ: مقصود حاصل ہونے سے سکون ہوجاتا ہے پس جس شخص کو ذکر سے سکون نہ ہو رہا ہو تو معلوم ہوا کہ یہ ذکر کو مقصود نہیں سمجھتا، اس کا کوئی اور مطلب ہے۔ (مجالس ابرار ج:۱،ص:۴۸)
۲:…ارشاد فرمایا: ذکر کی کثرت جو مشائخ بتاتے ہیں تو ”اذا تکرر علی اللسان تقرر فی القلب،، یعنی جب زبان سے بار بار اللہ اللہ کا ذکر ہوتا ہے تو قلب میں اللہ کا ذکر رسوخ پکڑ لیتا ہے، بارہ تسبیح کا ذکر جو مشائخ بتاتے ہیں، بڑے ہی کام کی چیز ہے، اگر پوری مقدار نہ ہو سکے تونصف نصف کرکے پورا کرے، اس سے حق تعالیٰ کا استحضار رہتا ہے اور انسان خود اپنے اندر عجیب نورانی حیات محسوس کرلیتا ہے، پھر بزبان حال یہ کہتا ہے:
تمنا ہے کہ اب ایسی جگہ مجھ کو کہیں ملتی
اکیلے بیٹھے رہتے یاد ان کی دلنشین ہوتی
دم رکا سمجھ اگر دم بھر کو یہ ساغر رکا
میرا دور زندگی ہے یہ جو دور جام ہے
۳:… فرمایا کہ: عالمگیر ی میں یہ مسئلہ تشریح سے منقول ہے کہ ایک کمرے میں کوئی شخص ذکر کررہا ہے اور دوسرے کمرے میں وعظ ہورہا ہے تو ذکر ملتوی کرکے وعظ میں شرکت کرے۔ بعض لوگ دینی مذاکرہ کے وقت ذکر میں مشغول رہتے ہیں، حالانکہ استماع کا حق یہ ہے کہ کان سے بھی سنے اور قلب بھی متوجہ رکھے۔ حضرت اقدس حکیم الامت تھانوی سے کسی نے معلوم کیا کہ ذکر کامل کا کیا طریقہ ہے؟ فرمایا کہ: ذکر کرے اور قلب کو بھی متوجہ رکھے۔ (مجالس ابرار ج:۲، ص:۲۱)
۴:… فرمایا: حضرت تھانوی کا ارشاد، حسن العزیز میں منقول ہے کہ ذکر میں درد محبت پیدا کرنے کے لئے مثنوی مولانا روم اور دیوان حافظ کا مطالعہ نہایت مفید ہے۔ (حوالہ بالا، ص:۳۱)
۵:…فرمایا: ذکر کا نفع جب ہوتا ہے کہ کثیر بھی ہو اور تسلسل بھی ہو، جیسے پیاس لگی ہو اور کوئی چمچہ پلادے تو کیا پیاس کو تسکین ہوگی۔ اسی طرح اگر ایک مرتبہ خوب سیر ہوکر پلادیا جاوے اور پھر پانی نہ پلایا جاوے تو کیا وہ عمر بھر کے لئے کافی ہے۔ پس معلوم ہوا ذکر کثیر ہو اور اس کا تسلسل بھی ہو اور ذکر کی تعداد کی کثرت کسی اہل اللہ سے یعنی اپنے دینی مشیر سے تجویز کرائے۔ (حوالہ بالا، ص:۳۸)
۶:… ارشاد فرمایا کہ: پہلے اپنا دل ذکر کے نور سے منور کرے پھر دین کی خدمت میں لگے ۔
دل میں لگا کے ان کو کردے جہاں میں نشر ضو
شمعیں تو جل رہی ہیں سو بزم میں روشنی نہیں
۷:… ایک صاحب ذکر کررہے تھے، اس پر ارشاد فرمایا کہ: ذکر کو ملتوی کردیجئے ،جب دنیا کی ضرورت سے ذکر کو ملتوی کردیتے ہیں جس کو طبعی حاجت کہتے ہیں تو شرعی حاجت یعنی وعظ سننے کے لئے کیوں ملتوی نہیں کرتے۔ (حوالہ بالا، ص:۵۸)
۸:… ارشاد فرمایا کہ: ہر شخص جو حق تعالیٰ کا مطیع اور فرمان بردار ہے وہ ذاکر ہے ۔”کل مطیع الله فہو ذاکر،، صرف زبانی ذکر کا نام ذکر نہیں ہے، گناہ نہ کرنا بھی ذکر ہے، ہر گناہ کانٹا ہے، کانٹا چبھے گا تو بے چینی کیوں نہ دل میں پیدا ہوگی، اگر صرف زبان سے ذکر ہے مگر آنکھ نافرمان بھی ہے بلکہ اکثر اعضاء نافرمانی میں مبتلا ہوتے ہیں اور زبان سے ذکر بھی ہورہا ہے تو دل میں کیسے چین پیدا ہوگا، ذکر کے خلاف اس کے اضداد کی تعداد تو زیادہ ہے، ہر عضو کو فرماں بردار بنائیں پھر زبان کے ذکر سے دیکھئے کیسے انوار پیدا ہوتے ہیں اور کیا سکون ملتا ہے۔ (حوالہ بالا،ص:۸۲)
۹:… فرمایا : مسجد میں کوئی ذکر کررہا ہے، کوئی تلاوت کررہا ہے، اس وقت سلام نہ کرنا چاہئے۔
۱۰:… فرمایا : جس عضو کو جو حکم شریعت کا ہو اس میں مشغول کردینا، اس عضو کا ذکر ہے، ذکر صرف زبان تک محدود نہیں ہے۔
۱۱:… ارشاد فرمایا :”الا بذکر الله تطمئن القلوب،، ذکر اللہ سے دلوں کو سکون عطا ہوتا ہے، البتہ ذکر کے خلاف سے بچنا بھی ضروری ہے یعنی معاصی سے احتیاط کے بغیر ذکر کا نفع کامل نہ ہوگا، جب ذکر کامل ہوگا، اطمینان کامل ہوگا۔ ذکر ناقص ہوگا، اطمینان بھی ناقص ہوگا۔ ذکر کامل سے مراد یہی ہے کہ اس کی ضد یعنی گناہوں سے بچاجائے۔ (مجالس ابرار ج:۱،ص:۷۷)
۱۲:…ارشاد فرمایا: حالت تبلیغ میں توجہ خالق کی طرف بواسطہ مخلوق ہے اور فارغ ہونے کے بعد خلوت میں ذکر سے براہ راست حق تعالیٰ سے تعلق کا لطف ہوتا ہے، جس وقت جس ذکر کا قلب میں تقاضا ہو، وہی شروع کردے۔ جس طرح غذائے جسمانی میں اگر امرود کا تقاضا ہے تو پہلے امرود کھالو، اسی طرح ذکر میں قلب کے تقاضے سے تقدم تاخر کرسکتے ہیں، مثلاً اگر تلاوت کا تقاضا ہے تلاوت کرلیں، درود شریف کا تقاضا قلب میں محسوس ہورہا ہے تو پہلے درود شریف کی تسبیح پڑھ لی۔ (حوالہ بالا،ص:۱۰۵)
۱۳:… ارشاد فرمایا: دل کے دھیان سے حق تعالیٰ کو یاد رکھ لیکن دماغ پر زیادہ زور نہ دے اور زیادہ کاوش نہ کرے، پس ہلکا سا دھیان کافی ہے۔ (آئینہ ٴ ارشادات، ص:۱۲)
۱۴:… ارشاد فرمایا: روزانہ پابندی کے ساتھ ذکر کیا جائے تو دنیا کی محبت دل سے نکل جائے گی اور صالح ماحول میں رہے، اس سے قوت پہنچتی رہے گی، اس کے اہتمام سے انسان کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے، جس طرح مکان خالی ہو تو اس میں کوڑا کرکٹ ، کیڑے مکوڑے وغیرہ ہوجاتے ہیں، لیکن اس میں اگر لوگ رہنے لگیں تو پھر یہ سب کچھ نہیں ہوتا، اسی طرح ذکر کرنے سے دل کا بھی یہی حال ہوجاتا ہے، اس لئے ذکر کی عادت ڈالے ۔ ”اذکر الله ذکراً کثیراً،، خوب کثرت سے اللہ کا ذکر کیا کرو ۔ (ملفوظات ابرار ص:۳۹)
۱۵:… ارشاد فرمایا : اللہ کا ذکر کثرت سے کیا کرو، جتنا ذکر کرے گا اتنا ہی دل میں نور پیدا ہوگا اور جتنا نور ہوگا اتنا ہی سرور ہوگا، اگر کوئی روزانہ دال بھات کھاتا ہے اگر کسی دن اس کو گوشت مل جائے تو پھر وہ دال شوق سے نہیں کھائے گا، اسی طرح دنیا کے تمام لہو ولعب دال کی طرح ہیں اور ذکر اللہ گوشت کی طرح ہے، ذکر کرنے سے دنیا کے تمام لہو ولعب ان شاء اللہ آہستہ آہستہ چھوٹ جائیں گے۔ (حوالہ بالا،ص:۴۵)
۱۶:… ارشاد فرمایا : ایک مرتبہ حضرت ابو ذر غفاری نے حضورا سے درخواست کی مجھے کچھ نصیحت کیجئے۔ اس موقع پر آپ انے کئی نصیحتیں فرمائیں، ان میں ایک نصیحت یہ بھی فرمائی:”علیک بتلاوة القرآن وذکر الله عز وجل،، ۔ (مشکوٰة)
تلاوت قرآن اور اللہ کے ذکر کو اپنے اوپر لازم کرلو، اس نصیحت کے دو جزو ہیں:۱:… قرآن پاک کی تلاوت، ۲:…ذکر۔ قرآن پاک کی تلاوت کے جو آداب وشرائط ہیں ان کا لحاظ رکھا جائے ،انتہائی محبت وعظمت کے ساتھ تلاوت کی جائے، تجوید کی رعایت رکھی جائے۔ اسی طرح ذکر کا بھی اہتمام کیا جائے، اس کے لئے نہ وضو کی شرط، نہ تسبیح کی شرط، نہ کسی خاص وقت اور جگہ کی قید بلکہ اٹھتے بیٹھتے جب بھی موقع ہو ،ذکر کرے اور ذکر بہت سارے ہیں: کلمہ طیبہ، درود شریف، استغفار جو جی چاہے پڑھے ،اس کا فائدہ کیا ہوگا ؟ ”فانہ ذکرلک فی السماء،، تمہارے ذکر کا باعث ہوگا آسمان میں۔ یہاں قرآن پاک کی تلاوت اور ذکر کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ذکر کرنے والے کا تذکرہ آسمان میں کیا جاتا ہے، کتنی بڑی چیز ہے، اس کو قرآن پاک میں فرمایا: ”فاذکرونی اذکرکم،، تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا اور دوسرا فائدہ یہ ہوگا ”نور لک فی الارض،، تمہارے لئے نور ہوگا زمین میں۔ تلاوت وذکر سے تمام دینی ودنیوی امور میں آسانی ہوگی، ظاہر ہے کہ جب نور ہوگا تو نور سے سرور ہوگا اور سرور ذریعہ ہے چین وآرام کا۔
۱۷:… ارشاد فرمایا: جب آدمی کسی جگہ ذکر کرتا ہے تو اس کو تو نفع ہوتا ہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ اس جگہ رہنے والوں کو بھی نفع ہوتا ہے، جیسے یہاں اے سی لگا ہوا ہے کیا صرف ایک آدمی کو ٹھنڈک پہنچ رہی ہے؟ نہیں، بلکہ پورے کمرہ والے اس سے مستفید ہورہے ہیں۔ ایک پنکھا چلتا ہے اور سب کو ہوا دیتا ہے، ایک بلب جلتا ہے اور سب لوگوں کو روشنی دیتا ہے، بس اسی طرح ذکر کی سکینت کا حال ہے کہ ذاکر پر جو سکینت اترتی ہے وہ سارے ماحول کو پہنچتی ہے پھر اگر سب لوگ ذاکر ہوں گے تو اس کا نفع اور اثر کس قدر ہوگا؟ اس لئے ذکر کا خوب اہتمام کریں، یہ بہت بڑی چیز ہے۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ” اس قدر کثرت سے ذکر کرو کہ لوگ مجنون کہنے لگیں،، کیا مطلب ہے؟ مطلب یہ ہے کہ جب آدمی کسی چیز کا عاشق ہوتا ہے تو اس کا کثرت سے ذکر کر تا ہے ۔ بار بار اور ہر وقت ذکر کرتے رہنے سے دیکھنے والے کہنے لگتے ہیں کہیں یہ پاگل تو نہیں ہوگیا، حالانکہ پاگل تھوڑا ہی ہے۔ اس کی ایک عام مثال دیتا ہوں: الیکشن میں آپ نے دیکھا ہوگا ووٹ حاصل کرنے کے لئے کیسے رٹ لگائی جاتی ہے، فلاں صاحب کو ووٹ دیجئے، فلاں صاحب کو ووٹ دیجئے، ایک ایک آدمی اس قدر شور مچاتا اور آواز لگاتا پھر تا ہے کہ لوگ اسے پاگل قرار دیتے ہیں، کہتے ہیں کہ اس کو کوئی کام دہندہ نہیں بس صبح سے شام تک ایک ہی رٹ لگاتا رہتا ہے، حالانکہ وہ پاگل تھوڑا ہی ہے وہ تو اپنا کام دھن سے کئے جارہا ہے، یہی مطلب سمجھ لیجئے ”اذکر الله حتی یقولوا مجنونا،، کا جب آدمی عادت ڈال لیتا ہے تو عادت پڑجاتی ہے، پھر بغیر ذکر اللہ کے چین نہیں ملتا، خواجہ صاحب فرماتے ہیں: دم رکا سمجھ دم بھر کو بھی یہ ساغر رکا (تحفہ الحرم ، ص:۵)
۱۸:… فرمایا: اتنی کثرت سے اللہ کا ذکر کرو کہ غفلت ختم ہوجائے، توجہ الی اللہ ہو جائے، ہم کو الیکشن والوں سے سبق لینا چاہئے کہ کوئی کچھ کہے ان کو اس کی پرواہ نہیں ہوتی، اس کو تو اپنے کام سے کام ہوتا ہے۔ (حج کے خاص اہم حقوق، ص:۲۷)
۱۹:… ارشاد فرمایاکہ: کثرت ذکر سے نور پیدا ہوگا، نور سے سرور ہوگا، سرور سے قوت وطاقت پیدا ہوگی جس سے طاعات کا ذوق وشوق ہو جائے گا، گناہوں سے نفرت ہو جائے گی۔ جس طرح مردار کی بو سے نفرت ہوتی ہے، ایسے ہی اللہ کے ذکر کی برکت سے بری باتوں سے یہ بات ہو جائے گی۔ زبان گناہوں سے بچے گی ، آنکھ گناہوں سے بچے گی ، گناہوں کی بو کا احساس ہوگا ۔ حدیث میں ذکر کرنے والے کی مثال زندہ شخص سے دی گئی ہے، فرمایا گیا : ”جو شخص اللہ کا ذکر کرتا ہے اور جو نہیں کرتا دونوں کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے، ذکر کرنے والا زندہ اور ذکر نہ کرنے والا مردہ ہے۔
۲۰:…ارشاد فرمایا کہ: تھوڑی دیر کسی بھی وقت اللہ کا ذکر کرے تو اس کے بڑے فوائد اور منافع محسوس ہوں گے، کسی کا ذکر اللہ تبارک وتعالیٰ کے یہاں ہوجائے وہ بھی فرشتوں کی مجالس میں تو اس سے کتنی خوشی وفرحت ہوگی؟ اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ہے، اس کی صورت کیا ہے؟ قرآن پاک میں فرمایا گیا: ”فاذکرونی اذکرکم،، تم مجھے یاد کرو میں تم کو یاد رکھوں گا۔ تو ذکر کتنی بڑی چیز ہے کہ اس سے ذکر کرنے والے کا تذکرہ حق تعالیٰ کرتے ہیں۔ اس لئے ذکر کا اہتمام کیا جائے، پابندی سے کسی بھی وقت بیٹھ کر ذکر کیا جائے پھر یہ کیفیت ہو جائے گی جس کو حضرت خواجہ صاحب نے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے:
تمنا ہے کہ اب کوئی جگہ ایسی کہیں ہوتی
اکیلے بیٹھے ہوتے یاد ان کی دلنشیں ہوتی
۲۱:… ارشاد فرمایا: ذکر کوئی سا بھی کرے، ہرایک کا نفع اور فائدہ ہوگا۔ مٹھائی جو بھی اپنے ذوق کی استعمال کرے چاہے ایک قسم کی کھاؤ چاہے کئی قسم کی ملا کر کھاؤ، الگ الگ کھاؤ ،اس کا فائدہ ہوگا۔ اسی طرح یہاں بھی معاملہ ہے کوئی سا بھی ذکر کرو ۔ خواہ اللہ اللہ کرو یا کلمہ طیبہ پڑھو یا سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر پڑھو ۔ خواہ ملاکر پڑھو یا الگ پڑھو اس کا نفع ہوگا، لیکن بہتر یہ ہے کہ جن نمازوں کے بعد سنتیں نہیں ہیں ان کے فوراً بعد اور جن نمازوں کے بعد سنتیں ہیں ان میں سنتوں سے فارغ ہونے کے بعد۔ مستحب یہ ہے کہ: استغفر الله الذی لا الہ الا ہو الحی القیوم واتوب الیہ اس کو تین بار پڑھے اور آیة الکرسی، سورہ اخلاص وسورہ فلق وسورہ ناس کو ایک ایک بار پڑھے۔ تسبیح فاطمہ یعنی تینتیس تینتیس بار سبحان اللّٰہ، الحمد للّٰہ اور ۳۴ مرتبہ اللّٰہ اکبر اور دن بھر میں ایک تسبیح کلمہ طیبہ، ایک استغفار ایک تسبیح درود شریف کی اس نیت سے پڑھے کہ غیر اللہ کی محبت دل سے گھٹے اور اللہ کی محبت بڑھے اور متفرق اوقات میں سبحان اللّٰہ، الحمد للّٰہ، اللّٰہ اکبر چاہے ملاکر پڑھے یا الگ الگ۔ بہتر یہ ہے کہ اوپر بلندی پر چڑھے تو اللّٰہ اکبر کہے، نیچے اترے تو سبحان اللّٰہ کہے۔ برابر زمین پر چلے تو لا الہ الا اللّٰہ کہے، اللہ کا ذکر کرو، کثرت سے کرو۔
شروع میں بعض اوقات جی نہیں لگتا، اچھا نہیں لگتا ،مگر ہلکے ہلکے ذکر کا اثر شروع ہوجاتا ہے پھر کیا خیال ہوتا ہے اس کو مجذوب نے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے:
مجھے دوست چھوڑ دیں مہربان نہ پوچھے
مجھے میرا رب کافی مجھے کل جہاں نہ پوچھے
شب وروز میں ہوں مجذوب اور یاد اپنے رب کی
مجھے کوئی ہاں نہ پوچھے مجھے کوئی ہاں نہ پوچھے
لیکن یہ بات ہمارے اندر کیسے پیدا ہوگی ۔ فرماتے ہیں۔
کامیابی تو کام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
فکر واہتمام سے ہوگی ذکر کے التزام سے ہوگی
اللہ کے ذکر سے محبت بڑھے گی، محبت بڑھ جائے، پس یہی مطلوب ہے۔ اس لئے اس کا اہتمام کرے، اس کے اور بھی فوائد ہیں، وہ بھی ان شاء اللہ حاصل ہوں گے۔ (حج کے خاص اہم حقوق ص:۳۰)
اکابر صوفیا ذکر اللہ کو لذیذ ترین دولت ارشاد فرماتے ہیں، اگر کسی کو یہ لذت محسوس نہیں ہوتی تو یہ دل کے بیمار ہونے کی علامت ہے، دل کی زنگ وصحت بھی ذکر اللہ سے ہی نصیب ہوتی ہے۔ نیز پریشانیوں کے ازالہ میں بھی ذکر اللہ انتہائی نافع تدبیر ہے۔ زیر نظر ارشادات حضرت مولانا ابرار الحق ہردوئی کے ہیں، جس میں ذکر اللہ کی اہمیت وآداب کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔
۱:…ارشاد فرمایا کہ: مقصود حاصل ہونے سے سکون ہوجاتا ہے پس جس شخص کو ذکر سے سکون نہ ہو رہا ہو تو معلوم ہوا کہ یہ ذکر کو مقصود نہیں سمجھتا، اس کا کوئی اور مطلب ہے۔ (مجالس ابرار ج:۱،ص:۴۸)
۲:…ارشاد فرمایا: ذکر کی کثرت جو مشائخ بتاتے ہیں تو ”اذا تکرر علی اللسان تقرر فی القلب،، یعنی جب زبان سے بار بار اللہ اللہ کا ذکر ہوتا ہے تو قلب میں اللہ کا ذکر رسوخ پکڑ لیتا ہے، بارہ تسبیح کا ذکر جو مشائخ بتاتے ہیں، بڑے ہی کام کی چیز ہے، اگر پوری مقدار نہ ہو سکے تونصف نصف کرکے پورا کرے، اس سے حق تعالیٰ کا استحضار رہتا ہے اور انسان خود اپنے اندر عجیب نورانی حیات محسوس کرلیتا ہے، پھر بزبان حال یہ کہتا ہے:
تمنا ہے کہ اب ایسی جگہ مجھ کو کہیں ملتی
اکیلے بیٹھے رہتے یاد ان کی دلنشین ہوتی
دم رکا سمجھ اگر دم بھر کو یہ ساغر رکا
میرا دور زندگی ہے یہ جو دور جام ہے
۳:… فرمایا کہ: عالمگیر ی میں یہ مسئلہ تشریح سے منقول ہے کہ ایک کمرے میں کوئی شخص ذکر کررہا ہے اور دوسرے کمرے میں وعظ ہورہا ہے تو ذکر ملتوی کرکے وعظ میں شرکت کرے۔ بعض لوگ دینی مذاکرہ کے وقت ذکر میں مشغول رہتے ہیں، حالانکہ استماع کا حق یہ ہے کہ کان سے بھی سنے اور قلب بھی متوجہ رکھے۔ حضرت اقدس حکیم الامت تھانوی سے کسی نے معلوم کیا کہ ذکر کامل کا کیا طریقہ ہے؟ فرمایا کہ: ذکر کرے اور قلب کو بھی متوجہ رکھے۔ (مجالس ابرار ج:۲، ص:۲۱)
۴:… فرمایا: حضرت تھانوی کا ارشاد، حسن العزیز میں منقول ہے کہ ذکر میں درد محبت پیدا کرنے کے لئے مثنوی مولانا روم اور دیوان حافظ کا مطالعہ نہایت مفید ہے۔ (حوالہ بالا، ص:۳۱)
۵:…فرمایا: ذکر کا نفع جب ہوتا ہے کہ کثیر بھی ہو اور تسلسل بھی ہو، جیسے پیاس لگی ہو اور کوئی چمچہ پلادے تو کیا پیاس کو تسکین ہوگی۔ اسی طرح اگر ایک مرتبہ خوب سیر ہوکر پلادیا جاوے اور پھر پانی نہ پلایا جاوے تو کیا وہ عمر بھر کے لئے کافی ہے۔ پس معلوم ہوا ذکر کثیر ہو اور اس کا تسلسل بھی ہو اور ذکر کی تعداد کی کثرت کسی اہل اللہ سے یعنی اپنے دینی مشیر سے تجویز کرائے۔ (حوالہ بالا، ص:۳۸)
۶:… ارشاد فرمایا کہ: پہلے اپنا دل ذکر کے نور سے منور کرے پھر دین کی خدمت میں لگے ۔
دل میں لگا کے ان کو کردے جہاں میں نشر ضو
شمعیں تو جل رہی ہیں سو بزم میں روشنی نہیں
۷:… ایک صاحب ذکر کررہے تھے، اس پر ارشاد فرمایا کہ: ذکر کو ملتوی کردیجئے ،جب دنیا کی ضرورت سے ذکر کو ملتوی کردیتے ہیں جس کو طبعی حاجت کہتے ہیں تو شرعی حاجت یعنی وعظ سننے کے لئے کیوں ملتوی نہیں کرتے۔ (حوالہ بالا، ص:۵۸)
۸:… ارشاد فرمایا کہ: ہر شخص جو حق تعالیٰ کا مطیع اور فرمان بردار ہے وہ ذاکر ہے ۔”کل مطیع الله فہو ذاکر،، صرف زبانی ذکر کا نام ذکر نہیں ہے، گناہ نہ کرنا بھی ذکر ہے، ہر گناہ کانٹا ہے، کانٹا چبھے گا تو بے چینی کیوں نہ دل میں پیدا ہوگی، اگر صرف زبان سے ذکر ہے مگر آنکھ نافرمان بھی ہے بلکہ اکثر اعضاء نافرمانی میں مبتلا ہوتے ہیں اور زبان سے ذکر بھی ہورہا ہے تو دل میں کیسے چین پیدا ہوگا، ذکر کے خلاف اس کے اضداد کی تعداد تو زیادہ ہے، ہر عضو کو فرماں بردار بنائیں پھر زبان کے ذکر سے دیکھئے کیسے انوار پیدا ہوتے ہیں اور کیا سکون ملتا ہے۔ (حوالہ بالا،ص:۸۲)
۹:… فرمایا : مسجد میں کوئی ذکر کررہا ہے، کوئی تلاوت کررہا ہے، اس وقت سلام نہ کرنا چاہئے۔
۱۰:… فرمایا : جس عضو کو جو حکم شریعت کا ہو اس میں مشغول کردینا، اس عضو کا ذکر ہے، ذکر صرف زبان تک محدود نہیں ہے۔
۱۱:… ارشاد فرمایا :”الا بذکر الله تطمئن القلوب،، ذکر اللہ سے دلوں کو سکون عطا ہوتا ہے، البتہ ذکر کے خلاف سے بچنا بھی ضروری ہے یعنی معاصی سے احتیاط کے بغیر ذکر کا نفع کامل نہ ہوگا، جب ذکر کامل ہوگا، اطمینان کامل ہوگا۔ ذکر ناقص ہوگا، اطمینان بھی ناقص ہوگا۔ ذکر کامل سے مراد یہی ہے کہ اس کی ضد یعنی گناہوں سے بچاجائے۔ (مجالس ابرار ج:۱،ص:۷۷)
۱۲:…ارشاد فرمایا: حالت تبلیغ میں توجہ خالق کی طرف بواسطہ مخلوق ہے اور فارغ ہونے کے بعد خلوت میں ذکر سے براہ راست حق تعالیٰ سے تعلق کا لطف ہوتا ہے، جس وقت جس ذکر کا قلب میں تقاضا ہو، وہی شروع کردے۔ جس طرح غذائے جسمانی میں اگر امرود کا تقاضا ہے تو پہلے امرود کھالو، اسی طرح ذکر میں قلب کے تقاضے سے تقدم تاخر کرسکتے ہیں، مثلاً اگر تلاوت کا تقاضا ہے تلاوت کرلیں، درود شریف کا تقاضا قلب میں محسوس ہورہا ہے تو پہلے درود شریف کی تسبیح پڑھ لی۔ (حوالہ بالا،ص:۱۰۵)
۱۳:… ارشاد فرمایا: دل کے دھیان سے حق تعالیٰ کو یاد رکھ لیکن دماغ پر زیادہ زور نہ دے اور زیادہ کاوش نہ کرے، پس ہلکا سا دھیان کافی ہے۔ (آئینہ ٴ ارشادات، ص:۱۲)
۱۴:… ارشاد فرمایا: روزانہ پابندی کے ساتھ ذکر کیا جائے تو دنیا کی محبت دل سے نکل جائے گی اور صالح ماحول میں رہے، اس سے قوت پہنچتی رہے گی، اس کے اہتمام سے انسان کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے، جس طرح مکان خالی ہو تو اس میں کوڑا کرکٹ ، کیڑے مکوڑے وغیرہ ہوجاتے ہیں، لیکن اس میں اگر لوگ رہنے لگیں تو پھر یہ سب کچھ نہیں ہوتا، اسی طرح ذکر کرنے سے دل کا بھی یہی حال ہوجاتا ہے، اس لئے ذکر کی عادت ڈالے ۔ ”اذکر الله ذکراً کثیراً،، خوب کثرت سے اللہ کا ذکر کیا کرو ۔ (ملفوظات ابرار ص:۳۹)
۱۵:… ارشاد فرمایا : اللہ کا ذکر کثرت سے کیا کرو، جتنا ذکر کرے گا اتنا ہی دل میں نور پیدا ہوگا اور جتنا نور ہوگا اتنا ہی سرور ہوگا، اگر کوئی روزانہ دال بھات کھاتا ہے اگر کسی دن اس کو گوشت مل جائے تو پھر وہ دال شوق سے نہیں کھائے گا، اسی طرح دنیا کے تمام لہو ولعب دال کی طرح ہیں اور ذکر اللہ گوشت کی طرح ہے، ذکر کرنے سے دنیا کے تمام لہو ولعب ان شاء اللہ آہستہ آہستہ چھوٹ جائیں گے۔ (حوالہ بالا،ص:۴۵)
۱۶:… ارشاد فرمایا : ایک مرتبہ حضرت ابو ذر غفاری نے حضورا سے درخواست کی مجھے کچھ نصیحت کیجئے۔ اس موقع پر آپ انے کئی نصیحتیں فرمائیں، ان میں ایک نصیحت یہ بھی فرمائی:”علیک بتلاوة القرآن وذکر الله عز وجل،، ۔ (مشکوٰة)
تلاوت قرآن اور اللہ کے ذکر کو اپنے اوپر لازم کرلو، اس نصیحت کے دو جزو ہیں:۱:… قرآن پاک کی تلاوت، ۲:…ذکر۔ قرآن پاک کی تلاوت کے جو آداب وشرائط ہیں ان کا لحاظ رکھا جائے ،انتہائی محبت وعظمت کے ساتھ تلاوت کی جائے، تجوید کی رعایت رکھی جائے۔ اسی طرح ذکر کا بھی اہتمام کیا جائے، اس کے لئے نہ وضو کی شرط، نہ تسبیح کی شرط، نہ کسی خاص وقت اور جگہ کی قید بلکہ اٹھتے بیٹھتے جب بھی موقع ہو ،ذکر کرے اور ذکر بہت سارے ہیں: کلمہ طیبہ، درود شریف، استغفار جو جی چاہے پڑھے ،اس کا فائدہ کیا ہوگا ؟ ”فانہ ذکرلک فی السماء،، تمہارے ذکر کا باعث ہوگا آسمان میں۔ یہاں قرآن پاک کی تلاوت اور ذکر کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ذکر کرنے والے کا تذکرہ آسمان میں کیا جاتا ہے، کتنی بڑی چیز ہے، اس کو قرآن پاک میں فرمایا: ”فاذکرونی اذکرکم،، تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا اور دوسرا فائدہ یہ ہوگا ”نور لک فی الارض،، تمہارے لئے نور ہوگا زمین میں۔ تلاوت وذکر سے تمام دینی ودنیوی امور میں آسانی ہوگی، ظاہر ہے کہ جب نور ہوگا تو نور سے سرور ہوگا اور سرور ذریعہ ہے چین وآرام کا۔
۱۷:… ارشاد فرمایا: جب آدمی کسی جگہ ذکر کرتا ہے تو اس کو تو نفع ہوتا ہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ اس جگہ رہنے والوں کو بھی نفع ہوتا ہے، جیسے یہاں اے سی لگا ہوا ہے کیا صرف ایک آدمی کو ٹھنڈک پہنچ رہی ہے؟ نہیں، بلکہ پورے کمرہ والے اس سے مستفید ہورہے ہیں۔ ایک پنکھا چلتا ہے اور سب کو ہوا دیتا ہے، ایک بلب جلتا ہے اور سب لوگوں کو روشنی دیتا ہے، بس اسی طرح ذکر کی سکینت کا حال ہے کہ ذاکر پر جو سکینت اترتی ہے وہ سارے ماحول کو پہنچتی ہے پھر اگر سب لوگ ذاکر ہوں گے تو اس کا نفع اور اثر کس قدر ہوگا؟ اس لئے ذکر کا خوب اہتمام کریں، یہ بہت بڑی چیز ہے۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ” اس قدر کثرت سے ذکر کرو کہ لوگ مجنون کہنے لگیں،، کیا مطلب ہے؟ مطلب یہ ہے کہ جب آدمی کسی چیز کا عاشق ہوتا ہے تو اس کا کثرت سے ذکر کر تا ہے ۔ بار بار اور ہر وقت ذکر کرتے رہنے سے دیکھنے والے کہنے لگتے ہیں کہیں یہ پاگل تو نہیں ہوگیا، حالانکہ پاگل تھوڑا ہی ہے۔ اس کی ایک عام مثال دیتا ہوں: الیکشن میں آپ نے دیکھا ہوگا ووٹ حاصل کرنے کے لئے کیسے رٹ لگائی جاتی ہے، فلاں صاحب کو ووٹ دیجئے، فلاں صاحب کو ووٹ دیجئے، ایک ایک آدمی اس قدر شور مچاتا اور آواز لگاتا پھر تا ہے کہ لوگ اسے پاگل قرار دیتے ہیں، کہتے ہیں کہ اس کو کوئی کام دہندہ نہیں بس صبح سے شام تک ایک ہی رٹ لگاتا رہتا ہے، حالانکہ وہ پاگل تھوڑا ہی ہے وہ تو اپنا کام دھن سے کئے جارہا ہے، یہی مطلب سمجھ لیجئے ”اذکر الله حتی یقولوا مجنونا،، کا جب آدمی عادت ڈال لیتا ہے تو عادت پڑجاتی ہے، پھر بغیر ذکر اللہ کے چین نہیں ملتا، خواجہ صاحب فرماتے ہیں: دم رکا سمجھ دم بھر کو بھی یہ ساغر رکا (تحفہ الحرم ، ص:۵)
۱۸:… فرمایا: اتنی کثرت سے اللہ کا ذکر کرو کہ غفلت ختم ہوجائے، توجہ الی اللہ ہو جائے، ہم کو الیکشن والوں سے سبق لینا چاہئے کہ کوئی کچھ کہے ان کو اس کی پرواہ نہیں ہوتی، اس کو تو اپنے کام سے کام ہوتا ہے۔ (حج کے خاص اہم حقوق، ص:۲۷)
۱۹:… ارشاد فرمایاکہ: کثرت ذکر سے نور پیدا ہوگا، نور سے سرور ہوگا، سرور سے قوت وطاقت پیدا ہوگی جس سے طاعات کا ذوق وشوق ہو جائے گا، گناہوں سے نفرت ہو جائے گی۔ جس طرح مردار کی بو سے نفرت ہوتی ہے، ایسے ہی اللہ کے ذکر کی برکت سے بری باتوں سے یہ بات ہو جائے گی۔ زبان گناہوں سے بچے گی ، آنکھ گناہوں سے بچے گی ، گناہوں کی بو کا احساس ہوگا ۔ حدیث میں ذکر کرنے والے کی مثال زندہ شخص سے دی گئی ہے، فرمایا گیا : ”جو شخص اللہ کا ذکر کرتا ہے اور جو نہیں کرتا دونوں کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے، ذکر کرنے والا زندہ اور ذکر نہ کرنے والا مردہ ہے۔
۲۰:…ارشاد فرمایا کہ: تھوڑی دیر کسی بھی وقت اللہ کا ذکر کرے تو اس کے بڑے فوائد اور منافع محسوس ہوں گے، کسی کا ذکر اللہ تبارک وتعالیٰ کے یہاں ہوجائے وہ بھی فرشتوں کی مجالس میں تو اس سے کتنی خوشی وفرحت ہوگی؟ اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ہے، اس کی صورت کیا ہے؟ قرآن پاک میں فرمایا گیا: ”فاذکرونی اذکرکم،، تم مجھے یاد کرو میں تم کو یاد رکھوں گا۔ تو ذکر کتنی بڑی چیز ہے کہ اس سے ذکر کرنے والے کا تذکرہ حق تعالیٰ کرتے ہیں۔ اس لئے ذکر کا اہتمام کیا جائے، پابندی سے کسی بھی وقت بیٹھ کر ذکر کیا جائے پھر یہ کیفیت ہو جائے گی جس کو حضرت خواجہ صاحب نے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے:
تمنا ہے کہ اب کوئی جگہ ایسی کہیں ہوتی
اکیلے بیٹھے ہوتے یاد ان کی دلنشیں ہوتی
۲۱:… ارشاد فرمایا: ذکر کوئی سا بھی کرے، ہرایک کا نفع اور فائدہ ہوگا۔ مٹھائی جو بھی اپنے ذوق کی استعمال کرے چاہے ایک قسم کی کھاؤ چاہے کئی قسم کی ملا کر کھاؤ، الگ الگ کھاؤ ،اس کا فائدہ ہوگا۔ اسی طرح یہاں بھی معاملہ ہے کوئی سا بھی ذکر کرو ۔ خواہ اللہ اللہ کرو یا کلمہ طیبہ پڑھو یا سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر پڑھو ۔ خواہ ملاکر پڑھو یا الگ پڑھو اس کا نفع ہوگا، لیکن بہتر یہ ہے کہ جن نمازوں کے بعد سنتیں نہیں ہیں ان کے فوراً بعد اور جن نمازوں کے بعد سنتیں ہیں ان میں سنتوں سے فارغ ہونے کے بعد۔ مستحب یہ ہے کہ: استغفر الله الذی لا الہ الا ہو الحی القیوم واتوب الیہ اس کو تین بار پڑھے اور آیة الکرسی، سورہ اخلاص وسورہ فلق وسورہ ناس کو ایک ایک بار پڑھے۔ تسبیح فاطمہ یعنی تینتیس تینتیس بار سبحان اللّٰہ، الحمد للّٰہ اور ۳۴ مرتبہ اللّٰہ اکبر اور دن بھر میں ایک تسبیح کلمہ طیبہ، ایک استغفار ایک تسبیح درود شریف کی اس نیت سے پڑھے کہ غیر اللہ کی محبت دل سے گھٹے اور اللہ کی محبت بڑھے اور متفرق اوقات میں سبحان اللّٰہ، الحمد للّٰہ، اللّٰہ اکبر چاہے ملاکر پڑھے یا الگ الگ۔ بہتر یہ ہے کہ اوپر بلندی پر چڑھے تو اللّٰہ اکبر کہے، نیچے اترے تو سبحان اللّٰہ کہے۔ برابر زمین پر چلے تو لا الہ الا اللّٰہ کہے، اللہ کا ذکر کرو، کثرت سے کرو۔
شروع میں بعض اوقات جی نہیں لگتا، اچھا نہیں لگتا ،مگر ہلکے ہلکے ذکر کا اثر شروع ہوجاتا ہے پھر کیا خیال ہوتا ہے اس کو مجذوب نے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے:
مجھے دوست چھوڑ دیں مہربان نہ پوچھے
مجھے میرا رب کافی مجھے کل جہاں نہ پوچھے
شب وروز میں ہوں مجذوب اور یاد اپنے رب کی
مجھے کوئی ہاں نہ پوچھے مجھے کوئی ہاں نہ پوچھے
لیکن یہ بات ہمارے اندر کیسے پیدا ہوگی ۔ فرماتے ہیں۔
کامیابی تو کام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی
فکر واہتمام سے ہوگی ذکر کے التزام سے ہوگی
اللہ کے ذکر سے محبت بڑھے گی، محبت بڑھ جائے، پس یہی مطلوب ہے۔ اس لئے اس کا اہتمام کرے، اس کے اور بھی فوائد ہیں، وہ بھی ان شاء اللہ حاصل ہوں گے۔ (حج کے خاص اہم حقوق ص:۳۰)



