زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰۱۰ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

حضرت شیخ کشمیری کے چند منتشر فرمودات !

حضرت شیخ کشمیری کے چند منتشر فرمودات:

جان لینا چاہئے کہ حضرت شیخ کے قرآنی علوم کے متعلق کئی منتشر قیمتی ملفوظات ہیں جن کی روشنی میں قرآن کریم کی مختلف ابحاث میں نظم وربط پیدا ہوجاتا ہے، یہ مباحث عمدہ جواہر پاروں اور قیمتی لعل ویاقوت سے ہرگز کم نہیں، پر حکمت اور بصیرت افروز مضامین کا خزینہ ہیں ،جن کو اسلوب قرآنی کے متعلق اساسی اصول قرار دیا جانا زیبا اور لائق ہے ۔میں ان منتشر فرمودات کو ذیل میں ترتیب وار بیان کرتا ہوں اور ساتھ ساتھ بغرض وضاحت کچھ تشریح بھی قلمبند کرتا ہوں۔ وباللہ التوفیق والعصمة
قرآنی طرز اور طرز تالیف:
حضرت فرمایا کرتے تھے کہ: قرآن کریم کی گفتگو فقہی فتاویٰ کی کتب کی مانند نہیں ،جس میں جزئیات در جزئیات کو جابجا بیان کیا گیا ہے، نہ ہی ان جزئیات کو شمار کردہ مواد ومضامین پر تقسیم کیا گیا ہے ،جیساکہ آجکل علماء کا اپنی مؤلفات میں طرز وطریق رہا ہے ۔قرآن کریم عام عربی گفتگو کے مطابق بعض مضامین کو بعض مضامین پر عطف کرتے بیان کئے جاتا ہے، اسی بناء پر ایک ہی سیاق میں ذکر کردہ بالترتیب آیات کے عنوان وموضوع کے متعلق علمائے قرآن کے متعلق اختلاف رائے ہوا ہے، کبھی کبھی یہ بات پوشیدہ ہوجاتی ہے کہ دوسری آیت کا بھی موضوع وہی ہے جو پہلی آیت کا ہے یا پھر اس دوسری آیت کا موضوع اس سے عام ہے یا اس سے خاص ہے یا پھر ان دونوں آیات کے باہمی تعلق کی نوعیت دوسری ہے اور اس بحث کی اہمیت واضح ہے اور اس بحث کے متعلق اہتمام لائق قدر ہے ۔
ایک ہی واقعہ کے اجزاء میں تقدیم وتاخیر:
امام العصر حضرت کشمیری فرمایا کرتے تھے کہ: قرآن کریم کا اساسی موضوع علم تاریخ کا استیعاب اور حوادث وسوانح کا تمام جزئیات کے ساتھ بیان کرنا ہرگز نہیں ہے، اسی بناء پر قرآن کہیں ایجاز واختصار سے کام لیتا ہے اور کہیں تطویل وتفصیل کو بروئے کار لاتا ہے۔ اسی طرح ایک واقعہ کے اجزاء میں کہیں تقدیم اور کہیں تاخیر ہوتی ہے ،یہ امتیاز وافتراق کی لطیف حکم اور دقیق اسرار کا حامل رہا ہے، ان معارف و خزائن کے ادراک سے خرد ودانش بھی کبھی عاجز وقاصر ہورہتے ہیں ،قرآن کریم کے اس طرز وانداز میں کئی خصوصیات ہیں جو بوجہ اپنی دقت ولطافت کے دلجمعی اور طبیعت کی جاگزینی کی طرف محتاج ہوا کرتی ہیں۔معارف کی معرفت کے لئے آپ سیوطی کی ”الاتقان،، کی متعدد انواع کی طرف مراجعت کرسکتے ہیں ۔
مشکلات القرآن، مشکلات الحدیث سے زیادہ ہیں:
حضرت فرمایا کرتے تھے کہ: مشکلات القرآن مشکلات الحدیث سے زیادہ ہیں، مگر صد افسوس کہ علمائے امت نے قرآن کریم کی اس قدر خدمت نہ کی جتنی خدمت حدیث کے متعلق کی ہے ،حالانکہ قرآن کا اہتمام حدیث سے کہیں زیادہ ہونا چاہئے تھا اور حضرت کشمیری کا یہ ارشاد ماقبل میں گذر بھی چکا ہے کہ قرآن کی مطبوعہ تفاسیر کے ذخیرہ میں کوئی تفسیر مرتبہ ووقعت میں ابن حجر کی صحیح بخاری کی شرح ”فتح الباری،، کے مانند نہیں ہے اور جیساکہ حدیث کی تشریح وتوضیح کے متعلق اس کی نمایاں خصوصیات ہیں اور اس میں مخفی لطائف ونکات کا بیان ہے، ایسی کوئی تفسیر قرآن کی نہیں جس میں ایسی نمایاں خصوصیات اورقرآن کے مخفی لطائف کا اس طرح بیان ہو۔
قرآنی تعبیر میں استیفاء واستیعاب خاص مقصد کے لئے ہوا کرتا ہے:
حضرت فرمایا کرتے تھے کہ: قرآن کریم کے نظم میں الفاظ کا استیفاء واستیعاب محض عبارت کے استیفاء کے لئے نہیں ہوا کرتا ، بلکہ جب غرض مطلوب کا بیان بھی ہو چکا ہو اور مقام ومحل کا مقصود بھی بخوبی سمجھ لیاگیا ہو اور پھر الفاظ میں استیفاء کے پیش نظر تطویل آجائے تویہ تطویل وتفصیل خاص مقصد کے حصول کے لئے ہوا کرتی ہے، کبھی کبھار قرآن کریم ایسے لفظ کو چھوڑتا ہے جس کی طرف ظاہراً عبارت کا احتیاج محسوس ہوتا ہے، لیکن مقصود ومطلوب واضح ہوجانے کے بعد اس ظاہری احتیاج سے استغناء واضح ہوجاتا ہے۔
کلمات کے انتخاب میں قرآن کریم کا طرز ومذاق:
حضرت نے فرمایا: جس شخص کو اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے متعلق اعلیٰ مذاق اور علوم عربیہ کا کچھ حصہ بخشا ہو وہ جان لے گا کہ قرآن کریماپنی گفتگو میں عام عرف میں رائج حقیر ومستعمل الفاظ کے بجائے ایک نمایاں طرز وطریق کے مطابق عمدہ کلمات کا چناؤ کرتا ہے، جس میں قرآن کریم وضع اصلی کے ساتھ ساتھ معنی موضوع لہ کی حقیقت کی بھی نمایاں رعایت کرتا ہے ،اسی بناء پر قرآن کریم میں کسی بھی کلمہ کی تعبیر وتبدیلی ناممکن ہے ،اس لئے کہ انسانی عقل کی بساط اس قدر وسیع نہیں کہ وہ تمام اشیاء کی مکمل حقیقت جاننے اور موقع ومقام کے مناسب ایسے کلمات سے تعبیر پیش کرنے پر قادر ہو جو اس مقام کا حق مکمل ادا کرسکے۔
تکرار مضامین وقصص کے متعلق قرآنی حکمت حضرت ارشاد فرماتے ہیں کہ: قرآن کریم میں مضامین کا تکرار کبھی تو قدر مشترک اور کبھی قدر مغایر کے طرز پر واقع ہوا ہے ،محض تکرار مضمون کہیں نہیں ہے اور واقعةً قدر مشترک کے پیش نظر تکرار مضامین کی ہم کو حاجت بھی ہوا کرتی ہے، اس لئے کہ اگر اس قدر مشترک کے ساتھ مضامین کا تکرار زیادہ واقع نہ ہوا ہوتا تو قرآن کی قرآن کریم ہی سے تفسیر بیان کرنا آسان ہوتا اور احکام وفوائد کا اس کثیر مقدار میں اخذ واستنباط میسر آسکتا ۔اسی طرح حضرت شیخ فرماتے ہیں: اس کلام سے میرا مقصد یہ ہے کہ ایک لفظ سے حکم کا استنباط کیا جاتا ہے اور اسی مکرر مضمون میں دوسرے لفظ سے دیگر حکم اسی مشترک موضوع کے متعلق مستفاد ہوتا ہے۔ جس کی بناء پر گویا کہ متن اور شرح دونوں حاصل ہوجاتے ہیں اور اگر اس طرح تکرار نہ لایاجاتا تو صرف متن محض باقی رہ جاتا پھر اسی تکرار مضامین سے مطلوبہ غرض ومقصد کے قابل اہتمام اور لائق اعتناء ہونے کو بھی بیان کیا جاتا ہے، جیساکہ کہا جاتا ہے کہ: قرآن کریم میں نماز کا تذکرہ نوسوسے زائد مرتبہ فرمایا گیا ہے۔
قرآن کریم کی آیات کا باہمی نظم ونسق: حضرت فرماتے ہیں: قرآن کریم کے بعض مقامات پر آیات میں جو بظاہر عدم ارتباط ومناسبت نظر آتی ہے ،یہ بھی ایک خاص علمی نکتہ کی طرف اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ کہ: جن امور کے متعلق ہمارے عقول ومدارک مناسبت کے اظہار وبیان سے قاصر ہیں ،ان امور میں بھی ارتباط ومناسبت ضرورہے جن کا احاطہ سوائے علام الغیوب کے اور کوئی نہیں کرسکتا ، اس کی نظیر یہ ہے کہ ایک فقیہ مجتہد کسی فقہی باب کے متعلق مسلسل ومتواتر احکام ذکر کرتا جاتا ہے، جن احکام کے متعلق مناسبت سمجھنے میں ہماری عقول کا میاب نہیں ہوتی ہیں تو یہ جزئیات ہماری نظر میں تو منتشر اور پراگندہ ہوا کرتی ہیں لیکن یہی جزئیات اس فقیہ مجتہد کی نظر میں ایک قاعدہ اور اصل کے تحت باقاعدہ منضبط ہوتی ہیں۔
حضرت فرماتے ہیں: اس مناسبت وتعلق کے پہچاننے میں سب سے زیادہ اہتمام ایک آیت کے اپنے اجزاء میں باہمی نظم وضبط پہچاننے میں کیا جانا چاہئے، بسا اوقات ایک آیت کے اپنے اجزاء باہم مرتبط نہیں ہوا کرتے، چنانچہ بہت سی آیات میں باہمی ارتباط کی جستجو کے بجائے ایک آیت کے اجزاء کے آپس میں نظم وربط کوتلاش کرنا زیادہ قابل التفات ہونا چاہئے، اس کی مثال میں باری تعالیٰ کا یہ فرمان ملاحظہ کیجئے۔ ”فاعتزلوا النساء فی المحیض ولاتقربوہن حتی یطہرن فاذا تطہرن فاتوہن من حیث امرکم اللہ“۔ اب اس آیت مبارکہ میں ”فاذا تطہرن“ میں تشدید ہاء کی قراء ت کے مطابق ”حتی یطہرن“ کی تخفیف ہاء کے ساتھ قراء ت کا باہمی ربط کافی مشکل ومجمل معلوم ہوتا ہے ،اس لئے کہ یہ بات تو واضح ہے کہ ”طہور“ خون کے محض منقطع ہوجانے سے عبارت ہے ،جبکہ ”تطہر“ سے انقطاع دم کے بعد غسل طہارت کا قصد کیا گیا ہے ،چنانچہ تشدید کی قراء ت تخفیف کی قراء ت کے ساتھ کیسے موافق ٹھہرے گی؟ بلکہ قرآنی نظم سے گویا اس طرح کا معنی مستفاد ہوگا کہ آپ یوں کہیں:فلاں شخص کو کچھ نہ دینا یہاں تک کے وہ گھر میں داخل نہ ہوجائے، پس جب مسجد میں داخل ہوجائے تو اس کو دے دینا۔
امام اعظم ابو حنیفہ نے اسی آیت کے پیش نظر یہ مسلک اختیار فرمایا ہے کہ: اکثر مدت حیض سے انقطاع کے بعد بغیر غسل کے بیوی سے قربت جائز ہے۔ اب اس صورت میں جبکہ ”طہر“ سے فقط انقطاع دم حیض مراد لیا گیا ہے، باوجود یکہ اس طہر میں انقطاع اور اس کے بعد غسل طہارت کا معنی بھی محتمل ہے۔ اسی طرح تطہر سے انقطاع حیض کے بعد غسل طہارت کرلینے کا بیان مراد ہے، باوجود یکہ یہاں دیگر وجوہ کا بھی احتمال تھا کہ انقطاع دم کے بعد موضع نجاست دم دھو لیا ہو یا انقطاع حیض کے بعد وضوء کی طہارت حاصل کرلی ہو، ایسی صورت میں جواب یہ دیا جائے گا کہ یہاں آیت مبارکہ میں حکم قربت وجماع کے دو مراتب بیان فرمائے گئے ہیں، پہلا مرتبہ: نفس جواز اور رخصت وسہولت کا ہے اور دوسرا مرتبہ: عزیمت کا اور احوط موقف کا اور احوط طریق ہی اولیٰ ہواکرتا ہے ،اب مرتبہ اول پر ”تخفیف طہر“ کی قراء ت سے اشارہ فرمایا اور مرتبہ دوم کو ”فاذا تطہرن“ سے ضمنی طور پر بیان فرمایا گیا۔ جس میں اولیٰ واعلیٰ اور شارع تبارک وتعالیٰ کی مرضی کے عین مطابق صریح اجازت اور واضح وشافی بیان کی صورت میں بتلا دیا گیاہے ،لیکن بہرحال انقطاع کا تیقن چونکہ اکثر مدت حیض پر انقطاع سے حاصل ہوگا ،اس لئے اس کی بھی رعایت حضرت امام اعظم  نے بجا طور پر فرمائی۔ یہ بسیط اور گرانمایہ نکتہ ایسی صورت میں ہرگز حاصل نہ ہوسکتا تھا جب قراء تین ایک ہی طرح ہوتیں یا قراء تین کے اختلاف کے باوجود ان کے مفاہیم ایک ہی طرح لئے جاتے۔
راقم عرض گذار ہے کہ: سید مفتی آلوسی بغدادی کی روح المعانی میں اس اختلاف قراء ت کے متعلق انتہائی جامع ومانع کلام ہے، چنانچہ اس کی مراجعت فائدہ مند ثابت ہوگی۔حضرت آلوسی نے کتاب ”الکشف“ سے نقل کرتے ہوئے یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ : تشدید کی قراء ت ‘ قربت جماع کی غایت ناقصہ کی طرف اشارہ کرتی ہے اور حرف ”حتی“ جب افعال میں استعمال ہوتا ہے تو وہ ”الی“ کی نظیر ہوا کرتا ہے ،اس لئے کہ ”الی“ مابعد کے ماقبل میں دخول واندراج کا متقضی نہیں ہوا کرتا ،چنانچہ جب حتی بھی افعال میں داخل ہوکر دخول مابعد کا ماقبل میں تقاضہ نہیں کرتا ہے۔
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ غایت کاملہ وہ ہوا کرتی ہے جو اپنے جمیع اجزاء کے ساتھ غایت بنے اور وہ غایت ‘ مغیا سے قطعاً خارج ہو اور ناقصہ وہ غایت ہواکرتی ہے جو اپنے آخرمفہوم کے اعتبار سے غایت بنے ،اسماء پر داخل ہونے والا ”حتی“ غایت نہ ہونے کی صورت میں تقاضہ کرتا ہے کہ مابعد غایت مغیا میں داخل ہو اور افعال پر داخل ہونے والا ”حتی“ ‘ ”الی“ کی مانند یہ تقاضہ نہیں کرتا کہ مابعد غایت ماقبل کا جزء ہو، چنانچہ انقطاع دم حیض‘ حرمت کے لئے غایت ہے باعتبار اپنے آخر مفہوم کے جس کی بناء پر وقت انقطاع اس غایت حرمت میں داخل ہوگا اور ”غسل طہارت“ اس حرمت کی غایت ہوگی باعتبار اول مفہوم کے، اب ”حتی یطہرن“ اور فاذا تطہرن“ یعنی تخفیف وتشدید کہ یک جگہ جمع ہوجانے کی بناء پر قراء ت کے اختلاف کے باوجود تعارض باقی نہ رہا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دو غایات لاکر اس طرف اشارہ مقصود ہو کہ قربت جماع کے مراتب حرمت میں تفاوت ہے، اس لئے کہ یہ حرمت انقطاع دم سے پہلے زیادہ شدید تر ہے بنسبت انقطاع حیض کے بعد کے الخ․
تنبیہ: یہ جواب جو ماقبل میں میں نے ذکر کیا یہ حضرت شیخ کے درس کے دوران دیئے گئے جواب کی ایک جانب ہے ،پھر میں نے شیخ کی ”مشکلات القرآن“ کی طرف رجوع کیا کہ اس میں حضرت کیا تحریر فرماتے ہیں۔چنانچہ وہاں میں نے حضرت کے کلام میں وہ دقت نظر اور غموض فکر پائی جو جواب کے متعلق مختلف اطراف کو اور اس طرف کو بھی جو میں نے بیان کردی ہے ،شامل تھی اور اختلاف قراء تین کے متعلق ہر پیچیدہ اغراض کا مکمل شافی وکافی جواب وہاں تحریر فرما دیا ہے۔ اسی طرح حنفیہ پر وارد ہونے والے اشکالات کا بھی بخوبی جواب ذکر کردیا ہے جس سے قلب کو سکون واطمینان حاصل ہوتا ہے اور علمی پیاس واقعی بجھ جاتی ہے، چنانچہ ان تمام ترتیلات کی مراجعت کرلینا نہایت سودمند ہوگا۔ یہاں پر بھی میں چند باتیں ذکر کردیتا ہوں تاکہ یہاں بھی یہ فائدہ اور مبحث ناقص نہ رہے: بہرحال جواب کے سلسلہ میں میں نے جس قدر وضاحت کی ہے، میرے خیال میں حضرت نے اس وضاحت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے:
”علمائے احناف کے لئے یہ بھی ممکن ہے کہ یہاں اختلاف قراء ت کو وجوب اور استحباب کے عموم بتلانے پر محمول کریں‘ اس طور پر کہ قرآن کی غرض شاید یہ ہے کہ : چونکہ ”تطہر“ یہ بندہ کا اختیاری فعل ہے جس کو وہ ادا کرسکتا ہے ،اس بناء پر یہاں دو مراتب ہیں : پہلا مرتبہ وجوب کا اور دوسرا مرتبہ استحباب کا، اور یوں کہا جائے گا کہ اقل مدت میں انقطاع دم ہونے کی صورت میں قربت جماع کے لئے غسل واجب ہے اور اکثر مدت پر انقطاع دم کی صورت میں مستحب ہے“۔
حضرت کشمیری کی یہ بحث ‘ میری ذکر کردہ تحریر کے قریب معنی ومقصد رکھتی ہے، ہاں! معمولی تغایر بہرحال ہے کہ وہاں پر اقل واکثر کی تفصیل نہیں ہے ۔ ہاں اگر وہاں بھی اقل واکثر کو انقطاع دم کے تیقن کے ساتھ مقید کرلیں تو اکثر مدت میں بغیر غسل کے تیقن انقطاع ہوجاتاہے ،اس لئے غسل واجب نہ ہوگا اور اقل مدت میں غسل کے ساتھ متیقن انقطاع ہوتا ہے، لہذا غسل واجب ہوگا ۔اب دونوں مباحث کا مقصد ومطلب ایک ہو گیا۔ پھر حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ: ”فاذا تطہرن“ یہ ”حتی یطہرن“ پر تفریع اور اس پر مترتب نہیں ہے، اس لئے کہ اس تفریع وترتب کو تسلیم کرنے کی صورت میں ہی ‘ نظم قرآنی میں عدم ربط ومناسبت کا اشکال ہوگا، اسی لئے اس قطعہ ”فاذا تطہرن“ کو فاعتزلوا النساء“ پر عطف شمار کریں گے۔ پھر حضرت  فرماتے ہیں کہ: پھر ”تطہر“ سے مراد پانی کے ساتھ موضع نجاست کو دھونا یا وضوکرنا یا غسل طہارت کرنا مراد نہیں، جیساکہ بعض علماء کی رائے ہے بلکہ مراد طہارت کا عمل کرنا ہے اور ”باب تفعل“کے سترہ خاصیات میں سے ایک خاصیت یہ بھی ہے جس کو ”البحر المحیط“ جلد نمبر۱ صفحہ ۱۶۵ پر بھی بیان کیا گیا ہے، حضرت  کی اس عبارت کا مقصد یہ ہے کہ ”تطہر“ کے جو تین معنی بیان کئے گئے ہیں یہ اس کے حقیقی معانی نہیں ہیں بلکہ اس کا حقیقی معنی ”عمل فی الطہارة“ (طہارت سے متعلق کام کرنا) ہے اور یہ فعل اختیاری ہے اور یہ ایسا عام معنی ہے جو کلی کے افراد وجزئیات کو شامل ہونے کے مانند ان تمام معانی کو شامل ہے اور یہ معنی تفعل کی سترہ خاصیات میں سے ایک خاصیت ہے ،جیساکہ صاحب ”البحر المحیط“ نے باری جل شانہ کے اس ارشاد گرامی ”فتلقی آدم من ربہ“ الخ کے ذیل میں ذکر فرمائے ہیں ۔پھر حضرت فرماتے ہیں کہ : جب ترکیبی ومعنوی اعتبار سے آیت کا معاملہ اس طرح واضح ہوا تو جان لیجئے کہ آیت مبارکہ میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں: فعل اختیاری: جو عمل فی الطہارة ہے اور دوسری بات: فعل غیر اختیاری جو انقطاع دم سے حاصل ہونے والا طہر ہے ،اس شرح وبسط کے پیش نظر ”بدایة المجتہد“ میں جو عدم ربط ومناسبت کا اشکال علمائے احناف کے موقف پر اٹھایا گیا ہے وہ بھی وارد نہ ہوگا اور کلام کی صورت اب یوں ہوجائے گی کہ:”تم اس فلاں شخص کو اس وقت تک نہ دینا جب تک کہ وہ گھر کے قریب نہ آجائے، اچھا جب داخل ہوجائے تو دے دینا“ یا اس طرح ہوجائے گی کہ: اس کو درہم مت دینا تا آنکہ وہ گھر میں داخل ہوجائے ،پس جب داخل ہوجائے تو دے دینا الخ اس قابل قدر بحث کو ضرور محفوظ کر لیجئے۔ واللہ اعلم بالصواب