حضرت شیخ کشمیری کے چند منتشر فرمودات !
حضرت شیخ کشمیری
کے چند منتشر فرمودات:
جان لینا چاہئے کہ حضرت شیخ کے قرآنی علوم کے متعلق کئی منتشر قیمتی ملفوظات ہیں جن کی روشنی میں قرآن کریم کی مختلف ابحاث میں نظم وربط پیدا ہوجاتا ہے، یہ مباحث عمدہ جواہر پاروں اور قیمتی لعل ویاقوت سے ہرگز کم نہیں، پر حکمت اور بصیرت افروز مضامین کا خزینہ ہیں ،جن کو اسلوب قرآنی کے متعلق اساسی اصول قرار دیا جانا زیبا اور لائق ہے ۔میں ان منتشر فرمودات کو ذیل میں ترتیب وار بیان کرتا ہوں اور ساتھ ساتھ بغرض وضاحت کچھ تشریح بھی قلمبند کرتا ہوں۔ وباللہ التوفیق والعصمة
قرآنی طرز اور طرز تالیف:
حضرت فرمایا کرتے تھے کہ: قرآن کریم کی گفتگو فقہی فتاویٰ کی کتب کی مانند نہیں ،جس میں جزئیات در جزئیات کو جابجا بیان کیا گیا ہے، نہ ہی ان جزئیات کو شمار کردہ مواد ومضامین پر تقسیم کیا گیا ہے ،جیساکہ آجکل علماء کا اپنی مؤلفات میں طرز وطریق رہا ہے ۔قرآن کریم عام عربی گفتگو کے مطابق بعض مضامین کو بعض مضامین پر عطف کرتے بیان کئے جاتا ہے، اسی بناء پر ایک ہی سیاق میں ذکر کردہ بالترتیب آیات کے عنوان وموضوع کے متعلق علمائے قرآن کے متعلق اختلاف رائے ہوا ہے، کبھی کبھی یہ بات پوشیدہ ہوجاتی ہے کہ دوسری آیت کا بھی موضوع وہی ہے جو پہلی آیت کا ہے یا پھر اس دوسری آیت کا موضوع اس سے عام ہے یا اس سے خاص ہے یا پھر ان دونوں آیات کے باہمی تعلق کی نوعیت دوسری ہے اور اس بحث کی اہمیت واضح ہے اور اس بحث کے متعلق اہتمام لائق قدر ہے ۔جان لینا چاہئے کہ حضرت شیخ کے قرآنی علوم کے متعلق کئی منتشر قیمتی ملفوظات ہیں جن کی روشنی میں قرآن کریم کی مختلف ابحاث میں نظم وربط پیدا ہوجاتا ہے، یہ مباحث عمدہ جواہر پاروں اور قیمتی لعل ویاقوت سے ہرگز کم نہیں، پر حکمت اور بصیرت افروز مضامین کا خزینہ ہیں ،جن کو اسلوب قرآنی کے متعلق اساسی اصول قرار دیا جانا زیبا اور لائق ہے ۔میں ان منتشر فرمودات کو ذیل میں ترتیب وار بیان کرتا ہوں اور ساتھ ساتھ بغرض وضاحت کچھ تشریح بھی قلمبند کرتا ہوں۔ وباللہ التوفیق والعصمة



