والدہ صاحبہ مرحومہ !
والدہ صاحبہ مرحومہ
”جو آیاہے وہ جانے ہی کے لئے آیاہے“یہ وہ حقیقت ودانائی سے بھرپور الفاظ ہیں جو مخدومنا شیخ الحدیث حضرت مولانا محمدزکریاکاندھلوی مہاجر مدنی کسی کی بھی وفات پر اپنی جانب سے بطور تعزیت لکھے جانے والے مکتوب میں تحریر فرماتے تھے۔
اسی اصول وضابطہ بلکہ قانون الٰہیہ کے مطابق میری والدہ مرحومہ بھی اٹھہتر (۷۸) سال اس دنیائے فانیہ میں رہ کر اور یہاں کے رنج وغم اور خوشی ومسرت کی ملی جلی اٹھہتر بہاریں دیکھ کر بستی حضرت نظام الدین میں واقع قبرستان پنج پیراں میں آسودہٴ خاک ہوگئیں۔ والدہ مرحومہ حضرت شیخ کی زوجہٴ اولیٰ سے پانچویں اور آخری صاحبزادی تھیں۔
حضرت شیخ نوراللہ مرقدہ کے حالات زندگی سے واقف حضرات کو یہ معلوم ہے کہ آپ نے یکے بعد دیگرے دونکاح فرمائے تھے۔ پہلانکاح ۲۹/صفر ۱۳۳۵ھ/۲۵/ دسمبر ۱۹۱۶ء میں مولانا روٴف الحسن صاحب کاندھلوی کی صاحبزادی سیدہ امة المتین صاحبہ سے ہوا تھا۔ اس نکاح سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اولاد ذکور واناث تو بہت سی عطا فرمائیں لیکن ان میں زیادہ تر زندگی کی چند ہی بہاریں دیکھ کر اپنے والدین کے لئے ذخیرہٴ آخرت بن گئیں، تاہم جو صاحبزادیاں حیات رہ کر حضرت کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سرور بنیں، وہ بعد میں والدہ مولانا محمد ہارون کاندھلوی، والدہ مولانامحمد زبیر الحسن کاندھلوی اور والدہ محمدشاہد سہانپوری سے مشہور ومعروف ہوئیں، ان تین صاحبزادیوں کے علاوہ دو صاحبزادیاں اوربھی تھیں، لیکن ان کے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔زوجہٴ اولیٰ کی وفات کے بعد حضرت کا دوسرانکاح مسنونہ ۱۸/ربیع الثانی ۱۳۵۶ھ/۱۸/جون ۱۹۳۷ء میں حضرت مولانا محمدالیاس صاحب کاندھلوی کی صاحبزادی سیدہ عطیہ صاحبہ سے ہوا، جن سے ایک فرزند ارجمند حضرت مولانامحمدطلحہ صاحب کاندھلوی اور دوصاحبزادیاں الحمدللہ حیات ہیں، اور صاحب اولادہیں۔
ترجمہٴ قرآن پاک پڑھنے کے لئے حضرت کے یہاں ہمیشہ گھر کی سب سے بڑی اورمعمر خاتون متعین رہتی تھی اور ایک طرح سے گویا ان کی حیثیت تمام گھرانے کے لئے استاذ تفسیر کی ہوتی تھی، چنانچہ طویل عرصے تک مولانا محمدصاحب کاندھلوی زاد مجدہ کی والدہ محترمہ مرحومہ اس تفسیری خدمت پر مامور رہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو ترجمہ قرآن پاک پڑھانے کے معاملہ میں بڑا حسن شعور اورسلیقہ عطا فرمایاتھا۔ وہ اگرچہ حافظہ نہیں تھیں لیکن اپنی مسند پر بیٹھے بیٹھے دور ہی سے غلط پڑھنے والی کو ٹوک دیاکرتی تھیں، ان کی وفات کے بعد خدمت قرآن پاک کی یہ سعادت والدہ مولانا محمدسلمان صاحب (ناظم اعلیٰ جامعہ مظاہر علوم) کی طرف منتقل ہوگئی تھی، اپنی صحت کے زمانہ میں خاندان اور محلہ کی کتنی بچیوں کو انہوں نے کلام اللہ شریف پڑھایا، اور ان کے سینوں میں یہ دولت منتقل کی ،اس کی صحیح تعداد خدائے پاک ہی کو معلوم ہے۔
برسبیل تذکرہ یہاں یہ بھی وضاحت کردوں کہ مخدومنا حضرت شیخ نے اپنی تمام صاحبزادیوں اور ان سے وجود میں آنے والے نسبی سلسلہ کی کبھی بھی مکان اور مدرسہ سے باہر تعلیم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں فرمائی، چنانچہ حق تعالیٰ شانہ کے فضل وکرم سے ہمیشہ لڑکیوں کی تعلیم گھر کی چہار دیواری میں اور لڑکوں کی تعلیم مدرسہ تک محدود ومنحصر رہی، گویا دوسرے الفاظ میں حضرت نے ہمیشہ چار اور چہار دیواری کا تحفظ کیا اور کرایا، اور پھر یہ اللہ جل شانہ کا فضل وکرم اورایک مرد موٴمن ،دین کے مخلص خادم ،داعی اور پوری ملت وامت کے شیخ الحدیث کی دعاوٴں، توجہات اور نیک نیتی کا ہی اثر وثمرہ ہے کہ زندگی کے کسی بھی موڑ پر دل ودماغ میں حصول تعلیم کے معاملہ میں کسی احساس کمتری کا شائبہ اور خیال بھی پیدا نہیں ہوا، اور ہمیشہ :
من نیز حاضر میشوم تفسیر قرآں دربغل
زندگی کا مطمح نظر اور مقصود نظر رہا۔ اللہ جل شانہ مستقبل میں بھی یہ خیر وبرکت ہم سب کے شامل حال رکھے۔(آمین)
راقم سطور اب اصل موضوع کی طرف رجوع کرتے ہوئے لکھتاہے کہ والدہ مرحومہ کو اللہ تعالیٰ نے بچپن ہی سے سوجھ بوجھ اور ذہانت وفراست سے بڑا حصہ عطا فرمایاتھا، چنانچہ کچھ تو اس وجہ سے اور کچھ سب سے چھوٹی بیٹی ہونے کی وجہ سے وہ ہمیشہ حضرت شیخ کی لاڈلی اور منظور نظر بن کر رہیں۔
حضرتنے اپنی بعض تالیفات میں کہیں کہیں ان کی سوجھ بوجھ اور بے تکلفانہ احساسات وخیالات کے دلچسپ واقعات بھی تحریرفرمارکھے ہیں، مثلاََ: حضرت درس بخاری شریف میں حدیث مثل صلصلة الجرس کی تشریح وتوضیح میں آسمانی بجلی کے کڑک کا حوالہ دے کر جو قصہ سنایاکرتے تھے، وہ آپ کی مطبوعہ تقریر بخاری شریف میں ان الفاظ کے ساتھ ذکرکیاگیاہے۔ ”میری بچی جو اس وقت صاحب زوج ہوچکی ہے جب وہ تین سال کی تھی تو دروازہ پر کھڑی تھی کہ ایک دم بجلی کڑکی، مولوی نصیرالدین دروازہ پر تھے، اس نے پوچھاکہ مولوی صاحب اس وقت کون سی دعا پڑھتے ہیں؟ وہ منہ دیکھنے لگے۔ اس نے کہاکہ میں نے تو اس لئے پوچھاکہ تم جلدی سے بتلادوگے ،اچھااب میں تم کو بتلاوٴں ،وہ دعا یہ ہے ، ”ویسبح الرعد بحمدہ والملائکة من خیفتہ“۔
دوسرا واقعہ آپ بیتی میں حضرت نے ان الفاظ کے ساتھ تحریر فرمارکھاہے:
” میری ایک چھوٹی بچی تھی جب اس نے قاعدہ بغدادی شروع کیا اور ،آن ، بان کی تختی شروع کی تو اپنی والدہ مرحومہ کے سر ہوگئی، چار پانچ سال کی عمر تھی، چھوٹی سی بچی، اس کا مناظرہ اور ضد، مجھے بھی بڑا ہی اچھا لگا، اس نے کہا کہ الف زبر آ، نون زبرنَ، آنَ/ ب الف زبر بَا، نون زبرنَ، بانَ/تان/ثان، اخیر تختی تک پڑھ کر جب اس کا نمبر آیا کہ ہمزہ الف زبر آ، نون زبرنَ، آنَ تواپنی والدہ مرحومہ سے الجھ پڑی اور بھولی بھالی زبان(جو مجھے) اب تک یاد ہے،وہ بار بار الف، با کی تختی شروع سے پڑھتی اور حجت قائم کرتی ، اور اخیر میں ہمزہ پر آکر پھر جرح شروع کرتی کہ یہ آنَ کیوں ہے؟ ہمزانَ ہونا چاہئے ،بہت ہی صبح سے دوپہر تک اپنی ماں سے لڑتی رہی کہ یہ ہمزانَ کیوں نہیں بنتا، ماں کے پاس تو کوئی جواب نہیں تھا ،اس نے تو یہ کہہ کر اپنی جان بچالی کہ جب تیرے ابا آئیں گے، ان سے پوچھئے، کہنے لگی کہ میں تو ہمزان ہی یاد کروں گی، دوپہر کو مقدمہ پیش ہوا، جواب میرے پاس بھی بجز اس کے کیاتھاکہ ابھی تو بچی ہے، جب بڑی ہوگی تب پوچھنا“۔
حضرت کی یہ تمام تنگی وعسرت اتباع سنت کے احترام میں اختیاری تھی، اضطراری نہیں تھی، اور محبت نبوی کی بنیاد پر اس میں آپ کے قصد وارادہ کو دخل تھا، جبر اور مجبوری نہیں تھی، اور پھر آپ نے اس میں اپنے اہل خانہ اور کم سن صاحبزادیوں کو بھی شامل فرمارکھاتھا، اس لئے کچھ ہی عرصہ بعد اللہ جل شانہ نے قبولیت اور مقبولیت سے ایسی سرفرازی عطا فرمائی کہ وہ عسرت وتنگی ، فرحت وشادمانی سے مبدل ہوگئی، اور پھر پرانے جوتے کو سرسوں کے تیل سے نیا بناکر پہننے والی پر حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے کشائش وکشادگی کی ایسی راہیں کھولی گئیں کہ چھ مرتبہ ان کو حرمین شریفین کی حاضری کی عزت سے نوازا گیا اورسخاوت وعنایت کا یہ حال تھا کہ (اپنے پہلے سفر حج کو چھوڑکر) ان کے جتنے بھی حج ہوئے، اس میں بڑے اہتمام اور ذوق وشوق کے ساتھ وہ نئے کپڑوں کے پچاس ساٹھ جوڑے بناکر لے جاتیں اور ساکنان حرمین شریفین میں تقسیم کردیاکرتی تھیں۔
والدہ مرحومہ کے اس رشتہٴ نکاح کی وضاحت میں حضرت شیخ آپ بیتی میں تحریر فرماتے ہیں:
” حکیم الیاس کے متعلق حکیم ایوب صاحب مجھ سے کئی دفعہ کہہ چکے تھے، میں ہردفعہ یہ کہتا تھا کہ تمہارے سب بچوں میں حکیم الیاس سے مجھے جتنی محبت ہے، اتنی کسی سے نہیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ حکیم الیاس کو اللہ تعالیٰ بہت ہی جزائے خیر دے ،ان کو بچپن سے مجھ سے بہت محبت تھی،جب شادی کا ذکر تذکرہ بھی نہیں تھا اور میری دہلی کی آمد ورفت بہت کثرت سے تھی تو حکیم الیاس ،اللہ ان کو بہت جزائے خیر عطا فرمائے، دن اور رات میں محض اطلاع پر اسٹیشن آجاتا تھا، میں نے کئی دفعہ منع بھی کیاکہ محض اطلاع پر نہ آیا کرے“۔ (آپ بیتی جلد اول ص۳۱۸)
انعقاد نکاح سے ایک ماہ بعد والدہ مرحومہ کی رخصتی عمل میں آئی ، حضرت نے اس کی تفصیل بھی آپ بیتی میں ان الفاظ کے ساتھ سپرد قلم فرمارکھی ہے:
”۸/جمادی الاولیٰ۱۳۶۹ھ ۲۶/فروری ۱۹۵۰ء یکشنبہ کو میں نے عشاء کے بعد جب سب سونے کے واسطے لیٹ گئے ،اپنی بچیوں سے کہا کہ الیاس کی گھر والی کو چائے پلادیجیو، میرا خیال یہ ہے کہ اذان (فجر) پر میں خود پہنچادوں گا اور حکیم ایوب صاحب کے پاس آدمی بھیجا وہ بھی سونے کو لیٹ گئے تھے ،اس لئے کہ سردی کا زمانہ تھا ، گیارہ بج چکے تھے، میں نے مولوی عبدالمجید مرحوم کے ہاتھ کہلا کر بھیجا کہ اذان کے وقت میں مولوی الیاس کی گھر والی کو لے کر آوٴں گا ، گھر والوں سے کہہ دو کہ اذان کے وقت کوئی زنجیر کھٹکھٹاوے تو نام پوچھ کر دروازہ کھول دیں، کبھی مجھے دق( پریشان) ہونا پڑے، حکیم ایوب صاحب کا جواب آیا کہ مجھے تو انکار نہیں، مگر تجھے اس وقت دقت ہوگی، اگر اجازت دے تو میں اور الیاس ایک رکشہ لے کر اس کو لے آویں اور کسی کو خبر نہ ہوگی، چنانچہ دوشنبہ کی صبح کو اذان کے بعد حکیم جی اور حکیم الیاس ایک رکشہ لے کر آگئے اور عزیزہ کو مع ایک دو عزیزوں کے جو یہاں موجود تھے، لے کر چلے گئے، خود ان کے گھروالوں کو بھی صبح کی نماز کے بعد پتہ چلا کہ بیگم گھر میں آگئی“۔ (آپ بیتی جلد اول ص۳۱۹)
پیش نگاہ مضمون میں والدہ مرحومہ کے حضرت کے نام لکھے گئے تین خط پیش کئے جاتے ہیں، ان میں پہلے دو خط جو ابتدائی دور کے ہیں، کاندھلہ سے سہارنپور لکھے گئے تھے، جب کہ تیسرا مکتوب جو آخری دور کا ہے، سہارنپور سے مدینہ منورہ بھیجا گیاتھا۔
اس آخری مکتوب میں اپنے مشفق ومکرم والد محترم کی ماہ رمضان المبارک میں ہندوستان عدم آمد پر جس انداز سے اپنے خیالات وجذبات اور اپنی بے کسی و بے بسی کا اظہار ہے اور نیز تینوں خطوں میں بھاری بھرکم القاب وآداب کے بجائے جس طرح ہلکے پھلکے اور سیدھے سادے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں، وہ بطور خاص مطالعہ کے لائق ہیں۔
۱:۔ ”مکرم ومحترم بھائی جی صاحب السلام علیکم!
گزارش یہ ہے کہ ہم سب آپ کی دعا سے بخیر ہیں ،امید ہے کہ آنجناب کے مزاج مبارک بھی بخیر ہوں گے، آپ کا گرامی نامہ صادر ہواتھا، جواب میں تاخیر ہوئی ،معافی چاہتی ہوں، مولانا مدنی/ حضرت رائے پوری سے اگر ملاقات ہو تو سلام کے بعد دعا کی استدعاکردیجئے! میرے لئے دعا آپ بھی کیجئے۔ معاذ، طلحہ بخیر ہیں، سلام کہتے ہیں۔ والسلام :شاہدہ۔“
۲:۔”مکرم ومحترم جناب والد صاحب دام ظلکم العالی السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ!
امید ہے خداسے کہ آپ خیریت سے ہوں گے ،یہاں اللہ کے فضل سے خیریت ہے، کئی روز ہوئے آپ کا گرامی نامہ ملاتھا، جب سے برابر خط لکھنے کا ارادہ کررہی تھی، مگر افسوس کہ پورا نہیں ہوسکا، کل بھائی یوسف ،بھائی انعام صاحب بھی تشریف لائے، کل کو یا پرسوں کو بھوپال جائیں گے، آپا راشدہ بھی اللہ کے فضل سے خیریت سے ہیں، ان کے انجکشن لگ رہے ہیں، دعا کے واسطے کہتی ہیں، شاہد کا بھی دل اللہ کا شکر ہے، لگ رہاہے، بھائی یوسف صاحب فرمارہے ہیں کہ شوال میں تمہیں لے کر حج کو جائیں گے، اللہ کرے ان کی زبان کا کہنا پورا ہوجائے، امید ہے کہ گھر میں سب خیریت ہوگی۔ یہاں دودن سے خاصی گرمی ہورہی تھی، مگر رات سے ہوا چل رہی ہے۔فقط والسلام شاہدہ۔“
۳:۔ ”مکرم ومحترم مخدوم ومعظم جناب والد صاحب مدظلہ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ!
خداکرے آپ بخیر وعافیت ہوں، بندی اللہ کا شکر ہے بخیرہے۔میں نے آٹھ ماہ اس انتظار میں گزار دئیے کہ آپ رمضان میں تشریف لے آئیں گے، اب ر مضان قریب آیا تو نہ آنے کی اطلاعات آرہی ہیں، جس نے اتنا طویل انتظار کیا ہو، اب اس کے دل پر کیا گزر رہی ہوگی، زاہدہ کی رخصتی آپ کی تشریف آوری پر موقوف ہے، رمضان سے پہلے اگر تشریف آوری ہو تو قبل رمضان، ورنہ جب بھی تشریف آوری ہوگی، اس کام کو آپ ہی پورا فرمائیں گے، ان دونوں میاں بیوی کو حج کرانا بھی آپ ہی کے ذمہ ہے، اللہ کرے آپ خیر وعافیت سے تشریف لے آئیں اور یہاں پھر رونق آجائے۔ مجھ بے کس اور بے بس کا سلام روضہٴ شریفہ پر عرض کردیں تو کرم ہوگا۔ انشاء اللہ! آپ کو اجازت بھی مل جائے گی کہ وہ اپنی امت کے حال پر بہت مہربان ہیں۔والسلام آپ کی بیٹی :شاہدہ سہارنپور۔“
والدہ مرحومہ شروع شروع میں حضرت شیخ کو ”والد صاحب“ کے تعظیمی لفظ سے مخاطب کرتی تھیں، لیکن آخر میں خصوصا وفات کے بعد ”بھائی جی“ کے محبت آمیز لفظ سے یاد کرنے لگی تھیں، حضرت کی وفات کے بعد والدہ صاحبہ کے شدت تاثر اور احساس کا یہ عالم ہوگیا تھا کہ آنسو ان کی پلکوں میں پوشیدہ رہتے تھے، اور حضرت کا نام آتے ہی وہ پلکوں سے نکل کر چہرے پر بہنے شروع ہوجایاکرتے تھے، وہ اپنی حیات کے آخری سالوں میں حضرت کا کوئی واقعہ اور کوئی تذکرہ بغیر آنسو بہائے سنانے پر قادر ہی نہیں رہی تھیں۔
”آج ۵/ذی قعدہ ۱۳۷۶ھ/۱۴/جون ۱۹۷۵ء میں جمعہ کی صبح کو جب کہ زکریا صبح کی نماز کے بعد مسجد سے گھر پہنچا تو دیکھاکہ شاہدہ گھر کے صحن میں ایک دم کھڑی گرگئی، بے ہوش ہوگئی، بہت دیر میں ہوش آیا،۲۸/ذی قعدہ پنجشنبہ کی شام کو حضرت مدنی مع ریحانہ دفعة بلا اطلاع شاہدہ کی عیادت کے لئے آئے اور اطلاع نہ کرنے پر عتاب فرمایا، جمعہ کی شام کو واپس تشریف لے گئے“۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کچھ عرصہ سے ان کی یہ کیفیت ہوچلی تھی کہ گھر میں جب بھی کسی کی موت وحیات کا تذکرہ چلتا تو بڑے وثوق سے کہہ دیا کرتی تھیں کہ ہم میاں بیوی میں پہلے میر انمبر آئے گا، اور پھر اس کی وضاحت اس طرح کرتیں کہ میری ساری بہنیں اپنے اپنے شوہروں کی زندگی میں ہی اللہ کو پیاری ہوئیں، پہلے آپا زکیہ گئیں پھر بھائی یوسف گئے، پہلے آپا ذاکرہ گئیں پھر بھائی انعام گئے، میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا کہ پہلے میں جاوٴں گی۔قرب وفات کی اطلاع کے طور پر متعدد منامات میں سے ایک منامی اشارہ تو یہ ہے کہ تقریبا ایک ماہ قبل اللہ کی ایک بندی نے خواب میں بہت خوبصورت سرخ رنگ کا قبہ نما ایک مکان دیکھ کر معلوم کیا کہ یہ کس کا ہے؟ تو جواب ملا کہ یہ شاہدہ کا ہے، دیکھنے والی نے اپنا یہ خواب صبح کو والدہ مرحومہ کو سنایا تو بے ساختہ بولیں، بس میرا تو قبہ تیار ہوگیا، میں تو اب جارہی ہوں۔ایک اشارہ اس طرح سامنے آیا کہ وفات سے قبل خواب دیکھاگیا کہ حضرت شیخ والدہ مرحومہ کے گھر کے سامنے سے گزر کر تشریف لے جارہے ہیں، خواب دیکھنے والی نے سلام مسنون کے بعد درخواست کی کہ گھر میں تشریف لے آئیں تو فرمایا:ابھی نہیں ! پچیس دن بعد آوٴں گااورپھر پورے پچیسویں دن والدہ مرحومہ نے وفات پائی۔اسی طرح مرض وفات میں ان کے دہلی پہنچنے کے دوسرے ہی دن دیکھاگیا کہ کوئی صاحب کہہ رہے ہیں کہ یہاں ان کو ان کی مٹی لے کر آئی ہے۔
ہندوستان کے تقریبا تمام شہروں اور صوبوں میں اہل تعلق ومحبت نے اپنے اپنے مدارس اورتبلیغی مرکزوں اور مسجدوں میں جمع ہوکر یٰسین شریف اور کلمہ طیبہ وغیرہ بڑی مقدار میں پڑھ کر والدہ مرحومہ کو اس کا ثواب بخشا۔ حرمین شریفین ،نیز ہندوستان، انگلینڈ ، افریقہ، زامبیا، پاکستان، بابڈوز وغیرہ میں ہزار مرتبہ سے زائد کلام پاک ختم ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں، ہندوستان میں صرف ایک ہی صاحب نے اپنی نگرانی میں تیس کلام پاک اور مدینہ منورہ میں ایک ہی صاحب نے اپنی نگرانی میں چالیس کلام پاک ختم کئے اور کرائے، جنوبی افریقہ میں اسلامی ریڈیو کی نشریات میں ان کے انتقال کی خبر آجانے پر بڑی تعداد میں لوگوں نے تعزیتی فون کئے اور قرآن پاک ختم کئے۔
ماہ رمضان المبارک کی راتوں میں تمام شب بیدار رہ کر تراویح اور نوافل اور تلاوت قرآن پاک کا آخر تک وہی معمول رہا جس کا تذکرہ حضرت نے اپنی تالیف فضائل رمضان میں کررکھاہے، اپنے چھوٹے چھوٹے نواسوں اور پوتوں سے باری باری نوافل پڑھواتیں اور خود اس میں شریک رہتیں۔
ماہ رمضان المبارک میں عموما عزیز ان مولوی حافظ محمد سہیل سلمہ یا مولوی حافظ محمد ساجد سلمہ ان کو تراویح میں کلام پاک سنایاکرتے تھے، اگر کبھی یہ دونوں عمرہ پر ہوتے یا شہر کی مسجد میں تراویح کے لئے متعین ہوجاتے تو پھر ان ہی کے ذمہ ہوتا تھا کہ وہ گھر کے لئے کسی اچھے سے حافظ کا انتظام کریں، اور والدہ صاحبہ مرحومہ پورے رمضان اس کی سحری وافطاری اور چائے کا نظم اپنے ذمہ رکھتیں، ختم قرآن پاک پر مٹھائی منگواتیں، حافظ کو نقد انعام کے ساتھ عید کے لئے نئے کپڑوں کا ایک جوڑا اس کے لئے تیار کراتیں۔راقم سطور کی یادداشت میں ان کا کوئی رمضان ایسا نہیں ہے جو بغیر حافظ اور تراویح کے گذرا ہو۔
ایک اہم بات (معلوم نہیں کہ اس کا لکھنا مناسب بھی ہے یا نہیں) یہ تھی کہ مخدومنا حضرت شیخ رحمة اللہ علیہ سے رابطہ منامیہ بڑا قوی اور مضبوط تھا، بہت کثرت سے آپ کو خواب میں دیکھتیں اور ملنے والی ہدایات کی روشنی میں فیصلہ کرلیاکرتی تھیں، خود راقم سطور کو جامعہ مظاہر علوم کے سخت مشکل اورجاں گداز معاملات میں اس کا بارہا تجربہ ہوا کہ صبح کو بلاکر کہہ دیا کرتی تھیں کہ رات بھائی جی آئے تھے، وہ یہ فرماگئے ہیں، کبھی اس طرح کہتیں کہ بھائی جی فرمارہے تھے کہ شاہد سے کہو فلاں جگہ کی خیر وخبر لے، وہاں گڑ بڑ ہورہی ہے۔
والدہ صاحبہ مرحومہ کو حق تعالیٰ شانہ بے حد جزائے خیر عطا فرمائے، جنت کی بہاریں اور نعمتیں مرحمت فرمائے کہ انہوں نے ہم سب بہن بھائیوں کی بہتر سے بہتر طور پر تربیت ونگرانی فرمائی، ہمارے معاملات ومسائل کو بہت شوق اور ذوق کے ساتھ حل فرمایا، موقع بموقع بہتر سے بہتر نصیحتیں کرکے ہمارے شعور وآگہی کو پختگی بخشی، چنانچہ یہ احقر جب کبھی اپنے ماحول اور گرد وپیش کی شاہ خرچیوں یا فضول خرچیوں پر اپنے چھوٹوں کو تنبیہ کرتا تو وہ بہت ہنس کر یہ جملہ کہہ دیاکرتی تھیں کہ!
”شاہد تم اور زبیر دور فقر کی پیداوار ہو، جب کہ یہ سب دور شاہی کی پیداوار ہیں، اس لئے تم دونوں کے اور ان سب کے مزاج میں فرق ہے“۔
العظمة للہ کہ ساری عمر ان کی محبت اور شفقت ہم بہن بھائیوں اور عمر میں بڑے ہونے کے اعتبار سے راقم سطور کی سب سے زیادہ خدمت کرتی رہی، لیکن آہ کہ آج اس کے سوا کیا کہاجائے، اور کیا لکھاجائے کہ!
عمر بھر تیری محبت میری خدمت کرچکی
میں تیری خدمت کے قابل جب ہوا تو چل بسی
”جو آیاہے وہ جانے ہی کے لئے آیاہے“یہ وہ حقیقت ودانائی سے بھرپور الفاظ ہیں جو مخدومنا شیخ الحدیث حضرت مولانا محمدزکریاکاندھلوی مہاجر مدنی کسی کی بھی وفات پر اپنی جانب سے بطور تعزیت لکھے جانے والے مکتوب میں تحریر فرماتے تھے۔
اسی اصول وضابطہ بلکہ قانون الٰہیہ کے مطابق میری والدہ مرحومہ بھی اٹھہتر (۷۸) سال اس دنیائے فانیہ میں رہ کر اور یہاں کے رنج وغم اور خوشی ومسرت کی ملی جلی اٹھہتر بہاریں دیکھ کر بستی حضرت نظام الدین میں واقع قبرستان پنج پیراں میں آسودہٴ خاک ہوگئیں۔ والدہ مرحومہ حضرت شیخ کی زوجہٴ اولیٰ سے پانچویں اور آخری صاحبزادی تھیں۔
حضرت شیخ نوراللہ مرقدہ کے حالات زندگی سے واقف حضرات کو یہ معلوم ہے کہ آپ نے یکے بعد دیگرے دونکاح فرمائے تھے۔ پہلانکاح ۲۹/صفر ۱۳۳۵ھ/۲۵/ دسمبر ۱۹۱۶ء میں مولانا روٴف الحسن صاحب کاندھلوی کی صاحبزادی سیدہ امة المتین صاحبہ سے ہوا تھا۔ اس نکاح سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اولاد ذکور واناث تو بہت سی عطا فرمائیں لیکن ان میں زیادہ تر زندگی کی چند ہی بہاریں دیکھ کر اپنے والدین کے لئے ذخیرہٴ آخرت بن گئیں، تاہم جو صاحبزادیاں حیات رہ کر حضرت کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سرور بنیں، وہ بعد میں والدہ مولانا محمد ہارون کاندھلوی، والدہ مولانامحمد زبیر الحسن کاندھلوی اور والدہ محمدشاہد سہانپوری سے مشہور ومعروف ہوئیں، ان تین صاحبزادیوں کے علاوہ دو صاحبزادیاں اوربھی تھیں، لیکن ان کے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔زوجہٴ اولیٰ کی وفات کے بعد حضرت کا دوسرانکاح مسنونہ ۱۸/ربیع الثانی ۱۳۵۶ھ/۱۸/جون ۱۹۳۷ء میں حضرت مولانا محمدالیاس صاحب کاندھلوی کی صاحبزادی سیدہ عطیہ صاحبہ سے ہوا، جن سے ایک فرزند ارجمند حضرت مولانامحمدطلحہ صاحب کاندھلوی اور دوصاحبزادیاں الحمدللہ حیات ہیں، اور صاحب اولادہیں۔
ولادت وتعلیم وتربیت:
راقم سطور کی والدہ محترمہ سیدہ شاہدہ کی ولادت ۹/ذوالقعدہ ۱۳۵۲ھ/ ۱۹/مارچ ۱۹۳۴ء کو سہارنپور میں ہوئی، خاندانی دستور وروایات کے مطابق تمام تر دینی ومذہبی تعلیم گھر کی چہاردیواری میں رہ کر حاصل کی، چنانچہ قرآن پاک اور ترجمہ قرآن پاک، مکمل مسائل دینیہ کی کتابوں میں بہشتی زیور، تعلیم الاسلام، تبلیغی نصاب(فضائل اعمال) اوردیگر متفرق کتابوں میں اسلامی تواریخ پر فتوح الاسلام ، فتوح الشام ، حکایات صحابہ وغیرہ اور لکھنے پڑھنے کے لحاظ سے اردو نویسی ضروری حد تک تختی اور حساب کتاب وغیرہ وغیرہ سب گھر میں رہ کر گھر کی بڑی بوڑھی مستورات سے حاصل کیں۔ترجمہٴ قرآن پاک پڑھنے کے لئے حضرت کے یہاں ہمیشہ گھر کی سب سے بڑی اورمعمر خاتون متعین رہتی تھی اور ایک طرح سے گویا ان کی حیثیت تمام گھرانے کے لئے استاذ تفسیر کی ہوتی تھی، چنانچہ طویل عرصے تک مولانا محمدصاحب کاندھلوی زاد مجدہ کی والدہ محترمہ مرحومہ اس تفسیری خدمت پر مامور رہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو ترجمہ قرآن پاک پڑھانے کے معاملہ میں بڑا حسن شعور اورسلیقہ عطا فرمایاتھا۔ وہ اگرچہ حافظہ نہیں تھیں لیکن اپنی مسند پر بیٹھے بیٹھے دور ہی سے غلط پڑھنے والی کو ٹوک دیاکرتی تھیں، ان کی وفات کے بعد خدمت قرآن پاک کی یہ سعادت والدہ مولانا محمدسلمان صاحب (ناظم اعلیٰ جامعہ مظاہر علوم) کی طرف منتقل ہوگئی تھی، اپنی صحت کے زمانہ میں خاندان اور محلہ کی کتنی بچیوں کو انہوں نے کلام اللہ شریف پڑھایا، اور ان کے سینوں میں یہ دولت منتقل کی ،اس کی صحیح تعداد خدائے پاک ہی کو معلوم ہے۔
برسبیل تذکرہ یہاں یہ بھی وضاحت کردوں کہ مخدومنا حضرت شیخ نے اپنی تمام صاحبزادیوں اور ان سے وجود میں آنے والے نسبی سلسلہ کی کبھی بھی مکان اور مدرسہ سے باہر تعلیم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں فرمائی، چنانچہ حق تعالیٰ شانہ کے فضل وکرم سے ہمیشہ لڑکیوں کی تعلیم گھر کی چہار دیواری میں اور لڑکوں کی تعلیم مدرسہ تک محدود ومنحصر رہی، گویا دوسرے الفاظ میں حضرت نے ہمیشہ چار اور چہار دیواری کا تحفظ کیا اور کرایا، اور پھر یہ اللہ جل شانہ کا فضل وکرم اورایک مرد موٴمن ،دین کے مخلص خادم ،داعی اور پوری ملت وامت کے شیخ الحدیث کی دعاوٴں، توجہات اور نیک نیتی کا ہی اثر وثمرہ ہے کہ زندگی کے کسی بھی موڑ پر دل ودماغ میں حصول تعلیم کے معاملہ میں کسی احساس کمتری کا شائبہ اور خیال بھی پیدا نہیں ہوا، اور ہمیشہ :
من نیز حاضر میشوم تفسیر قرآں دربغل
زندگی کا مطمح نظر اور مقصود نظر رہا۔ اللہ جل شانہ مستقبل میں بھی یہ خیر وبرکت ہم سب کے شامل حال رکھے۔(آمین)
راقم سطور اب اصل موضوع کی طرف رجوع کرتے ہوئے لکھتاہے کہ والدہ مرحومہ کو اللہ تعالیٰ نے بچپن ہی سے سوجھ بوجھ اور ذہانت وفراست سے بڑا حصہ عطا فرمایاتھا، چنانچہ کچھ تو اس وجہ سے اور کچھ سب سے چھوٹی بیٹی ہونے کی وجہ سے وہ ہمیشہ حضرت شیخ کی لاڈلی اور منظور نظر بن کر رہیں۔
حضرتنے اپنی بعض تالیفات میں کہیں کہیں ان کی سوجھ بوجھ اور بے تکلفانہ احساسات وخیالات کے دلچسپ واقعات بھی تحریرفرمارکھے ہیں، مثلاََ: حضرت درس بخاری شریف میں حدیث مثل صلصلة الجرس کی تشریح وتوضیح میں آسمانی بجلی کے کڑک کا حوالہ دے کر جو قصہ سنایاکرتے تھے، وہ آپ کی مطبوعہ تقریر بخاری شریف میں ان الفاظ کے ساتھ ذکرکیاگیاہے۔ ”میری بچی جو اس وقت صاحب زوج ہوچکی ہے جب وہ تین سال کی تھی تو دروازہ پر کھڑی تھی کہ ایک دم بجلی کڑکی، مولوی نصیرالدین دروازہ پر تھے، اس نے پوچھاکہ مولوی صاحب اس وقت کون سی دعا پڑھتے ہیں؟ وہ منہ دیکھنے لگے۔ اس نے کہاکہ میں نے تو اس لئے پوچھاکہ تم جلدی سے بتلادوگے ،اچھااب میں تم کو بتلاوٴں ،وہ دعا یہ ہے ، ”ویسبح الرعد بحمدہ والملائکة من خیفتہ“۔
دوسرا واقعہ آپ بیتی میں حضرت نے ان الفاظ کے ساتھ تحریر فرمارکھاہے:
” میری ایک چھوٹی بچی تھی جب اس نے قاعدہ بغدادی شروع کیا اور ،آن ، بان کی تختی شروع کی تو اپنی والدہ مرحومہ کے سر ہوگئی، چار پانچ سال کی عمر تھی، چھوٹی سی بچی، اس کا مناظرہ اور ضد، مجھے بھی بڑا ہی اچھا لگا، اس نے کہا کہ الف زبر آ، نون زبرنَ، آنَ/ ب الف زبر بَا، نون زبرنَ، بانَ/تان/ثان، اخیر تختی تک پڑھ کر جب اس کا نمبر آیا کہ ہمزہ الف زبر آ، نون زبرنَ، آنَ تواپنی والدہ مرحومہ سے الجھ پڑی اور بھولی بھالی زبان(جو مجھے) اب تک یاد ہے،وہ بار بار الف، با کی تختی شروع سے پڑھتی اور حجت قائم کرتی ، اور اخیر میں ہمزہ پر آکر پھر جرح شروع کرتی کہ یہ آنَ کیوں ہے؟ ہمزانَ ہونا چاہئے ،بہت ہی صبح سے دوپہر تک اپنی ماں سے لڑتی رہی کہ یہ ہمزانَ کیوں نہیں بنتا، ماں کے پاس تو کوئی جواب نہیں تھا ،اس نے تو یہ کہہ کر اپنی جان بچالی کہ جب تیرے ابا آئیں گے، ان سے پوچھئے، کہنے لگی کہ میں تو ہمزان ہی یاد کروں گی، دوپہر کو مقدمہ پیش ہوا، جواب میرے پاس بھی بجز اس کے کیاتھاکہ ابھی تو بچی ہے، جب بڑی ہوگی تب پوچھنا“۔
بچپن کا ماحول:
والدہ مرحومہ اور ان کی تمام بہنوں اور سب سے بڑھ کر خود مخدومنا حضرت شیخ کا یہ دور عسرت وتنگی کا تھا، اگرچہ حضرت کی سیدھی سادی اور سادگی سے بھرپور حیات اور طرز حیات نے اس پر پردہ ڈال رکھاتھا، لیکن واقعہ یہ ہے کہ گاہ بگاہ اس فقیر آمیز شاہی کے کچھ ایسے روشن نمونے سامنے آجاتے تھے جن سے حضرت کی شان اصلاح وتربیت آشکاراہوجایاکرتی تھی، چنانچہ میری والدہ مرحومہ کا یہ واقعہ اس کی مثال میں پیش کیاجاسکتاہے، کہ بہت چھوٹی سی عمر میں ایک مرتبہ عید کے موقع پر ان کے پاس اپنے استعمال کے لئے نیاجوتا نہیں تھا، انہوں نے اپنے قابل احترام والد سے نئے جوتے کی فرمائش کرڈالی، یہ سن کر والد ماجد مرحوم نے ان کا پرانا جوتا لے کر اس پر اپنے ہاتھ سے سرسوں کا تیل لگادیا، جس سے اس پر وقتی طورسے کچھ چمک آگئی، اور پھر یہ فرماکر کہ ”اب پہن لو ،یہ نئے بن گئے“ والدہ کو دے دئیے اور انہوں نے اس کو خوشی خوشی اپنے پاوٴں میں ڈال لئے۔حضرت کی یہ تمام تنگی وعسرت اتباع سنت کے احترام میں اختیاری تھی، اضطراری نہیں تھی، اور محبت نبوی کی بنیاد پر اس میں آپ کے قصد وارادہ کو دخل تھا، جبر اور مجبوری نہیں تھی، اور پھر آپ نے اس میں اپنے اہل خانہ اور کم سن صاحبزادیوں کو بھی شامل فرمارکھاتھا، اس لئے کچھ ہی عرصہ بعد اللہ جل شانہ نے قبولیت اور مقبولیت سے ایسی سرفرازی عطا فرمائی کہ وہ عسرت وتنگی ، فرحت وشادمانی سے مبدل ہوگئی، اور پھر پرانے جوتے کو سرسوں کے تیل سے نیا بناکر پہننے والی پر حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے کشائش وکشادگی کی ایسی راہیں کھولی گئیں کہ چھ مرتبہ ان کو حرمین شریفین کی حاضری کی عزت سے نوازا گیا اورسخاوت وعنایت کا یہ حال تھا کہ (اپنے پہلے سفر حج کو چھوڑکر) ان کے جتنے بھی حج ہوئے، اس میں بڑے اہتمام اور ذوق وشوق کے ساتھ وہ نئے کپڑوں کے پچاس ساٹھ جوڑے بناکر لے جاتیں اور ساکنان حرمین شریفین میں تقسیم کردیاکرتی تھیں۔
نکاح:
حضرت شیخ بچیوں کے نکاح وشادی کے معاملہ میں بہت زیادہ حساس رہ کر ہمیشہ تعجیل کو پسند فرماتے تھے، یہی وجہ ہے کہ اپنی صاحبزادیوں کے نکاح میں بھی آپ نے اس کا لحاظ فرماتے ہوئے ہمیشہ عجلت فرمائی، چنانچہ والدہ مرحومہ کو بھی جب کہ ان کی عمر سترہ سال تھی، موٴرخہ ۲۰/ربیع الثانی ۱۳۶۹ھ/۸/فروری۱۹۵۰ء چہار شنبہ میں حضرت مولانا حکیم سید محمدایوب صاحب سہارنپوری کے فرزند مولاناسید محمد الیاس صاحب مظاہری سہارنپوری سے منسوب کرکے رشتہٴ ازدواج میں منسلک فرمادیاتھا، شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمدمدنی شدت بخار کے باوجود صرف نکاح پڑھانے کے لئے دیوبند سے تشریف لائے اورمہر فاطمی پر یہ نکاح پڑھایا۔ حضرت مولانا شاہ عبدالقادر صاحب رائے پوری مع دیگر حضرات مجلس نکاح میں تشریف فرماتھے۔والدہ مرحومہ کے اس رشتہٴ نکاح کی وضاحت میں حضرت شیخ آپ بیتی میں تحریر فرماتے ہیں:
” حکیم الیاس کے متعلق حکیم ایوب صاحب مجھ سے کئی دفعہ کہہ چکے تھے، میں ہردفعہ یہ کہتا تھا کہ تمہارے سب بچوں میں حکیم الیاس سے مجھے جتنی محبت ہے، اتنی کسی سے نہیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ حکیم الیاس کو اللہ تعالیٰ بہت ہی جزائے خیر دے ،ان کو بچپن سے مجھ سے بہت محبت تھی،جب شادی کا ذکر تذکرہ بھی نہیں تھا اور میری دہلی کی آمد ورفت بہت کثرت سے تھی تو حکیم الیاس ،اللہ ان کو بہت جزائے خیر عطا فرمائے، دن اور رات میں محض اطلاع پر اسٹیشن آجاتا تھا، میں نے کئی دفعہ منع بھی کیاکہ محض اطلاع پر نہ آیا کرے“۔ (آپ بیتی جلد اول ص۳۱۸)
انعقاد نکاح سے ایک ماہ بعد والدہ مرحومہ کی رخصتی عمل میں آئی ، حضرت نے اس کی تفصیل بھی آپ بیتی میں ان الفاظ کے ساتھ سپرد قلم فرمارکھی ہے:
”۸/جمادی الاولیٰ۱۳۶۹ھ ۲۶/فروری ۱۹۵۰ء یکشنبہ کو میں نے عشاء کے بعد جب سب سونے کے واسطے لیٹ گئے ،اپنی بچیوں سے کہا کہ الیاس کی گھر والی کو چائے پلادیجیو، میرا خیال یہ ہے کہ اذان (فجر) پر میں خود پہنچادوں گا اور حکیم ایوب صاحب کے پاس آدمی بھیجا وہ بھی سونے کو لیٹ گئے تھے ،اس لئے کہ سردی کا زمانہ تھا ، گیارہ بج چکے تھے، میں نے مولوی عبدالمجید مرحوم کے ہاتھ کہلا کر بھیجا کہ اذان کے وقت میں مولوی الیاس کی گھر والی کو لے کر آوٴں گا ، گھر والوں سے کہہ دو کہ اذان کے وقت کوئی زنجیر کھٹکھٹاوے تو نام پوچھ کر دروازہ کھول دیں، کبھی مجھے دق( پریشان) ہونا پڑے، حکیم ایوب صاحب کا جواب آیا کہ مجھے تو انکار نہیں، مگر تجھے اس وقت دقت ہوگی، اگر اجازت دے تو میں اور الیاس ایک رکشہ لے کر اس کو لے آویں اور کسی کو خبر نہ ہوگی، چنانچہ دوشنبہ کی صبح کو اذان کے بعد حکیم جی اور حکیم الیاس ایک رکشہ لے کر آگئے اور عزیزہ کو مع ایک دو عزیزوں کے جو یہاں موجود تھے، لے کر چلے گئے، خود ان کے گھروالوں کو بھی صبح کی نماز کے بعد پتہ چلا کہ بیگم گھر میں آگئی“۔ (آپ بیتی جلد اول ص۳۱۹)
اولاد
اس نکاح مسنونہ سے وجود میں آنے والے چار لڑکے اور لڑکیا ں تو بالکل کم عمری میں ہی ذخیرہٴ آخرت بن گئے تھے، بفضلہ تعالیٰ اب جو حیات ہیں وہ یہ ہیں:راقم سطور(سید محمدشاہد) مولوی حافظ سید محمدراشد، مولوی حافظ سید محمدسہیل، مولوی حافظ سید محمدساجد، نیز تین بیٹیاں، ہمشیرہ طاہرہ خاتون، (اہلیہ مولانا محمد زبیر الحسن کاندھلوی نظام الدین دہلی)ہمشیرہ ساجدہ خاتون،(اہلیہ مولانا مفتی محمدخالد صاحب سہارنپوری) ہمشیرہ زاہدہ خاتون ، (اہلیہ مولانا قاری محمد عمار صاحب سہارنپوری)اسفارحج
حضرت کی جملہ صاحبزادیوں نے حج فرض کی ادائیگی اپنے والد مخدوم کی حیات میں کرلی تھی ، چنانچہ والدہ مرحومہ بھی ۱۳۷۴ھ/۱۹۵۵ء میں اس فریضہ سے سبکدوش ہوگئی تھیں، خاندان کی دیگر مستورات اورصاحبزادیوں کے ساتھ پورے قافلہ کا یہ سفر حضرت مولانا محمدیوسف صاحب، حضرت مولانا محمد انعام الحسن صاحب ، حضرت مولانا محمد افتخار الحسن صاحب زاد مجدہ کی معیت میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی کی زیر قیادت وزیر سیادت ہواتھا، ۴/شوال ۱۳۷۴ھ/۶/جون ۱۹۵۵ء میں دہلی سے روانہ ہوکر براہ بمبئی جدہ ہوتے ہوئے مکہ معظمہ اور پھر ادائیگی حج کے بعد مدینہ منورہ میں چالیس یوم قیام کے بعد ۱۸/صفر ۱۳۷۴ھ ۱۵/اکتوبر ۱۹۵۵ء میں دہلی واپسی ہوئی، حضرت شیخ اس قافلے کے استقبال کے لئے ایک دن قبل مرکز نظام الدین دہلی پہنچ گئے تھے، اس حج فرض کے بعد والدہ صاحبہ مرحومہ نے ایک عمرہ اور چار حج کئے اور ان تمام سفروں میں بڑے ذوق وشوق وحلاوت کے ساتھ حرمین شریفین میں اپنا وقت گزارا۔اس ایک عمرہ اور جملہ حجوں میں مولانا حکیم سید محمدالیاس صاحب آپ کے ساتھ رہے۔تین خط
اپنے عام معمول کے مطابق اپنی دیگر بہنوں اورخاندانی مستورات کی طرح والدہ مرحومہ بھی حضرت شیخ سے بوقت ضرورت خط وکتابت کرتی رہتی تھیں، اس زمانہ میں خاندانی مستورات کے اسفار دہلی، کاندھلہ میں مقیم اعزہ تک ہی محدود رہتے تھے، راقم سطور کی معلومات کے مطابق حضرت کی سب سے زیادہ خط وکتابت محترمہ خالہ ذاکرہ صاحب (یعنی والدہ مولانا محمدزبیر الحسن صاحب کاندھلوی) سے ہوئی ہے کہ وہ ایک طویل عرصے تک اپنے شوہر نامدار حضرت جی ثالث مولانا محمد انعام الحسن صاحب کاندھلوی کی علالت کی وجہ سے ۱۹۴۷ء کے فسادات اور خطرات سے بھرپور زمانہ میں کاندھلہ میں مقیم تھیں۔پیش نگاہ مضمون میں والدہ مرحومہ کے حضرت کے نام لکھے گئے تین خط پیش کئے جاتے ہیں، ان میں پہلے دو خط جو ابتدائی دور کے ہیں، کاندھلہ سے سہارنپور لکھے گئے تھے، جب کہ تیسرا مکتوب جو آخری دور کا ہے، سہارنپور سے مدینہ منورہ بھیجا گیاتھا۔
اس آخری مکتوب میں اپنے مشفق ومکرم والد محترم کی ماہ رمضان المبارک میں ہندوستان عدم آمد پر جس انداز سے اپنے خیالات وجذبات اور اپنی بے کسی و بے بسی کا اظہار ہے اور نیز تینوں خطوں میں بھاری بھرکم القاب وآداب کے بجائے جس طرح ہلکے پھلکے اور سیدھے سادے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں، وہ بطور خاص مطالعہ کے لائق ہیں۔
۱:۔ ”مکرم ومحترم بھائی جی صاحب السلام علیکم!
گزارش یہ ہے کہ ہم سب آپ کی دعا سے بخیر ہیں ،امید ہے کہ آنجناب کے مزاج مبارک بھی بخیر ہوں گے، آپ کا گرامی نامہ صادر ہواتھا، جواب میں تاخیر ہوئی ،معافی چاہتی ہوں، مولانا مدنی/ حضرت رائے پوری سے اگر ملاقات ہو تو سلام کے بعد دعا کی استدعاکردیجئے! میرے لئے دعا آپ بھی کیجئے۔ معاذ، طلحہ بخیر ہیں، سلام کہتے ہیں۔ والسلام :شاہدہ۔“
۲:۔”مکرم ومحترم جناب والد صاحب دام ظلکم العالی السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ!
امید ہے خداسے کہ آپ خیریت سے ہوں گے ،یہاں اللہ کے فضل سے خیریت ہے، کئی روز ہوئے آپ کا گرامی نامہ ملاتھا، جب سے برابر خط لکھنے کا ارادہ کررہی تھی، مگر افسوس کہ پورا نہیں ہوسکا، کل بھائی یوسف ،بھائی انعام صاحب بھی تشریف لائے، کل کو یا پرسوں کو بھوپال جائیں گے، آپا راشدہ بھی اللہ کے فضل سے خیریت سے ہیں، ان کے انجکشن لگ رہے ہیں، دعا کے واسطے کہتی ہیں، شاہد کا بھی دل اللہ کا شکر ہے، لگ رہاہے، بھائی یوسف صاحب فرمارہے ہیں کہ شوال میں تمہیں لے کر حج کو جائیں گے، اللہ کرے ان کی زبان کا کہنا پورا ہوجائے، امید ہے کہ گھر میں سب خیریت ہوگی۔ یہاں دودن سے خاصی گرمی ہورہی تھی، مگر رات سے ہوا چل رہی ہے۔فقط والسلام شاہدہ۔“
۳:۔ ”مکرم ومحترم مخدوم ومعظم جناب والد صاحب مدظلہ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ!
خداکرے آپ بخیر وعافیت ہوں، بندی اللہ کا شکر ہے بخیرہے۔میں نے آٹھ ماہ اس انتظار میں گزار دئیے کہ آپ رمضان میں تشریف لے آئیں گے، اب ر مضان قریب آیا تو نہ آنے کی اطلاعات آرہی ہیں، جس نے اتنا طویل انتظار کیا ہو، اب اس کے دل پر کیا گزر رہی ہوگی، زاہدہ کی رخصتی آپ کی تشریف آوری پر موقوف ہے، رمضان سے پہلے اگر تشریف آوری ہو تو قبل رمضان، ورنہ جب بھی تشریف آوری ہوگی، اس کام کو آپ ہی پورا فرمائیں گے، ان دونوں میاں بیوی کو حج کرانا بھی آپ ہی کے ذمہ ہے، اللہ کرے آپ خیر وعافیت سے تشریف لے آئیں اور یہاں پھر رونق آجائے۔ مجھ بے کس اور بے بس کا سلام روضہٴ شریفہ پر عرض کردیں تو کرم ہوگا۔ انشاء اللہ! آپ کو اجازت بھی مل جائے گی کہ وہ اپنی امت کے حال پر بہت مہربان ہیں۔والسلام آپ کی بیٹی :شاہدہ سہارنپور۔“
والدہ مرحومہ شروع شروع میں حضرت شیخ کو ”والد صاحب“ کے تعظیمی لفظ سے مخاطب کرتی تھیں، لیکن آخر میں خصوصا وفات کے بعد ”بھائی جی“ کے محبت آمیز لفظ سے یاد کرنے لگی تھیں، حضرت کی وفات کے بعد والدہ صاحبہ کے شدت تاثر اور احساس کا یہ عالم ہوگیا تھا کہ آنسو ان کی پلکوں میں پوشیدہ رہتے تھے، اور حضرت کا نام آتے ہی وہ پلکوں سے نکل کر چہرے پر بہنے شروع ہوجایاکرتے تھے، وہ اپنی حیات کے آخری سالوں میں حضرت کا کوئی واقعہ اور کوئی تذکرہ بغیر آنسو بہائے سنانے پر قادر ہی نہیں رہی تھیں۔
شیخین جلیلین سے قلبی ربط وارتباط:
والدہ مرحومہ اوران کی چاروں بہنوں کا بچپن، ابتدائی نشوونما اور شادی وبیاہ یہ سب اس دور سے وابستہ ہے جب کہ دیوبند میں حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمدمدنی اور رائپور میں امام وقت حضرت مولانا شاہ عبدالقادر صاحب کے فیوض وبرکات اور رشد وہدایت کا ایک دریاموجزن تھا، ان دونوں مقدس وبابرکت ہستیوں کی مسلسل آمد ورفت چونکہ حضرت شیخ رحمة اللہ علیہ کے دولت کدہ پر ہوتی رہتی تھی، اس لئے ان سب بہنوں کو حضرت کے توسط اور واسطہ سے دعائیں لینے اور خدمت کرنے کے مواقع کثرت سے حاصل ہوتے تھے، اور خود حضرت کا معمول یہ رہاکہ وہ کسی بھی مسرت وخوشی یارنج وغمی کے موقع پر اپنی جانب سے خطوط لکھ کر ان دونوں بزرگوں کو ادعیہ صالحہ کی طرف متوجہ فرماتے رہتے تھے اورپھر سب کے جواب میں رشد وہدایت کی ان دونوں بارگاہوں سے مادی ہدایا وتحائف کے ساتھ دعاوٴں کی سوغات اوراوراد وظائف وتسبیحات جی لگاکر پڑھنے کی ہدایات بھی موصول ہوتی رہتی تھی اور اس کے نتیجہ میں دینی تربیت واصلاح کی راہیں کشادہ ہوتی چلی جاتی تھیں۔ان حضرات شیخین کی عنایات وشفقتوں اورفکری وقلبی توجہ وتعلق کا یہ عالم تھاکہ اگر صاحبزادیوں میں سے کوئی علیل ہوجاتی اورحضرت شیخ رحمة اللہ علیہ کی جانب سے اس کو معمولی علالت سمجھ کر دیوبند یا رائے پور خبر نہ کی جاتی تو اپنے ذرائع سے اطلاع پاتے ہی یہ حضرات سہارنپور تشریف لاکر سب سے پہلے عدم اطلاع کا شکوہ کرتے اور پھر مریضہ کے لئے دعائے صحت فرماتے ۔خود میری والدہ مرحومہ کے حوالہ سے حضرت شیخ الاسلام کا ایسا ہی ایک محبت آمیز عتاب کا واقعہ حضرت شیخ رحمة اللہ علیہ تاریخ کبیر میں اس طرح تحریر فرماتے ہیں!”آج ۵/ذی قعدہ ۱۳۷۶ھ/۱۴/جون ۱۹۷۵ء میں جمعہ کی صبح کو جب کہ زکریا صبح کی نماز کے بعد مسجد سے گھر پہنچا تو دیکھاکہ شاہدہ گھر کے صحن میں ایک دم کھڑی گرگئی، بے ہوش ہوگئی، بہت دیر میں ہوش آیا،۲۸/ذی قعدہ پنجشنبہ کی شام کو حضرت مدنی مع ریحانہ دفعة بلا اطلاع شاہدہ کی عیادت کے لئے آئے اور اطلاع نہ کرنے پر عتاب فرمایا، جمعہ کی شام کو واپس تشریف لے گئے“۔
قرب وفات کے اشارے:
طبیعت وصحت کی بہتری کے زمانہ میں جب کہ علالت کی کوئی علامت بھی ظاہر نہیں ہوئی تھی، متواتر کچھ ایسے واضح اشارے اور منامات سامنے آئے جن سے اندازہ ہوتا تھا کہ اب والدہ محترمہ کی زندگی کا چراغ زیادہ دن تک روشن نہیں رہ سکے گا، اور پھر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا کہ منامات اور اشارات آہستہ آہستہ واقعات اور مشاہدات بن کر سامنے آتے چلے گئے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کچھ عرصہ سے ان کی یہ کیفیت ہوچلی تھی کہ گھر میں جب بھی کسی کی موت وحیات کا تذکرہ چلتا تو بڑے وثوق سے کہہ دیا کرتی تھیں کہ ہم میاں بیوی میں پہلے میر انمبر آئے گا، اور پھر اس کی وضاحت اس طرح کرتیں کہ میری ساری بہنیں اپنے اپنے شوہروں کی زندگی میں ہی اللہ کو پیاری ہوئیں، پہلے آپا زکیہ گئیں پھر بھائی یوسف گئے، پہلے آپا ذاکرہ گئیں پھر بھائی انعام گئے، میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا کہ پہلے میں جاوٴں گی۔قرب وفات کی اطلاع کے طور پر متعدد منامات میں سے ایک منامی اشارہ تو یہ ہے کہ تقریبا ایک ماہ قبل اللہ کی ایک بندی نے خواب میں بہت خوبصورت سرخ رنگ کا قبہ نما ایک مکان دیکھ کر معلوم کیا کہ یہ کس کا ہے؟ تو جواب ملا کہ یہ شاہدہ کا ہے، دیکھنے والی نے اپنا یہ خواب صبح کو والدہ مرحومہ کو سنایا تو بے ساختہ بولیں، بس میرا تو قبہ تیار ہوگیا، میں تو اب جارہی ہوں۔ایک اشارہ اس طرح سامنے آیا کہ وفات سے قبل خواب دیکھاگیا کہ حضرت شیخ والدہ مرحومہ کے گھر کے سامنے سے گزر کر تشریف لے جارہے ہیں، خواب دیکھنے والی نے سلام مسنون کے بعد درخواست کی کہ گھر میں تشریف لے آئیں تو فرمایا:ابھی نہیں ! پچیس دن بعد آوٴں گااورپھر پورے پچیسویں دن والدہ مرحومہ نے وفات پائی۔اسی طرح مرض وفات میں ان کے دہلی پہنچنے کے دوسرے ہی دن دیکھاگیا کہ کوئی صاحب کہہ رہے ہیں کہ یہاں ان کو ان کی مٹی لے کر آئی ہے۔
علالت اور وفات :
والدہ محترمہ کو بفضلہ تعالیٰ زندگی بھر کوئی قابل فکر وتشویش عارضہ لاحق نہیں ہوا، صحت ہمیشہ صاف وشفاف رہی، چلنے پھرنے میں کسی قسم کی کوئی محتاجی بھی نہیں تھی، اعزہ واقارب کے گھر وں میں بے تکلف پیدل آیا جایاکرتی تھیں۔راقم سطور سے بقائمی ہوش وحواس ان کی آخری ملاقات ۱۹/ربیع الثانی ۱۵/اپریل بدھ میں مولانا مفتی خالد صاحب کے مکان پر بعد عصر مجلس درود شریف میں ہوئی، خاندان کی دیگر مستورات بھی اس میں شریک تھیں، اس وقت تک کسی خطرناک علالت کا کوئی اثر ان پر نہیں تھا․․․․․․․․․․․․تاہم شب میں کسی وقت بخارکی شدت کے ساتھ جسم پر ورم ہوکر سانس کی آمد ورفت میں دشواری محسوس ہوئی۔ ایک دن گھر پر رہ کر علاج ومعالجہ کیاگیا، ان کے قدیمی معالج ڈاکٹر محسن ولی سے دہلی میں رابطہ کرکے دوائیں تجویز کرالی گئیں، اس کے بعد سہارنپور کے مشہور معالج ڈاکٹر سنجیو کمار متل کے زیر علاج رہیں، اسی عرصہ میں دہلی سے مولانا زبیر الحسن صاحب مع اہلیہ وعزیزان مولوی زبیرالحسن ومولوی صہیب الحسن وغیرہ عیادت کے لئے بھی آئے، دودن تک کوئی فائدہ کی شکل نہ دیکھ کر ۲۰/اپریل /۲۴/ربیع الثانی دوشنبہ میں ایمبولینس گاڑی کے ذریعہ دہلی لے کر وہاں کے مشہور ومعروف ہسپتال ”رام منوہرلوہیا“میں بغرض علاج رکھاگیا، وہاں بھی تین یوم ایمرجنسی وارڈ میں رہ کر، آئی،سی یو، میں منتقل کردی گئیں، ڈاکٹر محسن ولی صاحب کو اللہ جل شانہ بے حد جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے اپنے تمام تعلقات واثرات استعمال کرکے علاج ومعالجہ میں کوئی کمی وکوتاہی نہیں ہونے دی، اس عرصہ میں صحت میں برابر اتار چڑھاوٴ ہوتارہا، جس کے لئے بہت سی تدبیریں اختیار کی جاتی رہیں، لیکن ہرتدبیر پر تقدیر غالب آتی گئی، یہاں تک کہ ۶/جمادی الاولیٰ ۱۴۳۰ھ/۲/مئی ۲۰۰۹ء بروز ہفتہ․․․․․․․․․․․شام چار بجے داعی اجل کو لبیک کہہ کر عالم آخرت کو سدہار گئیں، اسی وقت جنازہ مرکز نظام الدین لایاگیا اور وہیں بعد نماز مغرب غسل وتکفین ہوکر بعد نماز عشاء ۶۴/کھمبہ میں حضرت مولانا محمد افتخار الحسن صاحب زیدمجدہ کے حکم پر مولانا زبیر الحسن صاحب کاندھلوی کی زیر امامت نماز جنازہ ہوکر بستی حضرت نظام الدین کے قدیمی قبرستان پنج پیران میں صبح قیامت تک کے لئے بطور امانت سپرد خاک کردی گئیں۔سہارنپور، کاندھلہ، جلال آباد وغیرہ سے تمام اعزہ بروقت پہنچ گئے تھے، حضرت مولانا افتخار الحسن صاحب کاندھلہ سے، حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب سہارنپور سے اپنے ضعف وعلالت طبع کے باوجود تشریف لے آئے تھے۔ (رحمھااللّٰہ تعالٰی رحمة واسعة اللّٰھم اغفرلھا وارحمھا وادخلھا فی الجنة)۔ہندوستان کے تقریبا تمام شہروں اور صوبوں میں اہل تعلق ومحبت نے اپنے اپنے مدارس اورتبلیغی مرکزوں اور مسجدوں میں جمع ہوکر یٰسین شریف اور کلمہ طیبہ وغیرہ بڑی مقدار میں پڑھ کر والدہ مرحومہ کو اس کا ثواب بخشا۔ حرمین شریفین ،نیز ہندوستان، انگلینڈ ، افریقہ، زامبیا، پاکستان، بابڈوز وغیرہ میں ہزار مرتبہ سے زائد کلام پاک ختم ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں، ہندوستان میں صرف ایک ہی صاحب نے اپنی نگرانی میں تیس کلام پاک اور مدینہ منورہ میں ایک ہی صاحب نے اپنی نگرانی میں چالیس کلام پاک ختم کئے اور کرائے، جنوبی افریقہ میں اسلامی ریڈیو کی نشریات میں ان کے انتقال کی خبر آجانے پر بڑی تعداد میں لوگوں نے تعزیتی فون کئے اور قرآن پاک ختم کئے۔
عادات ومعمولات:
روز مرہ کی متعینہ تلاوت قرآن پاک اورنوافل وغیرہ کے ساتھ درود شریف، منزل، حزب الاعظم اورحصن حصین کا خصوصی اہتمام تھا ،تمام گھروں میں گاہ بگاہ ہونے والے درود ناریہ ، درود تنجینا اور قرآن پاک وغیرہکے ختمات میں اہمیت کے ساتھ شرکت کرتیں۔ اپنے گھر میں بھی وقتا فوقتا ان ختمات کا اہتمام کرکے امت محمدیہ مرحومہ پر آنے والے مصائب کے خاتمہ کے لئے دعائیں کرتیں۔ہمارے لمبے چوڑے خاندان میں ہونے والی شادیوں اور تقریبات میں بہتر سے بہتر تحفہ بھیجنے کی کوشش کرتیں، کبھی کبھی خاموشی سے معلوم بھی کرالیتیں کہ تمہارے یہاں کی شادی میں میرا ارادہ فلاں سامان یا فلاں زیور بھیجنے کا ہے، اگر یہ دلھن کے پاس موجود ہے تو ایسی دوسری چیز کوئی اور بتلادو جو اس کے پاس نہ ہو۔ماہ رمضان المبارک کی راتوں میں تمام شب بیدار رہ کر تراویح اور نوافل اور تلاوت قرآن پاک کا آخر تک وہی معمول رہا جس کا تذکرہ حضرت نے اپنی تالیف فضائل رمضان میں کررکھاہے، اپنے چھوٹے چھوٹے نواسوں اور پوتوں سے باری باری نوافل پڑھواتیں اور خود اس میں شریک رہتیں۔
ماہ رمضان المبارک میں عموما عزیز ان مولوی حافظ محمد سہیل سلمہ یا مولوی حافظ محمد ساجد سلمہ ان کو تراویح میں کلام پاک سنایاکرتے تھے، اگر کبھی یہ دونوں عمرہ پر ہوتے یا شہر کی مسجد میں تراویح کے لئے متعین ہوجاتے تو پھر ان ہی کے ذمہ ہوتا تھا کہ وہ گھر کے لئے کسی اچھے سے حافظ کا انتظام کریں، اور والدہ صاحبہ مرحومہ پورے رمضان اس کی سحری وافطاری اور چائے کا نظم اپنے ذمہ رکھتیں، ختم قرآن پاک پر مٹھائی منگواتیں، حافظ کو نقد انعام کے ساتھ عید کے لئے نئے کپڑوں کا ایک جوڑا اس کے لئے تیار کراتیں۔راقم سطور کی یادداشت میں ان کا کوئی رمضان ایسا نہیں ہے جو بغیر حافظ اور تراویح کے گذرا ہو۔
ایک اہم بات (معلوم نہیں کہ اس کا لکھنا مناسب بھی ہے یا نہیں) یہ تھی کہ مخدومنا حضرت شیخ رحمة اللہ علیہ سے رابطہ منامیہ بڑا قوی اور مضبوط تھا، بہت کثرت سے آپ کو خواب میں دیکھتیں اور ملنے والی ہدایات کی روشنی میں فیصلہ کرلیاکرتی تھیں، خود راقم سطور کو جامعہ مظاہر علوم کے سخت مشکل اورجاں گداز معاملات میں اس کا بارہا تجربہ ہوا کہ صبح کو بلاکر کہہ دیا کرتی تھیں کہ رات بھائی جی آئے تھے، وہ یہ فرماگئے ہیں، کبھی اس طرح کہتیں کہ بھائی جی فرمارہے تھے کہ شاہد سے کہو فلاں جگہ کی خیر وخبر لے، وہاں گڑ بڑ ہورہی ہے۔
والدہ صاحبہ مرحومہ کو حق تعالیٰ شانہ بے حد جزائے خیر عطا فرمائے، جنت کی بہاریں اور نعمتیں مرحمت فرمائے کہ انہوں نے ہم سب بہن بھائیوں کی بہتر سے بہتر طور پر تربیت ونگرانی فرمائی، ہمارے معاملات ومسائل کو بہت شوق اور ذوق کے ساتھ حل فرمایا، موقع بموقع بہتر سے بہتر نصیحتیں کرکے ہمارے شعور وآگہی کو پختگی بخشی، چنانچہ یہ احقر جب کبھی اپنے ماحول اور گرد وپیش کی شاہ خرچیوں یا فضول خرچیوں پر اپنے چھوٹوں کو تنبیہ کرتا تو وہ بہت ہنس کر یہ جملہ کہہ دیاکرتی تھیں کہ!
”شاہد تم اور زبیر دور فقر کی پیداوار ہو، جب کہ یہ سب دور شاہی کی پیداوار ہیں، اس لئے تم دونوں کے اور ان سب کے مزاج میں فرق ہے“۔
العظمة للہ کہ ساری عمر ان کی محبت اور شفقت ہم بہن بھائیوں اور عمر میں بڑے ہونے کے اعتبار سے راقم سطور کی سب سے زیادہ خدمت کرتی رہی، لیکن آہ کہ آج اس کے سوا کیا کہاجائے، اور کیا لکھاجائے کہ!
عمر بھر تیری محبت میری خدمت کرچکی
میں تیری خدمت کے قابل جب ہوا تو چل بسی



