زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰١۲ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

چند اہم اسلامی آداب !

چند اہم اسلامی آداب (۱۰)

صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:
” یایہا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ، ولا تجہروا لہ بالقول کجہر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لا تشعرون ، ان الذین یغضون اصواتہم عند رسول اللّٰہ اولئک الذین امتحن اللّٰہ قلوبہم للتقویٰ لھم مغفرة واجر عظیم۔“ (الحجرات:۲،۳)
ترجمہ:۔”اے ایمان والو! تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے بلند مت کیا کرو، اور نہ ان سے ایسے کھل کر بولا کرو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے سے کھل کر بولا کرتے ہو۔ کہیں تمہارے اعمال برباد ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔ بے شک جو لوگ اپنی آوازوں کو رسول اللہ کے سامنے پست رکھتے ہیں،یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب کو اللہ نے تقویٰ کے لئے خالص کردیا ہے، ان لوگوں کے لئے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔“
تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، اس آیت کے اترنے کے بعد، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات عرض کرتے تو اس طرح بات کرتے جیسے کوئی سرگوشی کرنے والا بات کرتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بات دہرانے کے لئے ارشاد فرماتے۔ الغرض حضرت عمر رضی اللہ عنہ اتنی آواز پست کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھنے کے لئے ان سے پوچھنا پڑتا۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب” تاریخ الاسلام“ :۴/۱۹۷۔ میں جلیل القدر فقیہ اور تابعی امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں عبداللہ بن عون سے روایت نقل کی ہے کہ امام محمد بن سیرین جب اپنی والدہ محترمہ کے پاس ہوتے تو دیکھنے والاجو ان کو جانتا نہ ہو ،یہ سمجھتا کہ وہ بیمار ہیں ۔ کیونکہ والدہ کے سامنے وہ اپنی آواز بہت پست کرتے تھے۔
نیز حافظ امام ذہبی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب”تاریخ الاسلام“ : ۶/۲۱۳، میں امام ابن سیرین کے شاگرد ایک بڑے امام عبداللہ بن عون بصری رحمہ اللہ کے بارے میں لکھا ہے کہ ایک بار ان کی والدہ محترمہ نے ان کو بلایا ، تو جواب میں ان کی آواز والدہ کی آواز سے زیادہ اونچی ہوگئی۔ تو وہ بہت گھبرائے ،کہ یہ ان سے گناہ ہو گیاہے۔اس لئے فوراًدو غلام آزاد کردیے۔
کوفہ کے مشہور قاری عاصم بن بہدلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ایک بار خلیفہ راشد عمر بن عبدالعزیز کے پاس حاضر ہوا، تو ایک شخص ان کی مجلس میں بلند آواز سے بولنے لگا تو حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا: ایسا مت کرو، ایک شخص کے لئے اتنا کافی ہے، کہ وہ گفتگو کے وقت اتنی آواز بلند کرے ، جتنی اسکا بھائی یا ہم مجلس سن سکے۔ (تہذیب تاریخ دمشق لابن عساکر لعبد القادر بدران:۷/۱۲۳) ادب :۳۰
مجلس کے آداب میں یہ بھی ہے کہ جب آپ کا ہم مجلس آپ کو کوئی ایسی خبر سنا رہا ہے ، جس کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ وہ آپ کو معلوم نہیں ،حالانکہ آپ کو معلوم ہے تو آپ یہ کہہ کر اسے شرمندہ نہ کریں کہ مجھے تو یہ بات معلوم ہے اور نہ ہی اس کی بات میں دخل اندازی کریں۔
جلیل القدر تابعی امام عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، کبھی ایک نوجوان مجھے کوئی حدیث سناتا ہے ، تو میں اسے خوب غور سے سنتا ہوں۔گویا کہ میں اسے جانتا نہیں، حالانکہ اس کی پیدائش سے پہلے میں اس حدیث کو سن چکا ہوتا ہوں۔
خالد بن صفوان تمیمی ،جو خلیفہ راشد عمر بن عبدالعزیز اور خلیفہ ہشام بن عبدالملک کے ہم نشین تھے ،فرماتے ہیں:جب آپ کسی محدث کو دیکھیں کہ وہ ایسی حدیث بیان کررہا ہے جو آپ سن چکے ہیں،یا ایسی خبر سنا رہاہے جو آپ کو معلوم ہے تو آپ اس میں شریک نہ ہوں ،یعنی حاضرین پر یہ ظاہر نہ کریں کہ آپ اسے جانتے ہیں، کیونکہ ایسا کرنا آپ کے لئے خفت کا باعث ہے اور ادب کے خلاف ہے۔
جلیل القدر امام عبداللہ بن وہب قریشی مصری ،جو امام مالک اور امام لیث بن سعد اور امام ثوری وغیرہ کے صحبت یافتہ ہیں ،فرماتے ہیں :بعض دفعہ میں کسی شخص سے ایسی حدیث سنتا ہوں جو میں نے اس وقت سے سنی ہو تی ہے، جب کہ اس کے ماں باپ آپس میں ملے بھی نہ تھے، یعنی اس شخص کی ولادت اور وجود سے پہلے ، تو میں اسے اس توجہ اور غور سے سنتا ہوں ،جیسے میں نے اسے پہلے نہیں سنا تھا۔
حضرت ابراہیم بن جنید فرماتے ہیں : ایک حکیم ،عقلمند نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: جیسے تم گفتگو کرنے کے آداب سیکھتے ہو، ایسے ہی گفتگو سننے کے آداب سیکھو ،اور گفتگو سننے کے آداب یہ ہیں کہ آپ گفتگوکرنے والے کو پہلے اپنی پوری بات کرنے دیں، اور پوری توجہ اور یکسوئی سے اس کی بات سنیں، اور اگر اس کی گفتگو میں آپ کو کچھ معلوم ہے تو آپ اس کا اظہار نہ کریں۔اس مناسبت سے حافظ خطیب بغدادی نے اس مقام پر ایک شعر کہا ہے:
ولا تشارک فی الحدیث أہلہ
وان عرفت فرعہ واصلہ
یعنی جو شخص گفتگو کررہا ہے اس میں تم شریک مت ہو، اگر چہ آپ کو اس کی اصل اور تفصیل معلوم ہو۔
ادب :۳۱
مجلس کے آداب میں یہ بھی ہے کہ جب گفتگو کرنے والے کی گفتگو میں آپ کو کوئی اشکال ہو تو آپ اس کے اظہار میں جلدی نہ کریں،بلکہ صبر کریں اور متکلم کو اپنی بات پوری کرنے دیں۔ جب وہ اپنی بات مکمل کرلے تو اب آپ نہایت ادب واحترام اور نرمی اور عمدہ تمہید کے ساتھ اس سے سوال کریں، لیکن گفتگو کے درمیان ہر گز اس کی بات کو نہ کاٹیں۔کیونکہ یہ ادب کے خلاف ہے ،اور اس سے دلوں میں ناپسندیدگی کے جذبات پیدا ہو تے ہیں، ہاں اگر مجلس تعلیم اور تدریس کی ہے تو اس کی شان دوسری ہے، لیکن اس میں بھی بہتر یہ ہے کہ جب استاذ جملہ پورا کرلے ،یا کسی معنی اور مسئلہ کی شرح پوری کرلے تب سوال کریں ،اور اس میں بھی علمی مناقشہ میں ادب اور سمجھداری ملحوظ رہنی چاہئے۔ خلیفہ مامون الرشید کا قول ہے:”العلم علی المناقشة ،اثبت منہ علی المتابعة۔“یعنی وہ علم جو مناقشہ کے بعد حاصل ہو تا ہے ،وہ زیادہ پائیدار ہو تا ہے اس علم سے جو صرف سننے سے حاصل ہو۔مشہور عالم ادیب موٴرخ خلیفہ ابو جعفر منصور ،مہدی ، ہادی اور رشید کے ہم مجلس ہیثم بن عدی رحمہم اللہ نے فرمایا: حکماء کا قول ہے: بُرے اخلاق میں سے یہ بھی ہے کہ دوسرے کی گفتگو میں اپنی گفتگو چھیڑ دینا، اوردوسرے کی بات کاٹتے ہوئے دوران گفتگو اعتراض کردینا ۔
ادب :۳۲
مجلس کے آداب میں یہ بھی ہے کہ اگر آپ کے ہم مجلس سے سوال پوچھا جائے توآپ جواب دینے میں پہل نہ کریں، بلکہ جن سے پوچھا گیا ہے، اسے جواب دینے کا موقع دیدیں۔
اور جب تک آپ سے پوچھا نہ جائے آپ خاموش رہیں،۔ اس سے آپ کا ادب ،آپ کی شخصیت اور آپ کا مقام بلند ہوگا، جلیل القدر تابعی مجاہد بن جبر نے فرمایاکہ لقمان حکیم نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہو ئے فرمایا: خبر دار !اگر کسی دوسرے سے پوچھا جائے اور تم اس طرح جو اب دینے لگوکہ جیسے تمہیں مال غنیمت یا کو ئی تحفہ مل گیا ۔ پس اگر تم نے ایسا کیا ،یعنی جواب دیا تو تم نے جواب دینے کی تحقیر کی ،اور سائل کو بوجھل کیا اور بیوقوفوں کو اپنی بیو قو فی اور بے ادبی پر مطلع کیا ۔
مشہور محدث فقیہ حنبلی ابن بطہ فرماتے ہیں کہ : میں امام ابو عمر زاھدحافظ علامہ لغوی محمد بن عبد الواحدبغدادی جو ثعلب کے لقب سے مشہور ہیں ۔کی مجلس میں بیٹھا تھا کہ ان سے ایک مسئلہ پوچھا گیا ،تو میں نے جلدی کی اورسائل کو جواب دے دیا، تو ابو عمر زاھد میری طرف متوجہ ہوئے اور مجھے یہ کہتے ہوئے شرمندہ کردیا:کیا تم چھپی ہو ئی فضولیات کو جانتے ہو،یعنی تم فضولی ہو۔
ادب :۳۳-
ایک مختصرسی نصیحت اپنی پیاری مسلمان بہن کو کرنا چاہتا ہوں:جب آپ اپنے گھروالوں سے یااپنی بعض سہیلیوں سے ملاقات کاارادہ کریں تواس کے لئے مناسب دن اورمناسب وقت کاخیال رکھیں۔ابتداء اور انتہاء دونوں اعتبار سے ،کیونکہ بعض اوقات ایسے ہوتے ہیں جن میں ملاقات اچھی سمجھی جاتی ہے اوربعض اوقات ایسے ہوتے ہیں جن میں ملاقات مناسب نہیں ہوتی ،چاہے وہ رشتہ دار یادوست ہی کیوں نہ ہوں۔ملاقات میں آپ کی حالت ایک ہلکے عمدہ اور پسندیدہ سائے کی ہونی چاہئے ،جس سے نہ دوسرے پر بوجھ پڑے اور نہ وہ تنگ ہوں،نہ فضول باتیں ہوں اور نہ لمبی رام کہانیاں ہوں، بلکہ یہ ملاقات صلہ رحمی کے لئے ہو اور دوستی اوررشتہ داری کی تازگی کے لئے ہو۔ملاقات جب مختصر اور محبت بھری ہو تو وہ پسندیدہ شمار ہوتی ہے،اور جب طویل اور تنگ کرنے والی ہو تو بھاری سمجھی جاتی ہے، جس میں گپ بازی ہوتی ہے اور اچھی باتوں کے علاوہ بے کار گفتگو تک بات جا پہنچتی ہے ۔جلیل القدر تابعی حضرت محمد بن شہاب زہری رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : جب مجلس لمبی ہو جائے تو شیطان کا اس میں حصہ ہوتا ہے۔آپ کی گفتگو ملاقات کے وقت ساری کی ساری یا زیادہ تر ایسی ہو نی چاہئے جس میں فائدہ اور نفع ہو، اوروہ غیبت،چغلی ،اور بے ہو دگی سے دور ہو، اور ایک مسلمان عقلمند خاتون وقت کا خیال کرتے ہوئے ملاقات اور گفتگو کرے۔
ادب :۳۴-
جب آپ ایسی جگہ جائیں جہاں کچھ لوگ سوئے ہوئے ہو ں، دن ہو یا رات ، تو ان کا خیال کیجئے، اور اپنی حرکت اور آواز میں نرمی اختیار کریں ،اور اس جگہ میں داخل ہونے یا نکلنے کے وقت ایسا شور نہ مچائیں جس سے ان پر گراں گزرے ،بلکہ نہایت نرمی اور لطف کا مظاہرہ کریں،کیونکہ آپ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان توسن چکے ہیں:”من یحرم الرفق یحرم الخیر کلہ۔“یعنی جو نرمی سے محروم ہوا وہ ہر ایک خیر کے کام سے محروم ہوا۔جلیل القدر صحابی مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لئے آپ کے حصہ کا دودھ رکھ دیتے تھے جب آپ رات کو تشریف لاتے تو اتنی آواز سے سلام فرماتے کہ جاگنے والا سن لیتا اور سوتا ہوا نہ جاگتا ( مسلم اور ترمذی)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو تہجد کے لئے اُٹھتے تو ایسی آواز سے قرآن پڑھتے کہ جاگنے والا لطف اندوز ہوتا اور سونے والا نہ جاگتا۔