مسبوق کے لیے ثناء اور سورۂ فاتحہ کے پڑھنے کا حکم !
minhajahmad پوچھتے ہیں:
سوال
محترم مفتی صاحب !السلام علیکم !
1۔اگر مجھ سےشروع کی دورکعتیں جماعت کی چھوٹ جائیں توکیاکوئی اورصورت سورت سورہ فاتحہ کے بعد پڑھ سکتے ہیں آخری دورکعتوں میں یا صرف سورہ فاتحہ پڑھیں گے ؟
2۔اسی طرح اگر مجھ سے شروع کی 3 رکعتیں رہ جائیں؟
3۔چار رکعت والی جماعت میں کیا ہم تیسری اور چوتھی رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھیں گے یا نہیں ؟
جزاک اللہ
سائل : منہاج احمد
جواب
1۔ابتدائی دورکعتیں چھوٹ جائیں تو امام صاحب سلام پھیر دیں اور مقتدی کھڑا ہوجائے اور ابتدائی دورکعتوں کی ادائیگی کرے جس میں ثناء،سورۂ فاتحہ ،اور سورۃ سب کو پڑھا جائے گا۔2۔اسی طرح تین رکعت رہ جائیں تو ادائیگی کا یہی طریقہ ہے۔البتہ تیسری رکعت میں صرف سورۂ فاتحہ کو پڑھا جائے گا۔
3۔مسنون عمل یہی ہے کہ فاتحہ کو پڑھا جائے گا ۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں



