مالِ تجارت پر زکوٰة کا حکم!
qcbcopier پوچھتے ہیں:
سوال
محترم مفتی صاحب !السلام علیکم !
1۔ مالِ تجارت پرزکوٰة مالِ خرید پر دیجائے گی یا متوقع مال فروخت پردیجائے گی ؟
2۔کچھ مال ادھارپر لیا ہواہے جس کی ادائیگی کرنی ہے جسے حرفِ عام میں کریڈٹ(ادھار) کہتے ہیں اس مال پر بھی زکوٰة ہوگی یا نہیں؟
3۔کچھ مال ادھار پر یعنی کریڈٹ پر دیا ہواہے جس کی رقم آنی ہےاس پرزکوٰة دینی ہوگی اگرہاں کیسے ؟
4۔ کچھ لوگوں پر کئی سالوں سے رقم واجب الاداء ہے مگر وہ ادا نہیں کررہے ہیں اور نہ ہی انکار کرتے ہیں اس پرزکوٰة دینی ہوگی، اور کیسے ؟
جزاک اللہ
سائل : Qcbcopier
جواب
1۔مال پر زکوٰة کی قیمتِ فروخت پردی جائے گی نہ کہ قیمتِ خرید پر ۔2۔قیمتِ فروخت کا اندازہ کرے اس سے قرض منھا کیا جائے بقیہ پر زکوٰة دیجائے ۔
3۔زکوٰةواجب ہے البتہ ادائیگی وصولی کے بعد واجب ہوگی ہاں جتنے سال یہ رقم مقروض کے پاس رہی اتنے سالوں کی زکوٰةلاگو ہوگی۔
4۔ مقروض انکار نہیں کرتےلیکن ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں تو ایسے قرض پر زکوٰة واجب ہے البتہ ادائیگی وصولی تک مؤ خر کرسکتے ہیں۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں



