شرعی ہبہ کے بعد میراث کا حکم !
سوال
محترم مفتی صاحب !السلام علیکم !
میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ میرے نانانے دو شادیا ں کیں ،پہلی بیوی سے ایک بیٹی پیدا ہوئی جب کہ دوسری بیوی سے پانچ اولاد پیدا ہوئیں ، میرے نانانے اپنی پہلی بیوی کوگھر کا ایک حصہ لے کر دیا اور کہا کہ یہ آپ کا ہو احق مہر میں ۔ اس کے بعد میری نانی نے اپنا حصہ اپنی بیٹی کو لکھ کر دیدیاتو کیا اس حصہ میں دوسری بیوی کی اولاد حق دار ہوسکتی ہے کہ نہیں؟ جب کہ میرے نانااورنانی وفات پاگئے ہیں،اس سوال کا جواب دے کر شفقت فرمائیں۔
جزاک اللہ
سائل : آصف جہانزیب
جواب
صورت مسئولہ میں اگر نانا کی پہلی بیوی نے ہبہ کی شرائط کی رعایت کرتے ہوئےاپنا حصہ بیٹی کو دیا ہے تو وہ اس کی مالک بن گئی ہے،ناناکی دوسری بیوی کی اولاد کا اس میں حصہ نہیں، شرح المجلہ میں ہے :یملک الموھوب لہ الموھوب باالقبض
(شرح المجلہ للاتاسی،المادہ۸۶ ۳/۱۸۱ ط:رشیدیہ)
۱۔پہلی نانی نے اپنی بیٹی کو درست اور مکمل قبضہ نہ دیا ہو۔
۲۔نانی کا انتقال نانا سے پہلے ہو گیا ہو ، اگر یہ دوشرطیں پائی جائیں تو مذکورہ حصے میں کچھ بطورِ میراث نانا کو ملے گا جو نانا کے انتقال کے بعد ان کی تمام اولاد میں تقسیم ہو گا۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں



