زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰۱۰ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

زکوٰة کی ادائیگی کے لئے سال مکمل ہو نے کا مطلب

Zil-e-Subhan Malik پوچھتے ہیں: 

سوال

محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
 میر اسوال یہ ہے کہ مجھے ایک مولانا صاحب سے یہ پتہ چلا ہے کہ زکوٰةۃ ادا کرنے کے لئے چاند کی ایک تاریخ منتخب کرنا ضروری ہے جس پر آپ ہر سا ل زکوٰة دیا کریں  اور اس تاریخ پر آپ کے پاس جتنا مال ہو اس پر زکوٰةۃ کا حساب کریں مال کو ایک سال ہو نا ضروری  نہیں ہے برائے مہربانی مجھے بتائین کہ اس قسم کا کوئی طریقہ حدیث اور سنت میں موجود ہیں؟

شکریہ

سائل :ظل سبحان ملک

جواب

واضح رہے کہ زکوٰةۃ کی ادائیگی قمری سال کے اعتبار سے واجب ہو تی ہے، اس لئے مذکورہ عالم دین کا یہ فرمانا درست ہے کہ چاند کے حساب سے تاریخ متعین کرنا ضروری ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ قمری سال شمسی سال سے دس دن چھوٹا ہو تا ہے، جو شخص شمسی سال کی تاریخ زکوٰةٰۃ کے لئے مقرر کرے  اسے چاہئیے کہ وہ یا تو دس دن پہلے زکوٰۃ نکالے یا دس دن کی زیادہ زکوٰةوٰۃ ادا کرے ۔ "مال کو ایک سال ہو نا ضروری نہیں" اس کا مطلب ہے سال کے اول و آخر میں اگر نصاب پورا ہے تو پھر یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کونسا مال کب حاصل ہوا ، ہر ہر شئ اور ہر ہر مال پر پورے سال گذرنا شرط نہیں۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں