زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰١۲ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

غیر مسلم کے ساتھ کھانا کھانے کا حکم

KHALID ABBASI پوچھتے ہیں: 

سوال

محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
ہم لوگ یہاں سعودی عرب میں جس کمپنی میں کام کرتے ہیں وہاں غیر مسلم (ہندو اور عیسائی بھی) کام کرتے ہیں۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ غیر مسلم کے ساتھ کھانا پینا کیسا ہے؟
بعض کہتے ہیں کہ حرام ہے، جب کہ بعض کہتے ہیں مکروہ ہے خاص طور پر ہندو کے ساتھ کھانا پینا کیسا ہے؟
براہ مہر بانی تفصیلی جواب عنایت فرمائیں ، تاکہ ہمارا مسئلہ حل ہو۔

جزاک اللہ

سائل :خالد عباسی

جواب

غیر مسلم بھی انسان ہیں جب ہاتھ اور منہ پر ظاہری نجاست نہ لگی ہو تو ان کے ساتھ کھانا کھانے میں کوئی حرج نہیں خواہ وہ غیر مسلم ہندو ہو یا عیسائی یا کچھ اور. البتہ ایسا اختلاط جس سے دینی حمیت ختم ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر ایسے کفار سے میل جول رکھتے اور ان کے ساتھ کھانے پینے سے اختیاط بہتر ہے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں