زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰۱۰ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

وراثت کی غیر شرعی تقسیم کا ذمہ دار کون ؟

amkhan پوچھتے ہیں: 

سوال

محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
معلوم یہ کرنا ہے کہ میری والدہ کے دو بھائی ہیں جن میں سےایک میری والدہ سےبڑے ہیں اور دوسرے میری والدہ سے چھوٹے ہیں یعنی تین بھائی بہن ہیں ۔میرےنانانےاپنی وراثت میں دوپلاٹ میری نانی کے نام کردئیے تھےجنہیں میری نانی نے اپنے انتقال سے پہلے اپنے دوبیٹوں(یعنی میرے ماموں) کے نام کردیاتھا ۔
ان دوپلاٹوں میں سے ایک پلاٹ 400گز پر مشتمل ہے جبکہ دوسرا پلاٹ 80 گز پر مشتمل ہے، جن میں سے ایک پلاٹ (80گز والا)میرے ماموں نے فروخت کردیا تھا آج سے 7سال پہلے 8لاکھ روپے میں ، جس کی رقم انہوں نے دوسری جگہ پراپرٹی میں لگادی ۔
جبکہ دوسرا پلاٹ جو کہ 400گز پر مشتمل تھا اس پر میرے ماموں نے ڈبل اسٹوری گھر بنالیاجس میں ان کی فیملی رہائش پذیر ہے ،جس کی موجودہ قیمت 50لاکھ سے 65لاکھ روپے ہے۔
اب میرےدونوں ماموں چاہتے ہیں کہ میری والدہ کو وراثت میں سے حصہ دیا جائے ، جو کہ میری والدہ کا حق بنتا ہے۔لیکن میرے ماموں تقسیم کی مالیت آج سے 40/30 سال پرانی لگا رہے ہیں جس وقت یہ پلاٹ ان کے نام کیے گئے تھے جس حساب سے اس کی قیمت بہت کم بنتی ہے ۔
میری گزارش یہ ہے کہ ازراہِ کرم قرآن و سنت کی رشنی میں اس کا حل بتائیں کہ میری والدہ کا جو حصہ بنتا ہے وہ موجود ہ قیمت کے حساب سے لگایا جائے گا یا اس وقت کے حساب سے لگا یا جائے گا جس وقت یہ پلاٹ میری نانی نے میرے ماموؤں کے نام کیا تھا ؟
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے ،آمین۔

جزاک اللہ

سائل :عبدالموئید خان

جواب

اگر سائل کے ماموں مذکورہ پلاٹوں پرشرعی وقانونی قبضہ حاصل ہوجانے کے باوجود سائل کی والدہ کوان کا شرعی حصہ دینا چاہتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے اس سے سائل کے نانا بھی شرعی تقسیم کے گناہ سے بری الذمہ ہوجائیں گے ۔ البتہ شرعی تقسیم کرنے کے لیے مذکورہ پلاٹوں کی موجودہ مالیت کا اعتبار ہوگا۔ بالخصوص جس پلاٹ کے ذریعہ مزید پراپرٹی خریدی گئی اوراس پرجتنا نفع ہواوہ ساری آمدنی بھی اصل کے ترکہ کی حیثیت سےتقسیم ہوگی اس پراپرٹی کی موجودہ مالیت میں سے سائل کی والدہ کو حصہ دیا جائے گا۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں