سوال کے آداب
danish ahmed پوچھتے ہیں:
سوال
محترم مفتی صاحب!السلام علیکم!
میرا دوسرا سوال آپ سے میرے ان دوستوں کے متعلق ہے جو بابر چودھری اور اس کے حواریین و پیروکار گلوکار نجم شیراز،اداکار فرحان علی آغا اور عمران وحید جیسے لوگوںکی دھمکیوںمیں آکر بابر چودھری کی تعلیمات سے انکار کرنے اور اپنی اصلاح کرنے سے ڈرتے ہیں۔
کیونکہ یہ شخص ہر اس شخص کوجو اپنی اصلاح کرنا چاہتا ہے ، اپنے پیروکاروں کے ذریعے انتہائی منفی قسم کے پروپیگنڈہ سے ہراساں کرتا ہے ، اور ہر ممکن طریقے سے اصلاح کرنے والے لوگوں کوڈراتا دھمکاتا ہے ۔
آپ سے میری گزارش ہے کہ میرے دوستوں کو بتائیں کہ وہ کس طرحاس شخص کے چنگل سے بچیں؟
جزاک اللہ
سائل :دانش احمد
جواب
اگر کسی معاملے میں واقعۃ شرعی نقطۂ نظر معلوم کرنا مقصود ہو تو افراد کے بجائے متعلقہ اشخاص کے افکاروخیالات کا حکم معلوم کرنا چاہئے۔اور جس فرد یا ادارے کے بارے میں شرعی حکم معلوم کرنا چاہیں تو اس ادارے کا نام لیے بغیر ان کے افکار بمع ثبوت کے دارالافتاء میں دستی جمع کرواکر یا بذریعہ ڈاک بھیج کر تشفی کرلینا بہتر ہے۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں



