مروجہ تکافل اور ایک استفسار کا جواب
Syed Kashif Mushir پوچھتے ہیں:
سوال
محترم مفتی صاحب !السلام علیکم !
میں آپ حضرات کا بےحد مشکورہوں کہ آپ نے مجھے اسلامک انشورنس کمپنی میں ملازمت کرنے کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوالوں کا جواب د یا۔
آپ کی طرف سے جواب موصول ہونے کے فوراًبعد میں نے پاک قطر تکافل کمپنی کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیں اوران کے ذریعے سے مجھے معلوم ہوا کہ حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم ہی اس کمپنی کے چئیرمین ہیں اورباوثوق ذرائع سے یہ بھی پتہ چلا کہ یہ کمپنی دارالعلوم کراچی کےنگرانی میں چل رہی ہے۔
برائے مہربانی ذیل میں کمپنی کی طرف سے جاری کیے جانے والے بروشر(معلوماتی کتابچہ)کی چند سطورملاحظہ ہوں :
’’پاک قطر تکافل کمپنی کی تمام اصطلاحات اور پروڈکس شریعہ بورڈ سے منظور شدہ ہیں‘‘
شریعہ بورڈ کے ذمےداران حضرات مندرجہ ذیل ہیں :
1.حضرت مفتی تقی عثمانی دامت برکاتہم (چئیرمین )
2.مفتی حسن کلیم (رکن)
3.ڈاکٹرعصمت اللہ (شریعہ ایڈوائزر)
میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ اگر یہ کمپنی ان حضرات کی زیرنگرانی چل رہی ہو تو ایسی صورت میں اس کمپنی میں ملازمت کرنا کیسا ہے؟
جزاک اللہ
سید کاشف مشہر
جواب
ہماری معلومات کے مطا بق مروجہ تکافل کمپنیاں،وقف اورتبرع کے نام پرروایتی بیمہ کاری کے اہداف ومقاصد کوپورا کرنے کی صرف ایک کوشش ہے،حقیقی معنوں میں تاحال وقف اور تبرع پر قائم نہیں ہوسکیں اس لیے ہم ایسی کمپنیوں کے منافع اورسہولیات کو ناجائز کہتے ہیں۔ہمارے علم کے مطابق ان کمپنیوں سے عملی طورپر وابستہ اہل علم بھی ان کے مکمل حلال اور جائز ہونے کے دعویدارنہیں ہیں اس لیے ہم کسی سائل یا مسلمان کو ایسی کمپنیوں میں ملازمت کرنے یا نفع اندوزکا مشورہ نہیں دیتےبلکہ اجتناب کرنے کا کہتے ہیں کیونکہ حلال و حرام کا مسئلہ ہے۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں



