انشورنس کمپنی میں ملازمت کرنے والے کرائے دارکا حکم
Syed Kashif Mushir پوچھتے ہیں:
سوال
محترم مفتی صاحبالسلام علیکم
میرا کرائے دار ایک انشورنس کمپنی میں ملازم ہے میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اس کی طرف سے جو کرایہ مجھے ملتا ہے کیا میرے لیے وہ کرایہ لیناحلال ہے یا حرام کیونکہ اس کی آمدنی کی بنیادانشورنس کمپنی سے ملنے والی تنخواہ ہے اگر وہ حرام ہے تو مجھے مشورہ دیجیے کہ میں اس کا کیا کروں؟ کیامیں ان پیسوں سےاپنے بل وغیرہ ادا کرسکتا ہوں ۔
جزاک اللہ خیرا
المستفتی : سید کاشف مشہر
جواب
انشورنس کمپنی کے ملازم کے ساتھ کرایہ داری کا معاملہ نہیں کرنا چاہیےبہتر یہی ہے کہ ان سے کہا جائے کہ وہ کرایہ کی مد میں ادائیگی کےلیے متبادل حلال رقم کا بندوبست کریں ۔کیونکہ اس صورت میں حرام مال کے منفی اثرات سے محفوظ رہنا مشکل ہو گا، تاہم مذکورہ رقم وصول کرکے اگر بلوں میں ادا کی جائے تو گنجائش ہو گی۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں



