محرم الحرام میں ایصالِ ثواب کی نیت سے تقسیم کی جانے والی چیزوں کا شرعی حکم
Abdul Mateen پوچھتے ہیں:
سوال
السلام علیکم !مفتی صاحب !
میں یہ مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ محرم الحرام میں کچھ لوگ کربلا کے شہیدوں کو ایصال و ثواب کی نیت سے چیزیں وغیرہ بانٹتے ہیں تو کیا یہ درست ہے
اور کیا ان چیزوں کو کھانا صحیح ہے ؟ جبکہ ان پر اللہ تعالیٰ کا نام پڑھ کر لوگوں کوکھلایا پلایا جاتا ہے اس نیت سے کہ ایصال و ثواب ہو، برائے مہربانی مفصل جواب عنایت فرمائیں ۔
المستفتی : عبدالمتین
جواب
حدیث شریف میں آتا ہے کہ بہترین صدقہ وہ ہے جو کسی جاندار کے بھوکے پیٹ کو سیر کرادے۔ یعنی کسی ذی روح کی شکم سیری کا انتظام صدقہ ہے اگر کوئی مسلمان کسی جاندار ، یا انسان کو کچھ کھلائے پلائے تو یہ نیک عمل ہے اس عمل پر ثواب کا مستحق ہے یہ ثواب اپنے لئے رکھنا چاہے، یا رفتگان کو پُہنچانا چاہے تودونوں باتین شرعا درست ہیں لیکن اس ایصال ثواب کے لئے کوئی وقت ، موسم، خاص مقدار اور مخصوص صورت شریعت سے ثابت نہیں ہے، پس جو مسلمان شہداء کربلا کے لئے ایصال ثواب کرنا چاہیں، انہیں معلوم ہو نا چاہیے کہ اس کے لئے محرم کی تخصیص شرعا و اخلاقا لازم نہیں کیونکہ ایصال ثواب کے لئے یہ مہینہ شریعت نے مقررنہیں کیا، اور شہداء کربلا کو جس طرح جس تعلق کے اظہار کے لئے محرم میں ایصال ثواب کیا جاتا ہے، اسی طرح سال کے بقیہ مہینوں میں بھی ہو نا چاہئے، تعلق و محبت کا تقاضا بھی یہی ہے، باقی شریعت کے مطابق ایصال ثواب کا کھانا نفلی صدقہ کے حکم میں ہوتا ہے اس کا کھانا صحیح ہے، شریعت کا مسئلہ یہی ہے۔باقی جو لوگ رسم و رواج اور مخصوص اعتقادات کے تحت کھانا کھلاتے اور بانٹتے ہوں تو اس کی تفصیل کے بارے میں ان کی رائے انہی سے معلوم کی جائے، واضح رہے کہ ہم فروعی اختلافی مسائل کوذرائع ابلاغ سے حتی الامکان دور رکھنے کی تلقین کرتے ہیں لہٰذا اس طرح کے سوالوں سے اجتناب فرمایا جائے ہاں ضروری دینی رہنمائی کے لئے جوابی لفافے کے ہمراہ دار الافتاء سے رجوع فرماسکتے ہیں۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں



