متعدی امراض کی حیثیت اور ان کا حکم
hafeezullah پوچھتے ہیں:
سوال
محترم مفتی صاحب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! کیا فرماتےہیں علماء کرام اور مفتیان دین درج ذیل مسئلہ کے بارے میں: اکثر وبیشتر یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ ڈاکٹر حضرات مریض کے متعلقین کو کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ کھانے پینے میں احتیاط رکھیں کیوں کہ بیماری ایک سے دوسرے کو لگ سکھتی ہے، اس کی حقیقت کیا ہے حالانکہ حدیث شریف کے مفہوم کے مطابق ایک شخص کی بیماری کسی دوسرے کو نہیں لگ سکتی ہے۔ ازراہ کرم شریعت مطہرہ کا اس بارے میں کیا حکم ہے اور درج بالا مسئلہ کا حل اور جواب کیا ہوگا؟جزاک اللہ احسن الجزاء
المستفتی : حفیظ اللہ
جواب
ج :۔ دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ درست ہیں، ذخیرۂ حدیث میں دونوں طرح کی حدیث موجود ہیں۔ دونوں کا بیان ، مختلف افکار کےلوگوں کی وجہ سے بظاہر مختلف ہے۔جہاں عقیدہ کے اعتبار سے کمزور لوگ ہوں اوروہ متعدی بیماری کےاثرات کو حقیقی طور پر اثرانداز ہونےکا خیال رکھتے ہوں اوراس قسم کی بیماری والےلوگوں سے ملنے کےبعد اتفاقی طور پر بیماری کے اثرات منتقل ہونے پر ان کےفاسد عقیدے کو تقویت ملنے کا اندیشہ ہو تو ایسے موقع پر اس طرح کے لوگوں کو شریعت بھی یہ حکم دیتی ہے کہ وہ موذی اور متعدی امراض والے لوگوں سے دور رہیں تاکہ ان کی بد عقیدگی میں اضافہ نہ ہو۔
جبکہ حقیقت میں کسی بیماری کا لاحق ہونا اورختم ہونا اور اس میں متعدی اثرات اور جراثیم کا موجود ہونا اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہی ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی حقیقی طورپراشیاء یا امراض کے اثرات کو پید ا کرنے والے ہیں کوئی بھی بیماری اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر مریض سے غیرمریض کی طرف منتقل نہیں ہوگی۔مؤخرالذکر حدیث کے مفہوم کا مصداق بھی یہی ہے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں



