زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰۱۰ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

میاں بیوی کے حقوق

hafeezullah پوچھتے ہیں: 

سوال

محترم جناب مفتی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اُمید ہے کہ آپ حضرات بخیروعافیت ہوں گے۔
انٹرنیٹ کی مدد سے فتوی کا حصول ہمارے لیے کافی سہولت کا باعث ہے اور ٹائم کی کمی اور دیگر مصروفیات کی بناء پر دارالافتاء میں حاضری نہیں ہوتی اسی بناء پر آن لائن فتوی کے حصول میں آسانی پیش آرہی ہے۔
میری شادی ۲۰۰۱ء میں ہوئی لیکن پانچ یا چھ مہینے کے بعد میری بیوی نے الگ گھر کے حصول کے لیے اپنا انداز بدلا میں نے دارلافتاء سے رجوع کیا کہ اس صورت میں کیا کیا جائے کیوں کہ وہ اپنے والد کے گھر جاکر کبھی چار ماہ، کبھی دس ماہ اور کبھی دو ماہ گزار جاتی اور ہم پھر لے آتے کیوں کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ یہ رشتہ ختم ہوجائے ۔
پھر تحفہ دلہن کتاب میں انہوں نے پڑھا کہ بیوی کے اوپر شوہر کے والدین بہن بھائیوں اور اس کے گھر کے دیگر افراد کی خدمت کرنا واجب نہیں، بندہ نے یہ بھی مان لیا اور کہا کہ ٹھیک ہے کہ آپ کے ذمہ نہیں لیکن یہ ایک معاشرتی تعلق ہے جو کہ کبھی ختم نہیں ہوتا اور ضرورت کے پیش نظر انسان ایک دوسرے کے کام آتا ہے، لیکن وہ اپنی ضد پر اڑی رہی۔
میں نے الگ مکان میں رکھا جو کہ ہمارے گھر کی آخری منزل پر ہے لیکن نہ بچوں کی ٹھیک دیکھ بھال نہ میرے ساتھ کوئی اچھا رویہ رکھتی ہے بلکہ ہر وقت ایک ذہنی پریشانی میں خود بھی مبتلا رہتی ہے اور مجھے بھی پریشان کردیا ہے۔
کچھ دن قبل بیمار ہوئی میں نے اپنی استطاعت کے مطابق خوب خدمت کی ہے اللہ کا فضل ہے کہ اب طبیعت ٹھیک ہے لیکن دوا نو ماہ تک جاری رہے گی ۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ کوئی تکلیف اس کو نہ ہو کھانا باہر سے لانا اور پھر اس کو راضی کرنا کہ کھالے اور دوا کا بار بار پوچھنا کہ کھائی یا نہیں، ایک عجیب حالت ہے۔ لیکن پھر بھی خوش نہیں اور اپنے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں لارہی۔ مجھے یہ بتائیں کہ جب اس کے ذمہ میرے والدین کی خدمت کرنا واجب نہیں، میرے بچوں کو کھلانا پلانا واجب نہیں، میرے کپڑے دھونا اور میرے لیے کھانا پکانا واجب نہیں تو پھر کیا حق رہ جاتا ہے کیا صرف ہمبستری کرنا میرا حق ہے؟
میں نے اس کے کھانے پینے میں کبھی کوئی کوتا ہی کرنے کی کوشش نہیں کی (الاماشاء اللہ)،وہ ایک محفوظ گھر میں موجود ہے جہاں اس کی عزت اور آبرو محفوظ ہے، اور اس کا بدن ڈھکا ہوا ہے ۔ اب آپ بتائیں کہ بندہ کیا کرے اور بندہ کا حق کتنا ہے اگر بندہ اس کے علاج معالجہ پر خرچ نہ کرے تو کیا عند اللہ گناہ گار ہوگا یا نہیں؟ کیوں کہ ابھی علاج پر تقریبا ۳۰۰۰۰ہزار روپے خرچ ہوئے جو کہ بندہ نے ادھار لے کر خرچ کیے ہیں اگر میرا حق نہیں بنتا تو پھر کیا ضرورت ہے اپنے آپ کو قرض کے بوجھ تلے دبانے کی۔
ازراہ کرم شریعت مطہرہ کی روشنی میں جواب دے کر مشکور فرمائیں

المستفتی :حفیظ اللہ

جواب

ج:۔سائل کی بیوی کا طرزعمل شریعت اسلامی اور اخلاق نبوی کے سراسر خلا ف ہے،گھریلو ذمہ داریاں نبھانا،ساس سسر اور بزرگوںکی خدمت کرنا یہ مسلمان معاشرے کا خاصہ ہے،یہی وجہ ہے کہ آج تک مسلمان خواتین کی طرف سے اس قسم کے اشکالات نہیں اٹھائے گئے۔سائل کی اہلیہ یا ان جیسی دیگر خواتین جو اس قسم کے مسائل کوبنیاد بناکرگھریلو ذمہ داریوںاور اخلاقی اقدار سے راہِ فرار اختیار کررہی ہیں،درحقیقت ان کا مقصد شریعت پر عمل کرنا ہرگز نہیں بلکہ اپنی بدمزاجی اوربداخلاقی کو شریعت کے کھاتے میں ڈالنے کے لیے ہوتا ہے۔ورنہ شریعت کا ایک وسیع باب اخلاق سے متعلق موجودہے۔ایک دوسرے کے کام آنا اپنے سے بڑوں کی خدمت کرنااور چھوٹوں پرشفقت کرنے کا شریعت نے باقاعدہ حکم دیاہے۔جس کے متعلق واضح احکامات موجود ہیں ایسی خواتین کو شریعت کے ان احکاما ت کی طرف بھی دیکھنا چاہئیے اور ان کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئیےکہ بنیادی ضرورتوں کے علاوہ ان کا اپنے شوہروں سے کوئی بھی مطالبہ شریعت کے خلاف ہے،یہاں تک کہ علاج معالجہ کا مطالبہ بھی نہیں کرسکتیں مگرشوہریہ سب کچھ انسانی ہمدردی اور اخلاقی ذمہ داری کے طور پر بجالاتے ہیں،لہٰذامیاں بیوی دونوں کوباہم مل جل کررہنا چاہئیے اور شرعی مسائل کے سمجھنے میں احتیاط سے کام لیتے ہوئے اعتدال کی راہ اختیار کرنی چاہئیے اسی میں دونوں کا فائدہ اور راحت ہے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں