زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰١۲ ماہنامہ بینات

بسم الله الرحمٰن الرحیم

قرض دی ہوئی رقم کی زکوٰۃ !

mrnaveedmalik پوچھتے ہیں: 

سوال

محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
کیا وہ رقم جو میں نے کسی کو قرض دی ہوئی ہے اس پر زکوٰۃ علیحدہ حساب کی جائیگی جب وہ واپس ملے گی یا جومیرے پاس دوسرانصاب موجود ہےاس کےساتھ ملاکرحساب کی جائے گی؟
پہلی صورت جو میں نےقرض دیاہے اس کی رقم ساڑھےباون تولہ چاندی سے کم ہےاورجومیرےپاس دوسرانصاب ہے اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی سے زیادہ ہے۔
دوسری صورت دیاہوا قرض اورپاس موجودنصاب دونوں ساڑھے باون تولہ چاندی سے کم ہیں لیکن دونوں کی ملائیں تومقدار ساڑھے باون تولہ چاندی تک بن جاتی ہے۔

جزاک اللہ

سائل : نوید ملک

جواب

جورقم قرض کےطورپرکسی کو دی ہوئی ہے اگروہ تنہایادوسرے موجود رپوں یاسونا یا چاندی یا مال تجارت کے ساتھ مل کر نصاب کے برابریا اس سے زائدہے توقرض وصول ہونے کےبعدلازم ہوگا، اگرقرض وصول ہونےسے پہلے زکوٰۃ ادا کریگا توزکوٰۃ ادا ہوجائے گی، وصول ہونے کے بعدگذشتہ ادا کردہ زکوٰۃ دوبارہ دینا لازم نہیں ہوگی۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں