زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰١۲ ماہنامہ بینات

بسم الله الرحمٰن الرحیم

طلاق مغلظہ اور غیرمغلظہ میں نکاح ثانی کے بعد بغیررخصتی کے شوہراول سے دوبارہ نکاح !

Saadia پوچھتے ہیں: 

سوال

محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
ایک عورت کا نکاح ہوا اوربغیر رخصتی وملاپ کے اس کو دویاتین طلاقیں ہوگئی پھر دوسرے مردسےنکاح ہوااس سے بھی رخصتی ملاپ کے بغیرہی طلاق ہوگئی، اب وہ عورت پہلےشوہرسے نکاح ہوا اس سے بھی رخصتی ملاپ کے بغیرہی طلاق ہوگئی اب وہ عورت پہلے شوہرسے نکاح کرسکتی ہے جبکہ دونوں سے اس کا ملاپ یارخصتی نہیں ہوئی؟

جزاک اللہ

سائلہ : سعدیہ

جواب

اگردوطلاقیں دی گئیں ہیں تو دوسرےشوہر سےملاپ کےبغیربھی پہلےشوہرسےدوبارہ نکاح ہوسکتاہے، تین طلاقیں دی گئی ہیں تواس میں تفصیل یہ ہےکہ اگرتینوں طلاقیں اکھٹےدی گئی ہیں بایں طورکہ " تجھے تین طلاق" تواس صورت میںدوسرےشوہرسے میلاپ کے بغیرہی اگرطلاق واقع ہوگئی توپہلے شوہرسے میلاپ کے بغیرہی اگرطلاق واقع ہوگئی توپہلےشوہرسے نکاح نہیں ہوسکتا اوراگرتین طلاقیں متفرق طورپردی گئی ہیں یکےبعددیگرےتو اس صورت میں چونکہ رخصتی نہیں ہوئی تھی اوررخصتی سے قبل دی جانےوالی متفرق طلاقوں میں سےصرف پہلی واقع ہوتی ہے بقیہ بےکارجاتی ہیں اس لیے اس صورت میں بھی دوسرے شوہرسے ملاپ کےبغیربھی پہلے شوہرسےدوبارہ نکاح ہوسکتاہے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں