زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰١۲ ماہنامہ بینات

بسم الله الرحمٰن الرحیم

حج افراد اورتمتع سے متعلق ایک صورت !

sawali پوچھتے ہیں: 

سوال

محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
میں اس سال حج کا ارادہ رکھتاہوں، انشاء اللہ میں جاننا چاہتاہوں کہ اگرمیں حج افراد کا ارادہ کروں توکیا میں صرف عمرہ کی نیت سے جاسکتاہوں اورپھرجب میں مدینہ منورہ چلاجاؤں اورمکہ مکرمہ واپس آؤں تومیں حج افراد کی نیت کرسکتاہوں یہاں سے مکہ جاتے ہوئے میں حج کی نیت نہ کروں صرف عمرہ کی نیت کروں۔

جزاک اللہ

سائل : سوالی

جواب

حج افراد کہتے ہیں کہ ایک سفر میں صرف ایک ہی عبادت یعنی حج ادا کرنا، سائل چونکہ اپنے سفر میں حج اورعمرہ دونوں سے مستفید ہوگا اس لیے اس کا حج، حج تمتع ہی ہوگا، افراد نہیں بن سکتا، حج افراد میں عمرہ کی ادائیگی نہیں کی جاتی ۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ سائل یہاں سےمکہ مکرمہ جاتے ہوئے صرف عمرہ کی نیت کرلےاورپھرعمرہ کی ادائیگی کےبعد مدینہ منورہ جاکرواپسی میں صرف حج کی نیت کرلے، اس لیے کہ حج تمتع کرنے والےبھی یہاں سے صرف عمرہ کا احرام باندھتے ہیں عمرہ کی ادئیگی کےبعدان کااحرام کھل جاتاہے اوروہ مدینہ منورہ جانے میں وہ آزاد ہوتے ہیں پھرایام حج میں حج کا احرام باندہ کرحج کے ارکان ادا کرتے ہیں۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں