شرعی طورپرقسم کا انعقاد!
مسز تنویر پوچھتے ہیں:
سوال
محترم مفتی صاحب !السلام علیکم!
میراسوال یہ ہےکہ اگرکوئی شخص دل ہی دل میں قسم کھائےکہ میں آئندہ یہ کام نہیں کروں گالیکن بعد میں وہ کام کرلےتوکیا پھربھی اسےاپنی قسم کاکفارہ ادا کرناپڑےگا، جبکہ اس کی اس قسم کا کسی کو علم نہیں اوراگراس نےبےشمارباراپنےسے کی گئی قسمیں توڑی ہوں کہ اسےیادبھی نہ ہوتواس صورت میں کیا کرناپڑےگا؟
جزاک اللہ
سائلہ : مسزتنویر
جواب
اگرقسم کےالفاظ زبان سےادا نہیں کیےصرف دل ہی دل میں ارادہ کیاتوقسم منعقدنہیں ہوئی لہٰذااس کے خلاف کرنےپرکوئی کفارہ بھی لازم نہیں ہوگا اوراگرزبان سےادائیگی بھی ہوئی ہوتوپھربہتریہی ہےکہ اندازہ کرکے غالب گمان کے مطابق تمام قسموں کا الگ الگ کفارہ دیاجائے اوراگراندازہ نہ ہوسکتاہو اورمتعدد قسمیںتوڑی گئی ہوں توپھرسب قسموں کی طرف سےایک ہی کفارہ بھی کافی ہوجائےگا۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں



