نکاح فضولی کا طریقہ !
Sahil پوچھتے ہیں:
سوال
محترم مفتی صاحب!السلام علیکم !
میں نےاپنی بیوی کوایک طلاق بائن ایک سال پہلےدی اوراس کےبعد وہ مجھےچھوڑکراپنےگھرچلی گئی ابھی ایک ہفتہ پہلےمیں نےاسےسوچتے ہوئےکہاکہ" اگرفاطمہ کےگھرجاؤں اوراس سےشادی کروں تواس سےشادی کروں تواس کو تین طلاق"۔
کیافرماتےہیں حضرات علماء کرام کہ میرےمندرجہ بالا جملہ کےبعداگرمیں اپنی سابقہ بیوی فاطمہ کےگھرجاتاہوںتوکیااس سےنکاح کرنےپرتین طلاق واقع ہوجائیں گی اوراس کےساتھ ساتھ اس سےنکاح کرنےپربھی تین طلاق ہوجائیں گی۔
جزاک اللہ
سائل : ساحل
جواب
صورت مسئولہ میں اگرسائل نے اپنی سابقہ بیوی سے دوبارہ نکاح کرتا ہےتوشرط پائےجانے کی وجہ سےمجموعی طورپرتین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔ البتہ اس سےبچنے کی ایک صورت یہ ہےکہ آپ کی اجازت کےبغیر کوئی تیسراشخص آپ کا نکاح اس عورت سے کرادےاورپھرسائل اس نکاح کوزبانی قبول کرنے کےبجائے مہرادا کرکےیاعملاً حقوقِ زوجیت اداکرکے اپنی قبولیت کا اظہارکردے تواس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں



