زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰١۲ ماہنامہ بینات

بسم الله الرحمٰن الرحیم

طلاق واقع نہیں ہوئی!

Riqa-ul-Ashfaq پوچھتے ہیں: 

سوال

محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
میری اورمیری بیوی میںبہت دفعہ تلخ کلامی ہوتی رہتی ہےجوکہ بعدمیںصلح کرلیتے ہیں کبھی وہ اورکبھی میں بہت دفعہ کہتے رہتے ہیں سنبھالو اپنےبچےمجھے نہیں رہناتمہارے ساتھ اپنے بچوں کوبھی خودپالو میں جارہی ہوں سب کچھ چھوڑکراوربہت دفعہ وہ ایسا کرنے کی بھی کوشش کرچکی ہےمگرمیں ان منع کرکےروک لیتاہوں۔ ہماری شادی کو 23سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیاہےاورہماری دوبیٹیاں بھی ہیں۔
کل رات کو بھی کچھ ایسی ہی باتوں سےوہ پھرناراض ہوگئی مگرمیں بھی بارباران کومناکرتھک چکاتھا، میں نے ان کوکہا جہاں جاناچاہتی ہوچلی جاؤ میری طرف سےتم کوآزادی ہے میں نہیں روکوں گا،مگرپھران کواحساس ہواکہ وہ غلط تھیں اورانہوں نے مجھے منالیااوربات ختم ہوگئی کیا ایسا کہنے سےکہ تم میری طرف سےآزاد ہوجہاں جاناچاہوچلی جاؤ۔
کیاطلاق ہوجاتی ہے؟ ہم دونوں بہت پریشان ہیں برائے کرم ہماری رہنمائی فرمائیں۔

جزاک اللہ

سائل : رقاءالاشفاق

جواب

سائل کااپنی اہلیہ سےدوران جھگڑایاتلخ کلامی میں یہ الفاظ کہناکہ "جہاں جاناچاہتی ہوچلی جاؤ میری طرف سےتم کوآزادی ہے میں نہیں روکوں گا"۔ توسوال سے ظاہراً لگ رہاہےباہر جانےسے شوہرروک رہاہے، طلاق سے آزادی نہیں دے رہا اس لیے ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں