معلق طلاق کا حکم!
abid khan gilgiti astori پوچھتے ہیں:
سوال
محترم مفتی صاحب !السلام علیکم !
زمین کے کچھ حصے پردوفریق کا جھگڑاچل رہاہےکیس عدالت میں ہے،طوالت بیزارہوکردونوںفریق نے جرگہ بٹھایا، جرگے میں دونوںفریق کے دودوجرگےدارمقررہوئے،جرگےداروں نے فریقین کے دو دولوگوں کو بلایا،فریقین کی طرف سے جو لوگ مقررہوئےان لوگوں نے اپنے اپنے فریق کے سب لوگوں کی طرف سےذمہ داری لے کرجرگے داروں کےسامنے طلاق کے تین پتھرپھینکےاورحلف اٹھایاکہ اگرجرگےکے فیصلےپرعمل نہیں کیاگیاتوبمع فریق کے ان کی طلاق ہے۔ حلف اورطلاق کے بعد جرگےنے فیصلہ باہم کرلیا، لیکن فیصلہ سنانے سے قبل ایک فریق کےجرگے دارنے فیصلہ لیک آؤٹ کیااس کے بعدجس فریق کے جرگےدارنےفیصلہ لیک آؤٹ کیا تھااس فریق نے فیصلے پربیٹھنےسے انکار کردیا۔
عرض یہ ہے کہ دونوں فریق نے جب جرگےکے فیصلےپرعمل کرنے کے لیے طلاق کے پتھر پھینکے،حلف اٹھایااس کے بعداپنے حق پرفیصلہ نہ پاکرفیصلے پرصبراوراعتمادنہیں کرتاہے تواس فریق کے سب لوگوں کوطلاق ہوجاتی ہےیا جس نے طلاق کے پتھرپھینکے ہیں اس کی ہوجاتی ہےیاپھرکسی کی بھی طلاق واقع نہیں ہوئی؟
جزاک اللہ
سائل :عابدخان گلگتی
جواب
دونوں فریق نے طلاق کو معلق کیا ہےجرگہ کا فیصلہ نہ ماننےسے چونکہ فیصلہ جرگے نے سنایانہیں تونہ ماننے کی نوبت نہیں آئی اس لیے کسی کی بیوی پر ابھی تک طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں



