القصیدة المحمدیة
القصیدة المحمدیة
گریز:
موضوع:
دلائل موضوع:
تمہید اختتام:
اختتام:
۱…بمرقدہ۔
۲…من القیلولة۔
۳…ای فی ظلماتہا۔
۴…یحتمل الحال والتمییز من ضمیر اتانا۔
۵…مصدر یحتمل البناء للفاعل والمفعول، لکن الناظم اختارہا للأول۔فافہم۔
تمہید ابتدأ:
”مُنًی کنَّ لی مِثلَ الدُّعَاءِ المُعَمّد
وَکَم حَسَراتٍ عِندَ رَبعِ مُحَمّد“
ترجمہ:…”کچھ تمنائیں ہیں، جو پُر عزم دعا کی طرح مضبوط ہیں اور کتنی ہی حسرتیں شہر محمد ا سے وابستہ ہیں۔“”مُنًی کنَّ لی مِثلَ الدُّعَاءِ المُعَمّد
وَکَم حَسَراتٍ عِندَ رَبعِ مُحَمّد“
”فَمِنہا الوصُولُ إلی رُسُوم دَارِہ
مُحَمدلاً، مُصَلّیاً، مُسَلّماً مُسَہّد“
ترجمہ:…”ان میں سے ایک حسرت، آپ ا کے گھر مبارک کے نشانات تک پہنچنا ہے (اللہ تعالیٰ کی) حمد بجالاتے ہوئے صلوٰة وسلام پڑھتے ہوئے (اور) بیدار رہتے ہوئے۔ “مُحَمدلاً، مُصَلّیاً، مُسَلّماً مُسَہّد“
”وَمِنہا الرَّحِیل إلی مَشَاہِدِ الرَّسُول
وَمِنہا البُکآءُ قِیاَماً بِمَرقَد(۱)
ترجمہ:…”اور ایک حسرت، رسول اکرم ا کی رزمگاہوں کو دیکھنے کی ہے اور ایک حسرت آپ ا کی خواب گاہ کے سامنے کھڑے ہوکر رونے کی ہے۔وَمِنہا البُکآءُ قِیاَماً بِمَرقَد(۱)
”وَمِنہا العُقودُ لَدیٰ تُربَةِ البَتُول
بِجِسمٍ مُزَہَّدٍ، بِرُوح مُجَرَّد“
ترجمہ:…”اور ایک حسرت، سیدہ فاطمہ بتول کی تربت کے پاس بیٹھنے کی ہے، لاغر بدن اور تنہا روح کے ساتھ۔“بِجِسمٍ مُزَہَّدٍ، بِرُوح مُجَرَّد“
”ہَنیئاً لإخوان قَالُوا،(۲) وَشَاہَدُوا
لَدیٰ القُبَّةِ الخضراءِ حُسناً مُخلَّد“
ترجمہ:… ”مبارک ہو ان بھائیوں کو جو گنبد خضراء کے سائے تلے اونگھ گئے اور پیکر حسن کا مشاہدہ کرتے رہے۔“لَدیٰ القُبَّةِ الخضراءِ حُسناً مُخلَّد“
گریز:
”اَلَا رُبَّ سَاعَةٍ أفُوزُ بِمُنیتی
لَدیٰ رَوضَة الحَبیبِ اُرضیٰ بِاَحمَد“
ترجمہ:…”آہا !کیا کہنے اس وقت کے جب مجھے دل کی مراد ملے گی اور حبیب ا کے باغیچہ میں احمد ا کے ذریعہ خوش کیا جاؤں گا۔“لَدیٰ رَوضَة الحَبیبِ اُرضیٰ بِاَحمَد“
موضوع:
”رَعَی الله یَوماً، بَدَا فِیہ عِشقُنَا
فَاَمسیٰٰ عُروجاً مِنَ الغَد إلی الغَد“
ترجمہ:…”اللہ تعالیٰ اس دن کی رونقیں دیر پا رکھے، جس میں ہمارے عشق کی چنگاری سلگی، پھر ہر روز ترقی کرتی رہی، کل اور پرسوں۔“فَاَمسیٰٰ عُروجاً مِنَ الغَد إلی الغَد“
”سقَی لله لیلاً یُرحَلُ القَوَافِل
بِظُلمَاتِہَا(۳) حُباً وَّعِشقاً وَّیُہتَد“
ترجمہ:…”اللہ تعالیٰ اس رات کی تازگی بحال رکھے، جس میں اہل عشق والفت کے قافلے روانہ کئے جاتے ہیں اور وہ راہ پاتے ہیں۔“بِظُلمَاتِہَا(۳) حُباً وَّعِشقاً وَّیُہتَد“
”مَضَی الخَاتِمُ المَحبُوبُ عَناَّ بِرَوضَةٍ
فَیا حَسرَتَا مَا کُنتُ لَوحاً مُصَمَّد“
ترجمہ:…”آخری (اور) محبوب نبی ا ہمارے ہاں سے روضہ (مبارک) میں خلوت نشیں ہوگئے، ہائے، کاش۔میں آپ ا کا مضبوط لوح مزار کیوں نہ ہوا؟؟“فَیا حَسرَتَا مَا کُنتُ لَوحاً مُصَمَّد“
دلائل موضوع:
”سَلاَمِی عَلی مَن قَبرُہ سَیّدُ القُبُور
وَتَاتِیہِ رَوضُ الجِنَانِ بِمَسجَد“
ترجمہ:…”میرا سلام، اس ذات (اقدس ا ) پر جن کی قبر ، قبروں کی سردار ہے، اور وہاں جنت کے باغیچے سونا لے کر حاضری دیتے ہیں۔“وَتَاتِیہِ رَوضُ الجِنَانِ بِمَسجَد“
”سَلَامی عَلیٰ مَن ذَاتُہ یُمن وَّإیمَان
وَنُور وَّإسلَام وَّعِلم وسُودَد“
ترجمہ:…”میرا سلام اس ذات (اقدس ا ) پر، جن کا سراپا برکت، ایمان، نور،اسلام، علم اور سیادت ہے۔“وَنُور وَّإسلَام وَّعِلم وسُودَد“
”فَیاحَبَّذَا مَن عِشقُہ بَردُ المَضَاجِع
وَیَا حَبَّذَا مَن دِینُہ دِینُ سَرمَد“
ترجمہ:…”کیا ہی عمدہ ہے وہ ذات (اقدس ا ) جن کا عشق قبروں کی ٹھنڈک ہے اور کیا ہی عمدہ ہے وہ ذات (اقدس ا ) جن کا دین ہمیشہ کے لئے ہے۔“وَیَا حَبَّذَا مَن دِینُہ دِینُ سَرمَد“
”اَتَانَا، فَأہلاً وَّسَہلاً وَّمَرحَباً
رَسُولاً،(۴) إلی کُلّ أحمَر وَّأسوَد“
ترجمہ:… ”آپ ا ہم میں تشریف لائے، اہلاً وسہلاً ومرحباہو آپ کو آپ ا رسول بن کر مبعوث ہوئے ہر سرخ وسیاہ کی طرف۔“رَسُولاً،(۴) إلی کُلّ أحمَر وَّأسوَد“
”وُلِدتَّ بِمَکَّةَ وَاُرسِلتَ فِیہَا
فَیاحُسنَ مَبعَثٍ وَّیَا حُسنَ مَولِد“
ترجمہ:… ”اے اللہ کے نبی! آپ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور وہیں نبوت سے سرفراز ہوئے، کیاکہنے مقام رسالت اور جائے ولادت کے۔“فَیاحُسنَ مَبعَثٍ وَّیَا حُسنَ مَولِد“
”بِہَا المَسجِدُ الحَرامُ وَالکعبةُ فِیہا
وَمِیزابُ رَحمَةٍ لِرُکَّع وَّسُجَّد“
ترجمہ:…”جہاں مسجد حرام ہے جس میں خانہ ٴ کعبہ شریف ہے اور رکوع ، سجدہ کرنے والوں کے لئے ”میزاب رحمت،،۔وَمِیزابُ رَحمَةٍ لِرُکَّع وَّسُجَّد“
”وَفِیہا تُرَابُ ہَاجِرة وَّاسمَاعِیل
وَفِیہا مَقَامُ إبراہِیمَ مُقصَد“
ترجمہ:…”اور مسجد حرام میں حضرت ہاجرہ علیہا السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی مطاف میں قبریں ہیں اور مقام ابراہیم بھی جس کا قصد کیا جاتاہے۔“وَفِیہا مَقَامُ إبراہِیمَ مُقصَد“
”أقَمتَ ثَلاثاً وَّخَمسِینَ بِمَکَّة
بِخُلق وَّاُسوَة وَّحِلم مُفَقَّد“
ترجمہ:…”آپ ا تریپن (۵۳) سال مکہ مکرمہ میں رہے، عمدہ اخلاق، قابل تقلید اعمال اور نایاب عقل کے ساتھ۔“بِخُلق وَّاُسوَة وَّحِلم مُفَقَّد“
”قِیَاماً وَّہِجراً وَّلَبثاً بِشَاةٍ
سَلَامی عَلی خَیمَتَی اُم مَعبَد“
ترجمہ:…”آپ ا مکہ شریف میں قیام پذیر رہے، پھر ہجرت فرمائی اور راستہ میں ایک بکری کے پاس ٹھہرے، میرا سلام ہو ام معبد کے دوخیموں پر۔“سَلَامی عَلی خَیمَتَی اُم مَعبَد“
”فِدَاءً عَلیک یَا حَبیبَ الخَلائِق
اَتَیتَ المَدینَةَ مِن سَہلٍ وَّفَدفَد“
ترجمہ:…” محبوب خلائق! میں آپ پر قربان، آپ مدینہ طیبہ پہنچے نرم اور دشوار راستوں سے۔اَتَیتَ المَدینَةَ مِن سَہلٍ وَّفَدفَد“
”ہَجَرتَ، نَزَلتَ، لَبِثتَ عَشرَ سِنِینَ
فَیا ضَیفَہا! حیَّاکَ نُزلَ المُوَعَّد(۵)“
ترجمہ:… ”اے نبی ا آپ نے مکہ مکرمہ سے ہجرت کی، پھر مدینہ طیبہ پہنچے (اور یہاں) دس برس سکونت اختیار فرمائی ۔ اے مہمان مدینہ! آپ کو ہجرت گاہ موعود کی میزبانی کی مبارک ہو۔“فَیا ضَیفَہا! حیَّاکَ نُزلَ المُوَعَّد(۵)“
”تَحِیاَّ تُنَا عَلی مُہَاجِرِیکَ وَالأنصَار
وَمَن تَابَعَہُم مَسَآءً وَّہُجَّد“
ترجمہ:… ”ہمارے سلام، آپ ا کے مہاجرین وانصار پر اور ان پر بھی جو صبح وشام ان کی پیروی کریں۔“وَمَن تَابَعَہُم مَسَآءً وَّہُجَّد“
تمہید اختتام:
”قَضَیتُ الحَیٰوٰةَ فِی نُعُوتِ المَدِینَة
وَمَن نَاعَتَ المَدِینَة سَیُحمَد“
ترجمہ:…”میں نے اپنی زندگی مدینہ طیبہ کی تعریفوں میں گذار دی ہے، اور جو شخص بھی مدینہ منورہ کی مدح کرے گا اس کو جزادی جائے گی۔“وَمَن نَاعَتَ المَدِینَة سَیُحمَد“
”سَلَام عَلَیکُم یَا لَزَائِرِینَ رَوضَہَا
فَلَیلاً بِسَلم وَّلَیلاً بِإثمَد“
ترجمہ:…”تم پر سلام ہو، اے مدینہ طیبہ کے باغوں کی سیر کرنے والو! (مزے لوٹ لو) ایک رات سوکراور ایک رات (سرمہ) اثمد ڈال کر۔“فَلَیلاً بِسَلم وَّلَیلاً بِإثمَد“
اختتام:
”مَضَینَا وَمَاذَرت سُعَادُنا بِنَا قَلبِی
فَیالَیتَ شِعری وَیَالَیتَ مَشہَدِی“
ترجمہ:…”قلبی !ہم گذر گئے اور ”سعاد،، ہمارا ادراک نہ کرسکی، آہ! ہماری نغز گوئی کے اور ہماری مجلس نوازی کے۔فَیالَیتَ شِعری وَیَالَیتَ مَشہَدِی“
۱…بمرقدہ۔
۲…من القیلولة۔
۳…ای فی ظلماتہا۔
۴…یحتمل الحال والتمییز من ضمیر اتانا۔
۵…مصدر یحتمل البناء للفاعل والمفعول، لکن الناظم اختارہا للأول۔فافہم۔



