زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰١۲ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

مشترکہ جائیداد سے حج کرنا

انصاری آفاق احمد پوچھتے ہیں: 

سوال

محترم مفتی صاحب !
السلام وعلیکم !
دو بھائی زید و عمر ہیں ان میں زید قریب ۴ سال بڑا ہے۔ تقریباً ۶ سال قبل زید کے کہنے پر مشورہ سے عمر اور اسکی بیوی نے حج مشترکہ کاروبار سے حاصل ہونے والی رقم سے کیا۔ پورا کاروبار زید کے ہاتھ میں اسکے سارے لین دین اور آمدنی و اخرجات بھی زید کے ہی ہاتھوں ہوتے ہیں۔ زید بھی شادی شدہ ہے اسکے ۴ بچّے ہیں بڑا لڑکا تقریبا ۱۶ سال کا مدرسہ پڑھتا ہے ۔لڑکی ۱۳ سالہ مدرسہ پڑھتی ہے لڑکی ۱۰ سالہ اسکول جاتی ہے لڑکا ۸ سالہ اسکول جاتا ہے۔عمر کے دو لڑکیاں بڑی ۱۲ سالہ ذہنی و جسمانی معذور اسکول مدرسہ نہیں پڑھ سکتی چھوٹی ۴ سالہ بچوں کے اسکول میں ایک سال قبل داخلہ لیا ہے۔ہر ایک کے اخراجات مشترکہ کاروبار سے بلا تفریق و حساب پورے کئے جاتے ہیں اب دونوں بھائی علاحیدہ ہونا چاہتے ہیں مسئلہ یہ ہے کہ عمر اور اسکی بیوی کے اخراجات حج کو کس مد میں لیا جائے ۔کیا تقسیم کے وقت اس پر خرچ ہونے والی رقم کو عمر کا خرچ مان کر اسکو اسکے حصہ سے منہاء کیا جائے زید تقسیم سے قبل حج کرنا چاہتا ہے مع اپنی بیوی کے اس بات کا پتہ جب عمر کو دوسروں کے ذریعے لگا تو اس نے زید کو کہا کہ تم پہلے تقسیم کا عمل پورا کرو پھر اپنے حصے میں آنے والی رقم و ملکیت میں جو چاہو کرو اس وقت مشترکہ ملکیت میں سے حج کرنے میں میری رضامندی نہیں زید کے اس کہنے پر کہ تم نے بھی تو مشترکہ ملکیت حج کیا عمر نے یہ استدلال دیا کہ وہ ہم دونوں کی رضامندی سے تھا اس مرتبہ یہ بات نہیں ہے۔ اور نہ ہی تم نے مجھ سے اس متعلق کوئی مشورہ کیا ہے ۔ مذکورہ بالا مسلہ میں حنفی مسلک کے مطابق شریعی حل عنایت فرمائیں اور یہ بھی کہ زید و عمر کے لئیے اس معاملہ میں مستحسن عمل کیا ہو الگ سے واضع فرمادی۔

جزاک اللہ

سائل : انصاری افاق احمد

جواب

صورت مسئولہ میں مشترکہ جائیداد میں سے روز مرہ کے ضروری اخراجات تو مشترکہ طور پر لیے جاسکتے ہیں اس کے علاوہ اضافی اخراجات اور حج و عمرہ وغیرہ کے اخراجات کسی ایک کو لینے کی اجازت نہیں ہے اس لیے اب تقسیم جائیداد کے وقت حج کے اخراجات عمر کے حصہ میں سے منہا کرکے تقسیم کی جائے گی۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں