زیر ناف بالوں کا حکم
mohammad.sohaib پوچھتے ہیں:
سوال
محترم مفتی صاحب !السلام وعلیکم !
1:. ناف کے بال صاف کرنے کی حدود واضح فرمائیں ، نیز یہ کتنے عرصہ کے اندر صاف کرنے کا حکم ہے؟
2:۔ آیا یہ بال بلیڈ کے علاوہ کسی اور چیز (مثلا بال صفا کریم) سے صاف کئے جاسکتے ہیں۔؟
جزاک اللہ
سائل : محمد شعیب
جواب
1:۔ اصل بنیاد یہ ہے کہ جسم کا وہ حصہ جس کے پراگندہ ہونے کا خدشہ رہتا ہے یا وہ پراگندہ ہو تا رہتا ہے اسے صاف رکھا جائے، عضو مخصوص کی طرف سے بالائی حصہ کی طرف مثانہ کی حدود تک تقیربا یہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے، یہ صفائی ہر ہفتہ جمعہ کے روز مستحب ہے ، اس کا موقع نہیں تو پندہ روز منیں صفائی کردی جائے۔ چالیس دن تک مؤخر کرنا مکروہ تحریمی ہے۔2:۔ مقصود صفائی ہے خواہ ان بالوں کو منڈا جائے یا کسی کریم وغیرہ سے اڑا یا جائے یا کتر دیا جائے، التبہ مرد کے لیے استرے یا بلیڈ کا استعمال زیادہ بہتر ہے۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں



