نقدونظر
نقدونظر
ارشاد الملوک اردو ترجمہ امداد السلوک:
حضرت مولانا عاشق الٰہی میرٹھی ‘ ترتیب وتزئین: حضرت ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن مدنی‘ خلیفہ مجاز شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی‘ صفحات:۲۰۸‘ قیمت: درج نہیں‘ پتہ: دار العلوم مدنیہ بفیلو‘ نیویارک‘ امریکہ۔ حضرت اقدس قطب الاقطاب مولانا رشید احمد گنگوہی قدس سرہ نے رسالہ مکیہ کی چند فصلوں کا فارسی ترجمہ کیا اور اپنے شیخ حضرت الحاج امداد اللہ مہاجر مکی کے نام سے تبرک حاصل کرتے ہوئے اس کا نام امداد السلوک رکھا‘ چونکہ یہ رسالہ فارسی میں تھا اور اس وقت فارسی زبان ہندوستان کے متوسط طبقہ کی گویا مادری زبان تھی‘ لیکن جب فارسی زبان عام فہم نہ رہی تو حضرت مولانا محمد عاشق الٰہی میرٹھی قدس سرہ نے اس رسالہ کا اردو میں ترجمہ کیا اور اپنے شیخ کے نام سے تبرک حاصل کرتے ہوئے اس کا نام ارشاد الملوک طے فرمایا۔ ارشاد الملوک سالکین تصوف اور سلوک واحسان کے لئے اپنی جامعیت واقتصار کے باجود اہم دستاویز اور راہ نماکی حیثیت رکھتی ہے۔اس کتاب کی اہمیت وافادیت کا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت اقدس شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی قدس سرہ اپنے متعلقین اور خلفاء کو بطور خاص اس کے مطالعہ کی تلقین فرماتے تھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ حضرت شیخ کی سال بھر عصر کے بعد کی عمومی مجلس میں ارشاد الملوک کے سنانے کا معمول رہا‘ اس کے علاوہ حالت اعتکاف میں عصر کے بعد کی مجلس میں بھی اس کے سنانے کا دائمی معمول رہا۔ یہ کتاب ایک عرصہ تک کتب خانہ اشاعت العلوم محلہ مفتی سہارنپور سے شائع ہوتی رہی‘ پیش نظر اشاعت اس کا جدید ایڈیشن ہے جس کی ترتیب وتزئین حضرت شیخ کے خلیفہ اجل حضرت اقدس ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن مدنی مدظلہ کی ہے۔ بلاشبہ اب یہ کتاب حسن ظاہری کے علاوہ حسن باطنی سے مزین ہے‘ امید ہے ارباب سلوک واحسان اس نعمت غیر مترکبہ کی قدر دانی فرمائیں گے۔
طہارت کے جدید مسائل اور ان کا حل:
مولانا محمد ابراہیم میمن مدنی‘ صفحات: ۳۹۴‘ قیمت: درج نہیں‘ پتہ: دار العلوم مدنیہ بفیلو نیو یارک‘ امریکہ۔ طہارت وپاکیزگی اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ہے‘ چنانچہ ارشاد ہے ”الطہور شطر الایمان“ پاکیزگی ایمان کا ایک حصہ ہے‘ چنانچہ اسلام نے ایک انسان کے لئے لازم قرار دیا ہے کہ وہ بارگاہ الٰہی میں نماز طواف کے لئے اس وقت تک حاضر نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ طہارت نہ حاصل کرلے‘ بلکہ قرآن کو اس وقت تک نہیں چھو سکتا جبکہ وضو اور طہارت نہ کرے۔ اسی طرح انسان کب پاک ہوتا ہے اور کب ناپاک ہوتا ہے اسلام نے اس کی تفصیلات ارشاد فرمائی ہیں‘ پھر ناپاکی بھی دو طرح کی ہوتی ہے: ایک کو حدث اکبر ․․․بڑی ناپاکی․․․ کہا جاتا ہے‘ جیسے جنابت‘ حیض ونفاس کی ناپاکی اور دوسری کو حدث اصغر ․․چھوٹی ناپاکی․․․ کہا جاتا ہے یعنی پیشاب‘ پاخانہ‘ ریح کا خارج ہونا یا جسم سے خون پیپ وغیرہ کی ناپاکی‘ پھر اس کی بھی تفصیلات ہیں‘ مثلاً :کن کن چیزوں سے وضو ٹوٹتا ہے اور کن کن صورتوں میں غسل کی حاجت ہوتی ہے۔ ان تمام صورتوں کے علاوہ بدن اور جسم کی طہارت وپاکیزگی کے لئے کن کن چیزوں سے اجتناب کیا جائے‘ اسی طرح صحت مند ومعذور کی پاکی وناپاکی کے احکام بھی مختلف ہیں۔ پھر دور جدید کے جدید مسائل مثلاً ٹیسٹ ٹیوب بے بی‘ رحم میں دوائی رکھنا یا جسم کے کسی حصہ میں دوائی داخل کرنا یا کسی زخم کی وجہ سے گوشت کے ٹکڑے کا جسم سے الگ کرنا وغیرہ وہ تمام مسائل ہیں جن کے لئے ایک مسلمان پریشان ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے مولانا محمد ابراہیم میمن صاحب کو جنہوں نے اسلام کے اس اہم شعبہ کو ․․ جس پر عبادات موقوف ہیں․․․ ایک مستقل کتاب کی شکل میں مرتب کرکے دور حاضر اور خصوصاً دیار غیر میں رہنے والے مسلمانوں کی مشکل کو آسان کردیا ہے۔ بلاشبہ یہ کتاب اپنے موضوع پر بہترین تحقیقی کتاب ہے‘ جس سے عوام وخواص اور علماء وطلبہ برابر استفادہ کرسکتے ہیں‘ امید ہے کہ اہل ذوق اس سے بھر پور نفع حاصل کریں گے۔ کتاب میں جن مسائل کو تفصیل سے بیان کیا گیا ان کی ترتیب کچھ یوں ہے: پاکی اور ناپاکی کا بیان‘ استنجاء کا بیان‘ وضو کا بیان‘ نواقص وضو‘ خفین وچمڑے کے موزوں پر مسح کا بیان‘ پٹی پر مسح کا بیان‘ تیمم‘ غسل‘ حیض ‘ نفاس اور استحاضہ کا بیان‘ کتاب کے شروع میں حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزی شہید کی تقریظ کے علاوہ مصنف موصوف کا حجیت حدیث پر ایک بہترین مقدمہ بھی ہے۔
قاموس الفقہ: پانچ جلد مکمل:
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‘ صفحات: جلداول: ۵۴۶‘ جلد دوم:۵۵۰‘ جلد سوم:۵۰۸‘ جلد چہارم:۶۰۰‘ جلد پنجم:۶۴۰‘ قیمت:سادہ:۱۸۰۰‘ اعلیٰ:۳۰۰۰‘ پتہ: زمزم پبلیشرز نزد مقدس مسجد اردو بازار کراچی۔ اس وقت جبکہ دنیا خالص مادیت کے پیچھے دوڑ رہی ہو‘ اور ہر چھوٹے بڑے کی کدوکاوش دنیا اور محض دنیا بن چکی ہو‘ دین ومذہب اور قرآن وشریعت کو دوراز کار شئ سمجھ لیا گیا ہو‘ اور یہ حقیقت ہے کہ مادہ پرستوں کی تمام تر مساعی اور کوششیں اس چند روزہ حیات کی راحت وعافیت رسانی کے گرد کھومتی ہیں ‘ موت اورما بعد الموت کی تیاری گویا ان کی فہرست سے خارج ہے‘ بلکہ اس طرف توجہ دینے والے ناخواندہ‘ جاہل‘ بے عقل‘ دنیا کے تقاضوں سے نا آشنا وغیرہ کے ”معزز“ القابات سے نوازے جارہے ہیں‘ ایسے دور میں خالص دینی‘ علمی اور تحقیقی کام کرنا بلاشبہ کسی کرامت سے کم نہیں۔ ارض ہندوستان جہاں ایک عرصہ تک مسلمانوں کو حکومت واقتدارکا شرف واعزاز رہا ہے اور جہاں علوم نبوت قرآن ‘ حدیث اور فقہ وشریعت کی خدمت کے لازوال کارنامے انجام دیئے گئے ہیں اور جہاں کے اکابر کے سامنے دنیائے عرب کے اکابر نے زانوئے تلمذ تہہ کئے اور جن کے علوم ومعارف کے چشموں سے ایک دنیا نے اپنی پیاس بجھائی‘ بحمد اللہ! آج بھی اس سرزمین میں ایسے گوہر آبدار موجود ہیں جو دنیائے علم وتحقیق کی پیاس بجھانے اور ان کی راہ نمائی وقیادت کی صلاحیت رکھتے ہیں‘ پیش نظر کتاب ”قاموس الفقہ“ کے مصنف مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ اسی قافلہ کے رکن رکین اور اسی جماعت کے فرد فرید ہیں۔جنہوں نے اردو زبان میں فقہی انسائیکلوپیڈیا مرتب کرکے اپنے اکابر واسلاف کی مساعی اور فقہی ذوق ولگن کی یاد یں تازہ کردی ہیں۔ بلاشبہ قاموس الفقہ ایسی کتاب ہے جو سینکڑوں کتابوں سے بے نیاز کردینے والی ہے‘ جس میں فقہی احکام ومسائل کو حروف تہجی کے اعتبار سے مرتب کیا گیا ہے‘مثلاً لفظ ”اللہ“ سے اس کی ابتداء کی گئی ہے تو ”یوم“ پر اس کا اختتام ہے ‘ اس میں جو لفظ بھی لایاگیا ہے اس کی لغوی‘ اصطلاحی تعریف‘ اس کے احکام وغیرہ کو قرآن وسنت اور فقہائے امت کی تحقیقات اور ان کے مسلک کی روشنی میں اس خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے کہ بڑی سے بڑی کتابوں اور ماخذ کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت نہیں رہتی‘ مثلاً لفظ ”ہرة“ (بلی) کو لاکر اس کا معنی ‘ مصداق‘ مفہوم اس کے احکام کو بیان کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ: بلی کا جھوٹا‘ اگر بلی نے ناپاک چیز کھائی ہو؟‘ اگر بلی کے جھوٹے کے علاوہ کوئی اور پانی موجود نہ ہو؟ اگر بلی انسان کے ہاتھ کو چاٹ لے؟ اگر بلی کھانے کی چیز میں سے کچھ کھالے؟ بلی کی کراہیت پرحنفیہ کی دلیل‘ بلی کے چمڑے کا حکم‘ بلی کا پسینہ‘ بلی کی رطوبتِ چشم اور بلی کے لعاب کا حکم وغیرہ کو تفصیل سے بیان کیا گیاہے ‘ کتاب کے شروع میں پانچوں جلدوں کی مکمل فہرست کے علاوہ ۵۵ صفحات کا نہایت جاندار اور اعلیٰ مقدمہ سپردقلم کیا گیا ہے جس میں ماخذ شرعیہ ․․․قرآن‘ حدیث‘ اجماع اور قیاس․․ کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ بلاشبہ اس وقت دنیا میں بہت سے اداروں اور حکومتوں نے اس قسم کے موسوعے شائع کئے ہیں‘ مگر ایک اکیلے فرد نے جس عمدگی سے یہ کارنامہ انجام دیا ہے‘ لائق صد تبریک ہے‘ اس موسوعہ کا ایک اختصاص یہ بھی ہے کہ اس میں جدید دور کے جدید مسائل کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے‘ عین ممکن ہے کہ اہل تحقیق کو ان جدید مسائل سے اتفاق نہ ہو‘ یا ان میں بحث وتنقید کی گنجائش ہو۔ تاہم یہ بہت بڑا علمی کام ہے جس پر مصنف موصوف بجاطور پر مبارک باد کے مستحق ہیں‘ اسی طرح پاکستان میں اس کو شائع کرکے پاکستان کے علمی حلقوں میں اس سوغات کو پہچانے والے حضرات بھی لائق تبریک ہیں‘ امید ہے اہل علم اس نعمت غیر مترکبہ کی قدردانی میں بخل سے کام نہیں لیں گے۔
عذابِ قبر کی صحیح صورت کے منکر کا شرعی حکم،
مولانا ابواحمد نور محمد تونسوی، صفحات: ۱۲۸، قیمت: درج نہیں، ناشر: مکتبہ عثمانیہ ترنڈہ محمد پناہ تحصیل لیاقت پور۔ مولانا ابو احمد نور محمد تونسوی مدظلہ کی شخصیت علمی حلقوں میں کسی تعارف کی محتاج نہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو باطل نظریات کی تردید اور مسلک دیوبند کی حفاظت اور دفاع کے لئے بطور خاص منتخب فرمایا ہے، منکرین حیات انبیاء کے عقائد، نظریات اور دلائل و شبہات کے ابطال اور تردید میں آپ مرجع کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کے شعلہ بار قلم کی برکت سے ۲۰ سے زائد کتب اور بیسیوں مضامین و مقالات منصہ شہود پر آچکے ہیں، جن میں سے قبر کی زندگی، اسلام کے نام پر ہوأ پرستی، منکرین حیات قبر کی خوفناک چالیں سرفہرست ہیں۔ پیش نظرکتابچہ جیسا کے نام سے ظاہر ہے یہ ایک استفتاء ہے کہ :”جو مسجد کا امام عذابِ قبر کی صحیح صورت پر یقین نہیں رکھتا بلکہ وہ قبر کی کوئی اور صورت تجویز کرتا ہے، ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ “اس سوال کے جواب میں ملک بھر کے ۲۰ سے زائد بڑے مدارس اور جامعات کے دارالافتاء سے موصول ہونے والے فتاویٰ کا مجموعہ ہے۔ یہ کتابچہ اپنے موضوع پر ایک بہترین دستاویز ہے جو ہر لائبریری بلکہ ہر فرد کی ضرورت ہے۔ امید ہے باذوق اہلِ علم اس کی پذیرائی میں بخل سے کام نہیں لیں گے۔
ارشاد الملوک اردو ترجمہ امداد السلوک:
حضرت مولانا عاشق الٰہی میرٹھی ‘ ترتیب وتزئین: حضرت ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن مدنی‘ خلیفہ مجاز شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی‘ صفحات:۲۰۸‘ قیمت: درج نہیں‘ پتہ: دار العلوم مدنیہ بفیلو‘ نیویارک‘ امریکہ۔ حضرت اقدس قطب الاقطاب مولانا رشید احمد گنگوہی قدس سرہ نے رسالہ مکیہ کی چند فصلوں کا فارسی ترجمہ کیا اور اپنے شیخ حضرت الحاج امداد اللہ مہاجر مکی کے نام سے تبرک حاصل کرتے ہوئے اس کا نام امداد السلوک رکھا‘ چونکہ یہ رسالہ فارسی میں تھا اور اس وقت فارسی زبان ہندوستان کے متوسط طبقہ کی گویا مادری زبان تھی‘ لیکن جب فارسی زبان عام فہم نہ رہی تو حضرت مولانا محمد عاشق الٰہی میرٹھی قدس سرہ نے اس رسالہ کا اردو میں ترجمہ کیا اور اپنے شیخ کے نام سے تبرک حاصل کرتے ہوئے اس کا نام ارشاد الملوک طے فرمایا۔ ارشاد الملوک سالکین تصوف اور سلوک واحسان کے لئے اپنی جامعیت واقتصار کے باجود اہم دستاویز اور راہ نماکی حیثیت رکھتی ہے۔اس کتاب کی اہمیت وافادیت کا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت اقدس شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی قدس سرہ اپنے متعلقین اور خلفاء کو بطور خاص اس کے مطالعہ کی تلقین فرماتے تھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ حضرت شیخ کی سال بھر عصر کے بعد کی عمومی مجلس میں ارشاد الملوک کے سنانے کا معمول رہا‘ اس کے علاوہ حالت اعتکاف میں عصر کے بعد کی مجلس میں بھی اس کے سنانے کا دائمی معمول رہا۔ یہ کتاب ایک عرصہ تک کتب خانہ اشاعت العلوم محلہ مفتی سہارنپور سے شائع ہوتی رہی‘ پیش نظر اشاعت اس کا جدید ایڈیشن ہے جس کی ترتیب وتزئین حضرت شیخ کے خلیفہ اجل حضرت اقدس ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن مدنی مدظلہ کی ہے۔ بلاشبہ اب یہ کتاب حسن ظاہری کے علاوہ حسن باطنی سے مزین ہے‘ امید ہے ارباب سلوک واحسان اس نعمت غیر مترکبہ کی قدر دانی فرمائیں گے۔
طہارت کے جدید مسائل اور ان کا حل:
مولانا محمد ابراہیم میمن مدنی‘ صفحات: ۳۹۴‘ قیمت: درج نہیں‘ پتہ: دار العلوم مدنیہ بفیلو نیو یارک‘ امریکہ۔ طہارت وپاکیزگی اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ہے‘ چنانچہ ارشاد ہے ”الطہور شطر الایمان“ پاکیزگی ایمان کا ایک حصہ ہے‘ چنانچہ اسلام نے ایک انسان کے لئے لازم قرار دیا ہے کہ وہ بارگاہ الٰہی میں نماز طواف کے لئے اس وقت تک حاضر نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ طہارت نہ حاصل کرلے‘ بلکہ قرآن کو اس وقت تک نہیں چھو سکتا جبکہ وضو اور طہارت نہ کرے۔ اسی طرح انسان کب پاک ہوتا ہے اور کب ناپاک ہوتا ہے اسلام نے اس کی تفصیلات ارشاد فرمائی ہیں‘ پھر ناپاکی بھی دو طرح کی ہوتی ہے: ایک کو حدث اکبر ․․․بڑی ناپاکی․․․ کہا جاتا ہے‘ جیسے جنابت‘ حیض ونفاس کی ناپاکی اور دوسری کو حدث اصغر ․․چھوٹی ناپاکی․․․ کہا جاتا ہے یعنی پیشاب‘ پاخانہ‘ ریح کا خارج ہونا یا جسم سے خون پیپ وغیرہ کی ناپاکی‘ پھر اس کی بھی تفصیلات ہیں‘ مثلاً :کن کن چیزوں سے وضو ٹوٹتا ہے اور کن کن صورتوں میں غسل کی حاجت ہوتی ہے۔ ان تمام صورتوں کے علاوہ بدن اور جسم کی طہارت وپاکیزگی کے لئے کن کن چیزوں سے اجتناب کیا جائے‘ اسی طرح صحت مند ومعذور کی پاکی وناپاکی کے احکام بھی مختلف ہیں۔ پھر دور جدید کے جدید مسائل مثلاً ٹیسٹ ٹیوب بے بی‘ رحم میں دوائی رکھنا یا جسم کے کسی حصہ میں دوائی داخل کرنا یا کسی زخم کی وجہ سے گوشت کے ٹکڑے کا جسم سے الگ کرنا وغیرہ وہ تمام مسائل ہیں جن کے لئے ایک مسلمان پریشان ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے مولانا محمد ابراہیم میمن صاحب کو جنہوں نے اسلام کے اس اہم شعبہ کو ․․ جس پر عبادات موقوف ہیں․․․ ایک مستقل کتاب کی شکل میں مرتب کرکے دور حاضر اور خصوصاً دیار غیر میں رہنے والے مسلمانوں کی مشکل کو آسان کردیا ہے۔ بلاشبہ یہ کتاب اپنے موضوع پر بہترین تحقیقی کتاب ہے‘ جس سے عوام وخواص اور علماء وطلبہ برابر استفادہ کرسکتے ہیں‘ امید ہے کہ اہل ذوق اس سے بھر پور نفع حاصل کریں گے۔ کتاب میں جن مسائل کو تفصیل سے بیان کیا گیا ان کی ترتیب کچھ یوں ہے: پاکی اور ناپاکی کا بیان‘ استنجاء کا بیان‘ وضو کا بیان‘ نواقص وضو‘ خفین وچمڑے کے موزوں پر مسح کا بیان‘ پٹی پر مسح کا بیان‘ تیمم‘ غسل‘ حیض ‘ نفاس اور استحاضہ کا بیان‘ کتاب کے شروع میں حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزی شہید کی تقریظ کے علاوہ مصنف موصوف کا حجیت حدیث پر ایک بہترین مقدمہ بھی ہے۔
قاموس الفقہ: پانچ جلد مکمل:
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‘ صفحات: جلداول: ۵۴۶‘ جلد دوم:۵۵۰‘ جلد سوم:۵۰۸‘ جلد چہارم:۶۰۰‘ جلد پنجم:۶۴۰‘ قیمت:سادہ:۱۸۰۰‘ اعلیٰ:۳۰۰۰‘ پتہ: زمزم پبلیشرز نزد مقدس مسجد اردو بازار کراچی۔ اس وقت جبکہ دنیا خالص مادیت کے پیچھے دوڑ رہی ہو‘ اور ہر چھوٹے بڑے کی کدوکاوش دنیا اور محض دنیا بن چکی ہو‘ دین ومذہب اور قرآن وشریعت کو دوراز کار شئ سمجھ لیا گیا ہو‘ اور یہ حقیقت ہے کہ مادہ پرستوں کی تمام تر مساعی اور کوششیں اس چند روزہ حیات کی راحت وعافیت رسانی کے گرد کھومتی ہیں ‘ موت اورما بعد الموت کی تیاری گویا ان کی فہرست سے خارج ہے‘ بلکہ اس طرف توجہ دینے والے ناخواندہ‘ جاہل‘ بے عقل‘ دنیا کے تقاضوں سے نا آشنا وغیرہ کے ”معزز“ القابات سے نوازے جارہے ہیں‘ ایسے دور میں خالص دینی‘ علمی اور تحقیقی کام کرنا بلاشبہ کسی کرامت سے کم نہیں۔ ارض ہندوستان جہاں ایک عرصہ تک مسلمانوں کو حکومت واقتدارکا شرف واعزاز رہا ہے اور جہاں علوم نبوت قرآن ‘ حدیث اور فقہ وشریعت کی خدمت کے لازوال کارنامے انجام دیئے گئے ہیں اور جہاں کے اکابر کے سامنے دنیائے عرب کے اکابر نے زانوئے تلمذ تہہ کئے اور جن کے علوم ومعارف کے چشموں سے ایک دنیا نے اپنی پیاس بجھائی‘ بحمد اللہ! آج بھی اس سرزمین میں ایسے گوہر آبدار موجود ہیں جو دنیائے علم وتحقیق کی پیاس بجھانے اور ان کی راہ نمائی وقیادت کی صلاحیت رکھتے ہیں‘ پیش نظر کتاب ”قاموس الفقہ“ کے مصنف مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ اسی قافلہ کے رکن رکین اور اسی جماعت کے فرد فرید ہیں۔جنہوں نے اردو زبان میں فقہی انسائیکلوپیڈیا مرتب کرکے اپنے اکابر واسلاف کی مساعی اور فقہی ذوق ولگن کی یاد یں تازہ کردی ہیں۔ بلاشبہ قاموس الفقہ ایسی کتاب ہے جو سینکڑوں کتابوں سے بے نیاز کردینے والی ہے‘ جس میں فقہی احکام ومسائل کو حروف تہجی کے اعتبار سے مرتب کیا گیا ہے‘مثلاً لفظ ”اللہ“ سے اس کی ابتداء کی گئی ہے تو ”یوم“ پر اس کا اختتام ہے ‘ اس میں جو لفظ بھی لایاگیا ہے اس کی لغوی‘ اصطلاحی تعریف‘ اس کے احکام وغیرہ کو قرآن وسنت اور فقہائے امت کی تحقیقات اور ان کے مسلک کی روشنی میں اس خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے کہ بڑی سے بڑی کتابوں اور ماخذ کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت نہیں رہتی‘ مثلاً لفظ ”ہرة“ (بلی) کو لاکر اس کا معنی ‘ مصداق‘ مفہوم اس کے احکام کو بیان کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ: بلی کا جھوٹا‘ اگر بلی نے ناپاک چیز کھائی ہو؟‘ اگر بلی کے جھوٹے کے علاوہ کوئی اور پانی موجود نہ ہو؟ اگر بلی انسان کے ہاتھ کو چاٹ لے؟ اگر بلی کھانے کی چیز میں سے کچھ کھالے؟ بلی کی کراہیت پرحنفیہ کی دلیل‘ بلی کے چمڑے کا حکم‘ بلی کا پسینہ‘ بلی کی رطوبتِ چشم اور بلی کے لعاب کا حکم وغیرہ کو تفصیل سے بیان کیا گیاہے ‘ کتاب کے شروع میں پانچوں جلدوں کی مکمل فہرست کے علاوہ ۵۵ صفحات کا نہایت جاندار اور اعلیٰ مقدمہ سپردقلم کیا گیا ہے جس میں ماخذ شرعیہ ․․․قرآن‘ حدیث‘ اجماع اور قیاس․․ کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ بلاشبہ اس وقت دنیا میں بہت سے اداروں اور حکومتوں نے اس قسم کے موسوعے شائع کئے ہیں‘ مگر ایک اکیلے فرد نے جس عمدگی سے یہ کارنامہ انجام دیا ہے‘ لائق صد تبریک ہے‘ اس موسوعہ کا ایک اختصاص یہ بھی ہے کہ اس میں جدید دور کے جدید مسائل کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے‘ عین ممکن ہے کہ اہل تحقیق کو ان جدید مسائل سے اتفاق نہ ہو‘ یا ان میں بحث وتنقید کی گنجائش ہو۔ تاہم یہ بہت بڑا علمی کام ہے جس پر مصنف موصوف بجاطور پر مبارک باد کے مستحق ہیں‘ اسی طرح پاکستان میں اس کو شائع کرکے پاکستان کے علمی حلقوں میں اس سوغات کو پہچانے والے حضرات بھی لائق تبریک ہیں‘ امید ہے اہل علم اس نعمت غیر مترکبہ کی قدردانی میں بخل سے کام نہیں لیں گے۔
عذابِ قبر کی صحیح صورت کے منکر کا شرعی حکم،
مولانا ابواحمد نور محمد تونسوی، صفحات: ۱۲۸، قیمت: درج نہیں، ناشر: مکتبہ عثمانیہ ترنڈہ محمد پناہ تحصیل لیاقت پور۔ مولانا ابو احمد نور محمد تونسوی مدظلہ کی شخصیت علمی حلقوں میں کسی تعارف کی محتاج نہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو باطل نظریات کی تردید اور مسلک دیوبند کی حفاظت اور دفاع کے لئے بطور خاص منتخب فرمایا ہے، منکرین حیات انبیاء کے عقائد، نظریات اور دلائل و شبہات کے ابطال اور تردید میں آپ مرجع کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کے شعلہ بار قلم کی برکت سے ۲۰ سے زائد کتب اور بیسیوں مضامین و مقالات منصہ شہود پر آچکے ہیں، جن میں سے قبر کی زندگی، اسلام کے نام پر ہوأ پرستی، منکرین حیات قبر کی خوفناک چالیں سرفہرست ہیں۔ پیش نظرکتابچہ جیسا کے نام سے ظاہر ہے یہ ایک استفتاء ہے کہ :”جو مسجد کا امام عذابِ قبر کی صحیح صورت پر یقین نہیں رکھتا بلکہ وہ قبر کی کوئی اور صورت تجویز کرتا ہے، ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ “اس سوال کے جواب میں ملک بھر کے ۲۰ سے زائد بڑے مدارس اور جامعات کے دارالافتاء سے موصول ہونے والے فتاویٰ کا مجموعہ ہے۔ یہ کتابچہ اپنے موضوع پر ایک بہترین دستاویز ہے جو ہر لائبریری بلکہ ہر فرد کی ضرورت ہے۔ امید ہے باذوق اہلِ علم اس کی پذیرائی میں بخل سے کام نہیں لیں گے۔



