شریعت میں DNAٹیسٹ کی حیثیت !
کیا فرماتے ہیں علماء کرام، مفتیان دین اس مسئلہ کے بارہ میں کہ:
زید نے ۲۰۰۵ء میں اپنی پہلی بیوی کے انتقال کے بعد دوسری شادی کی، پہلی بیوی سے ۲ بیٹے، ۲بیٹیاں ہیں، دوسری شادی کے تقریباً ۲ سال بعد اللہ پاک نے زید کو بیٹا دیا۔ زید یو، کے کا نیشنل پاکستانی ہے، اس نے کوشش کی کہ اپنی دوسری بیوی اور ۹ ماہ کے نومولود بیٹے کو بھی برطانیہ لے جائے، برٹش ایمبیسی نے یہ یقین کرنے کے لئے کہ واقعتاً بچہ زید ہی کا ہے ؟ ڈی ، این اے ٹیسٹ کا مطالبہ کردیا، زید نے اپنی بیوی سے مشورہ کیا اور اسے ڈی، این اے ٹیسٹ کی پوری ڈیفنیشن سمجھائی (پوری تفصیل)۔ بیوی نے کہا کہ ضرور ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جائے ، برٹش ایمبیسی کے آڈر سے یوکے کی معروف لیبارٹری میں DNAٹیسٹ کروایا گیا تو رپورٹ نے یہ ثابت کیا کہ یہ بچہ زید کا نہیں ہے۔جبکہ بچے کی ظاہر شکل وصورت مرحومہ بیوی کے پیٹ سے پیدا ہونے والے بڑے بیٹے اور زید کے ساتھ ملتی ہے، بلکہ پاؤں اور ہاتھوں کی انگلیوں کی ساخت زید کے ساتھ مطابقت کرتی ہے جوکہ عام لوگوں کی ساخت سے کچھ مختلف ہے۔اب شریعت اسلامیہ کی روشنی میں سوال طلب امر یہ ہے۔
۱…الولد للفراش کے مطابق اس بچے کی ولدیت کے خانے میں زید ہی کا نام آئے گا؟ یاکہ جدید ایجادات کے استفادے کو تسلیم کرتے ہوئے زید کی نسبت کا انکار کیا جائے گا؟
۲…زید کی پہلی بیوی کی اولاد اس بنیاد پر اگر کسی عدالت میں جاتی ہے تو شرعاً یہ بچہ زید کے انتقال کی صورت میں اس کی وراثت شرعی کا حقدار ہوگا؟
۳…کیا اس بچے کے نان ونفقہ کی ذمہ داری زید پر ہوگی یا نہیں؟
۴…شناختی کارڈ بناتے وقت اس کی ولدیت کے خانے میں کیا لکھا جائے گا؟
برائے مہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں مسئلہ کی وضاحت فرمائیں۔
مستفتی:محمد اشرف ولد شیر محمد
الجواب ومنہ الصدق والصواب
واضح رہے کہ ثبوت نسب شریعت اسلامیہ کے اہم قضیوں میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ بے شمار مسائل ایسے ہیں جن کا دارومدار ثبوت نسب پر ہے، میراث، محارم، نکاح، کفاء ت وغیرہ کے ابواب میں بے شمار مسائل ایسے ہیں جن کا براہ راست ثبوت نسب کے مسئلہ سے تعلق ہے، اس لئے شریعت مطہرہ نے ثبوت نسب اور نفی نسب کے بارے میں حد درجہ احتیاط سے کام لیا ہے، چنانچہ جہاں اس بات کی انتہائی تاکید کی ہے کہ کوئی بھی بچہ بلانسب نہ رہے، بلکہ جہاں تک (شرعی حدود اور ضابطے میں رہتے ہوئے) ممکن ہو بچہ کا نسب اس کے حقیقی والد سے ثابت کیا جائے، وہاں اس بات کا بھی حددرجہ اہتمام کیا ہے کہ ثبوت نسب کے لئے واضح قرینہ موجود ہو۔
چنانچہ شریعت مطہرہ نے بچہ کو کسی شخص سے ثابت النسب قرار دینے کے لئے ایک بنیادی اصول مقرر کیا ہے اور وہ ہے ”فراش،، کا ہونا ”فراش،، کا مطلب یہ ہے کہ عورت کا مرد سے نکاح کا ثابت ہونا کہ فلاں عورت فلاں مرد کے نکاح میں ہے اور وہ عورت اس کی بیوی ہے، اس کے بعد اس مرد کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس عورت سے جو بچہ بھی پیدا ہوگا تو وہ بچہ بہرصورت اسی مرد سے ثابت النسب ہوگا اور اس پیدا ہونے والے بچہ کی نسبت اس عورت کے شوہر کی طرف کی جائے گی اور وہ شوہر اس بچہ کا باپ کہلائے گا، الاّ یہ کہ مرد خود اس بچہ کی نفی کرتے ہوئے لعان کرے۔ چنانچہ مشکوٰة شریف میں ہے:
بدائع الصنائع میں ہے:
شہادت کا مطلب یہ ہے کہ: اگر شوہر اپنی بیوی سے پیدا ہونے والے بچہ کا انکار کردے تو اگر اس بچہ کی اس کی بیوی سے پیدا ہونے کی دو مرد یا ایک مرداور دو عورتیں اور وہ بھی نہ ہوں تو صرف ایک عورت یعنی دائی بھی گواہی دیدے کہ فلاں بچہ، فلاں مرد کا ہے اور یہ بچہ فلاں مرد کی بیوی سے پیدا ہوا ہے تو اس صورت میں بھی اس شخص سے ثابت النسب شمار ہوگا۔ فتح القدیر میں ہے:
ملحوظ رہے کہ ”علم قیافہ،، کوئی یقینی علم نہیں، بلکہ تجربات اور مشاہدات پر مبنی مہارت کا نام ہے جو کہ سراسر ظنی ہے اور اس میں خطأ کا امکان بھی ہے۔ احناف رحمہم اللہ کے علاوہ تمام فقہاء نے ثبوت نسب اور نفی نسب کے سلسلہ میں ”قیافہ،، کو معتبر مانا ہے، لیکن احناف ثبوت نسب اور نفی نسب کے سلسلہ میں اس طریقہ کو درست نہیں سمجھتے۔
اس طریقہ کے صحیح نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ حضور ا کے زمانہ میں کئی واقعات ایسے وقوع پذیر ہوئے کہ جن سے معلوم ہوتا ہے حضور ا نے نسب کے معاملہ میں ”قیافہ شناسی،، کا اعتبار نہیں فرمایا۔ مشکوٰة شریف میں ہے:
مذکورہ بالا واقعہ میں آپ ا نے بچہ کے بارے میں بدو (دیہاتی) کی ظاہری رنگ وصورت اور قیافہ کے ذریعہ کی گئی قیاس آرائی کو غیر معتبر قرار دیا۔ اگر ثبوت نسب کے سلسلہ میں قیافہ کی گنجائش ہوتی تو آپ ا ضرور اس کی بات کا اعتبار فرماتے۔ نیز اگر ثبوت نسب کے سلسلہ میں ”قیافہ،، معتبر ہوتا تو شریعت مطہرہ میں ”لعان،، کا حکم نہ ہوتا، بلکہ جب بھی کسی شخص کو اپنی بیوی سے پیدا ہونے والے بچہ پرشک ہوتا تو اس کو لعان کا حکم دینے کے بجائے یہ کہا جاتا کہ ”قیافہ شناس،، کے ذریعہ معلوم کرالو کہ یہ بچہ تمہارا ہے یا نہیں؟ چنانچہ المبسوط للسرخسی میں ہے:
چنانچہ ملحوظ رہے کہ ”ڈی این اے،، ایک کیمیائی شئ ہے، جس کا پورا نام:
DEOXY-RIBONUCLEIC ACID”ڈی آکسی رائبونیوکلک ایسڈ،، جس کو عربی میں ”بصمة وراثیة،، کہتے ہیں، جوکہ ایک ”موروثی مادہ ،، ہے، مختصر الفاظ میں اس کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ ”ڈی، این، اے ٹیسٹ،، ایسے موروثی مادہ کا نام ہے جوہر ذی روح میں موجود سینکڑوں خلیوں میں پایا جاتا ہے اور ایک نوع کے ذی روح کو اسی نوع کے دوسرے ذی روح سے ممتاز کرتا ہے۔
مذکورہ مادہ کی بناء پر اولاد کی شکل وشباہت اور مزاج واطوار میں اور والدین کی شکل وشہابت، مزاج واطوار میں بڑی حد تک یکسانیت ہوتی ہے۔ ”ڈی، این، اے ٹیسٹ،، میں مذکورہ مادہ کو لے کر مشین کے ذریعہ جانچاجاتاہے، مذکورہ ٹیسٹ کاتعلق چونکہ کسی مخصوص شئ کی رؤیت ومشاہدہ پر نہیں ، بلکہ تمام کارروائی مشین کے ذریعہ ہوتی ہے، اس لئے اس جانچنے میں غلطیوں کے کئی احتمالات پائے جاتے ہیں، مثلاً اجتماعی آبرو ریزی کیس میں خود محققین کے بقول ”ڈی، این، اے ٹیسٹ،، پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اس ٹیسٹ میں ملے جلے متفرق مادہ مل کر کسی تیسرے شخص کی غلط نشاندہی بھی کر سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمارے فقہاء نے اس طریقہ پر اعتماد نہیں کیا۔ چنانچہ موجودہ زمانہ کے نامور فقیہ ڈاکٹر وہبتہ زحیلی فرماتے ہیں:
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ”ڈی، این، اے ٹیسٹ،، ایک ظنی اور تخمینی چیز ہے اور ثبوت نسب کے سلسلہ میں جو شریعت کے متفقہ بنیادی اصول ہیں ان میں سے کسی کے ساتھ اس کا تعلق نہیں، اس لئے ”ڈی، این، اے ٹیسٹ،، کے ذریعہ کسی ثابت النسب بچہ میں شک پیدا کرنا اور اس کا انکار کرنا یا غیر ثابت النسب بچہ کے نسب کو ثابت کرنا یا ایک بچہ کے مختلف دعویدار ہوں تو ”ڈی، این، اے ٹیسٹ،، کے ذریعہ ان میں سے کسی ایک شخص کے ساتھ بچہ کا نسب متعین کرنا، ان میں سے کوئی بھی صورت شرعاً جائز اور درست نہیں۔
لہذا صورت مسؤلہ میں زید کی پہلی بیوی کے انتقال کے بعد دوسری منکوحہ بیوی سے جو بیٹا پیدا ہوا ہے چونکہ مذکورہ عورت زید کے نکاح میں ہے اس لئے ”الولد للفراش،، کے بنیادی قاعدہ کے تحت وہ بچہ زید ہی کا ہے، جبکہ خود زید بھی اس بچہ کو اپنابچہ قرار دے رہا ہے،لہذا اس بچہ کا نسب شرعاً زید ہی سے ثابت ہے۔
”ڈی،این، اے ٹیسٹ،، کی مذکورہ رپورٹ نے جو ثابت کیا ہے کہ مذکورہ بچہ زید کا نہیں ، شرعاً اس رپورٹ کا کوئی اعتبار نہیں اور محض اس رپورٹ کی بنیاد پر اس بچہ کے نسب پر شک کرنا اور بیوی پر غلط الزام لگانا شرعاً بہت بڑا سنگین جرم ہے ، لہذا مذکورہ رپورٹ پر اعتماد کرتے ہوئے مذکورہ بچہ کے نسب میں شک کرنے کی شرعاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔
۱/۴… مذکورہ بچہ کا نسب چونکہ شرعاً زید ہی سے ثابت ہے، اس لئے اس کی نسبت زید کی طرف کرتے ہوئے شناختی کارڈ اور اس کے علاوہ دیگر کاغذات میں ہرجگہ ولدیت کے خانہ میں زید ہی کا نام آئے گا، جدید ایجادات کی افادیت سے انکار نہیں، لیکن ان کی افادیت اس وقت تک تسلیم ہے جب تک شریعت کے اصولوں سے نہ ٹکرائے، لیکن جہاں ان کا شریعت کے اصولوں سے ٹکراؤ ہوگا، وہاں ان کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا ، بلکہ شریعت کے اصولوں کو ترجیح دی جائے گی۔
۲…زید کی پہلی بیوی کی اولاد کا زید کے انتقال کے بعد مذکورہ رپورٹ پر اعتماد کرتے ہوئے عدالت میں جاکر مذورہ بچہ کے نسب کی زید سے نفی کرکے اس کو وراثت سے محروم کرنا شرعاً ہرگز قطعاً جائز نہیں ہوگا، بلکہ مذکورہ بچہ زید کے انتقال کے بعد شرعاً اس کی وراثت کا حقدار ہوگا۔
۳…جب مذکورہ بچہ کا نسب شرعاً زید ہی سے ثابت ہے تو اس کے نان وفقہ کی ذمہ داری بھی زید پر ہے۔ فقط واللہ اعلم
الجواب صحیح الجواب صحیح
محمد عبد المجید دین پوری محمد داؤد
کتبہ
محمد نہال دانش
متخصص فی فقہ اسلامی
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی



