وکیل نکاح کی شرعی حیثیت !
محمد امين پوچھتے ہیں:
سوال
محترم مفتی صاحب !السلام علیکم !
کچھ دن پہلے میرا نکاح مکۃ المکرمہ میں ہواالحمداللہ۔
اس بارے میں چندسوالات میرے ذہن میں ہیں میرے والد کےدوست کو میری طرف سے گواہ بننا تھا لیکن کسی وجہ سے وہ نہیں آسکے توپھرمیرے والدمیری طرف سے گواہ بن گئے اورلڑکی کی طرف سے لڑکی کے چاچا گواہ تھے۔
کیا والدگواہ بن سکتے ہیں ؟
نکاح کے وقت کمرے میں قاضی کے ساتھ دواورسعودی بھی تھے جبکہ میری اورلڑکی کی والد بھی موجودتھیں۔ لڑکی کے والدولی تھےاورلڑکی بھی موجودتھی۔قاضی نے نکاح پڑھادیامیں نے قبول کرتےوقت یہ الفاظ کہے "نعم اناموافق"ایک ہی مرتبہ کہے۔نیت میری قبول کرنے ہی کی تھی۔
عربی زبان میں مجھے" میں نے قبول کیا" کے الفاظ بولنا نہیں آتےتھے۔پھرنکاح کےبعدمیرے،لڑکی اوراس کے والداور ونوں گواہوں کے دستخط لیےگئے۔
کیا نکاح صحیح ہے ؟
جزاک اللہ
سائل : محمدامین
جواب
1۔ والد گواہ بن سکتاہے۔ 2۔ قبول کرتے وقت "نعم " کہنا گویا کہ "ہاں"میں نے قبول کیا ہی کامعنیٰ ومفہوم ومطلب نکلتاہے۔ بناء برایں ان الفاظ کا معنیٰ کہنے سے نکاح منعقد ہوجائےگا۔ الغرض یہ نکاح صحیح ہے البتہ تجدید کرنے میں کچھ حرج بھی نہیں ،کرلینا بہتر ہےتاکہ ترددوشک دل میں نہ رہے۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی جامع ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں



