زبان

اردو
English

مذید دیکھیں

خصوصی مضمون

اسلامی بینکاری اور تصویر کا شرعی حکم

۲۰١۲ ماہنامہ بینات

بہترین دیکھنے کے لیے

بسم الله الرحمٰن الرحیم

مصارف زکوٰة !

Samz پوچھتے ہیں: 

سوال

محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
مسکین اورفقیر میں کیافرق ہے ؟
سفید پوش کی اصطلاح کس لیے استعمال کی جاتی ہے ؟
زکوٰةکی رقم کن کن مقاصد یا مصرف میں استعمال کی جاسکتی ہے اورکن میں نہیں کی جاسکتی ؟ (وجہ بتادیں)
زکوٰةۃ میں ملکیت کا کیا مسئلہ ہے؟ اور کیا تملیک کے وقت یا کسی کودیتے وقت کیا زکوٰةۃ کا بتانا لازمی ہے ؟
مفتی صاحب میں نے سنا ہے کہ دوہی طبقے ہوتے ہیں ایک زکوٰةۃ دینے والے( جن کا نصاب پوراہو) دوسرا جن کا نصاب پورانہ ہووہ زکوٰةۃ لے سکتے ہیں؟
کیا یہ بات ٹھیک ہے؟
زکوٰةۃ کے پیسوں سے شادی کروائی جاسکتی ہے ؟

جزاک اللہ

سائل : Samz

جواب

1۔ صورت مسئولہ میں جو شخص مقدارِ نصاب جو ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت خواہ نقدیت کی صورت میں ہویا سامان تجارت کی صورت میں ہواس کا مالک تونہ ہوالبتہ اس سے کم کا مالک ہوتو وہ مستحقِ زکوٰة ہے۔ ایسے شخص کو شرعاً فقیر کہتے ہیں اورجس کے پاس مقدارنصاب سے بھی کم مال نہ ہو یہاں تک کہ کھانے پینے اوربدن چھپانے کے لیے بھی کچھ نہ ہوتو وہ مسکین کہلاتاہے۔
2۔ سفید پوش عرف عام میں اس شخص کو کہتے ہیں جوضرورت مندتوہے لیکن اس کا اظہارنہیں کرتااورلوگ ظاہری حالت کی وجہ سے ضرورت مند نہ سمجھتےہوں۔
3۔ قرآن کریم نےزکوٰةۃ کے آٹھ مصارف ذکرکیے ہیں۔ زکوٰةۃ کو ان ہی مصارف میں خرچ کیا جائے۔ ان سے ہٹ کرخرچ کرنے سے زکوٰةۃ ادا نہیں ہوگی۔
4۔زکوٰة کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ زکوٰةۃ کو مستحق زکوٰةۃ فردکی ملکیت میں بلاکسی معاوضہ اللہ کے واسطے دیا جائے اورزکوٰةۃ دیتے وقت زکوٰةۃ کی صراحت ضروری نہیں بلکہ اگرسفید پوش شخص ہےاور یہ قوی اندیشہ ہے کہ اگر بتائیں گے تو نہیں لے گا تواس صورت میں نہ بتانا بہترہے۔
5۔ صاحب نصاب فردزکوٰةۃ دینے کا پابند ہے اوربغیرنصاب والے فرد کے لیے اسے لینے کا استحقاق ہے لیکن اس کے لیے زکوٰةۃ مانگنا ناجائز ہے۔ ہاں کوئی دیدے تولینے میں کوئی حرج نہیں۔
 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی جامع ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں