شوہر کا بیوی کی طلاق کو نماز کے ساتھ معلق کرنا !
mukaram پوچھتے ہیں:
سوال
محترم مفتی صاحب !السلام علیکم !
کیا فرماتے ہیں علماء دین و علماء امت کہ اگر ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر آئندہ نماز نہ پڑھی تو تجھے تین طلاق اب اگر وہ عورت بھول کر یاسونے کی وجہ سے یا جان بوجھ کر نماز قضاء کرلے اوربعد میں قضاء بھی پڑھ لے تو کیا تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی یا نہیں ۔
مکمل جواب تحریر فرمائیں۔
جزا ک اللہ
سائل : سید مکرم شاہ
جواب
صورت مسئولہ میں چونکہ مرد نے اس شرط کو عام رکھا ہے بھول یا سونے یا قضاء کو مستثنی ٰ نہیں کیا ہے اس لیے اگر بیوی قصداً سہواً بھول کر یا سونے کی وجہ سے نماز چھوڑ دے اگرچہ بعد میں اس کی قضاء کرے تب بھی تینوں طلاق واقع ہوجائیں گی اور بیوی حرمت ِ مغلظہ سے اپنے شوہر پر حرام ہوجائے گی ۔تین ماہ واریاں عدت گزارنے کے بعد کسی اور جگہ اس کے لیے نکاح کرنا جائز ہوگا۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
نوٹ : تفصیلی جامع ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں



