بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

رمضان میں مٹھائی اور عطر کی تقسیم کا اہتمام


سوال

ہر سال ماہ رمضان میں ختم تراویح کے موقع پر جو مٹھائی، عطر، یا دیگر چیزیں تقسیم ہوتی ہیں، یہ کہاں سے ثابت ہیں؟ کیا یہ بدعت کے زمرے میں نہییں اآئے گا؟ کیوں کہ اس کو ہر سال پابندی سے منایا جاتا ہے، ٹھیک ہے کہ اس کو دین کا حصہ نہیں سمجھا جاتا لیکن عوام اس کو ضروری تو نہیں سمجھ بیٹھیں گے؟ صرف اس خیال سے اس کو ترک کرنا کیا صحیح ہے؟ اگر یہ ضروری نہیں تو پھر ہر سال کیوں ہوتاہے؟

جواب

سنن بیہقی، تاریخ ابن عساکر اور تاریخ ذہبی میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ نے سورہ بقرہ مکمل یاد کرنے کی خوشی میں ایک اونٹ ذبح کر کے لوگوں کی دعوت کی تھی۔ اس واقعے اتنا معلوم ہوا کہ خوشی کے موقع پر اس طرح کا کوئی اہتمام کرنا، جب کہ اس کو ضروری اور اور دین کا حصہ نہ سمجھا جائے، شرعی نقطہ نگاہ سے جائز ہے۔ اس لیے کہبدعت اس نئے عمل یا عقیدے کو کہا جاتا ہے جس کو ضروری سمجھ کر دین کا حصہ قرار دے دیا گیا ہو، چونکہ یہ عمل کہیں بھی ضروری اور دین کا حصہ سمجھ کر نہیں کیا جاتا ہے، اس لیے اس عمل پر بدعت کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اگر کہیں پر لوگوں کے اس عمل کو ضروری اور دین کا حصہ سمجھ بیٹھنے کا شبہ ہو تو اس کو ترک کیا جاسکتا ہے۔بہرحال اس کو ضروری نہ سمجھا جائے اور مسجد یا وقف فنڈ سے اس کا اہتمام نہ ہو تو ختم پر شیرینی وغیرہ تقسیم کی جاسکتی ہے فقط


فتوی نمبر : 143508200001

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے