بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

قرض دار پر زکاۃ


سوال

اگر کسی کے پاس 2 تولے سونا اور 500 یا2000 روپے ہو اور اس کے اوپر قرض بھی ہو اور کام کا کوئ زریعہ نہ ہو یعنی غریب ہو تو کیا اس پر زکواۃ ہےاگر کسی کے پاس 4 تولے سونا اور 20,000 روپے ہو اور اس کے اوپر کتنی زکواۃ ہوگی؟

جواب

جس شخص پر قرض ہے اگر اس کے قرضہ کی رقم منہا کر کے باقی ماندہ سونا اور نقد رقم ملا کر چاندی کے نصاب کے بقدر پہونچتی ہے تو اس پر مجموعی مال کی ڈھائ فیصد رقم زکاۃ لازم ہوگی۔اور جس شخص کے پاس 4 تولے سونا اور 20،000 روپے نقد رقم ہے وہ زکاۃ ادا کرنے والے دن سونے کی قیمت معلوم کر کے کل مالیت کی ڈھائ فیصد رقم زکاۃ میں ادا کردے۔زکوۃ کی ادائیگی کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ کے پاس مثلا سونا دولاکھ روپے کا ہے اور بیس ہزار نقدی ہے ،دونوں کو ملا کر دولاکھ بیس ہزار ہوئے اب اس پوری رقم کو چالیس سے تقسیم کردیں جو جواب آئے اتنی ہی زکوۃ آپ پر واجب ہے۔


فتوی نمبر : 143511200009

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے