بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

فون میں اذان کا الارم لگانا


سوال

السلام علیکم،1۔ میرے آفس کے ایک ساتھی نے اپنے فون پر اذان الارم کے طور پر لگا رکھی ہے، کیا یہ صحیح ہے؟2۔ میں نے سنا ہے کہ جو شخص اذان کے دوران بات کرے گا اس کو مرتے وقت کلمہ نصیب نہیں ہوگا؟3۔ اور کیا ٹی وی، ریڈیو پر آنے والی اذان کے لیے بھی یہی حکم ہے؟

جواب

1۔ اذان شعائر اللہ میں سے ہے، اور شعائر اللہ کی تعظیم ہر حال میں لازم ہے، اور فون میں الارم یا گھنٹی کے طور پر اذان استعمال کرنا اس کی عظمت کے منافی ہے اور توہین کے زمرے میں آتا ہے۔ لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔2۔ ہمیں اس بارے میں کوئی تحقیق نہیں، البتہ اذان کے دوران بات کرنا مکروہ اور خلاف ادب ہے، اذان کے وقت اذان کا جواب دینا چاہیے۔3۔ ٹی وی یا ریڈیو پر نشر ہونے والی اذان حقیقت میں اذان نہیں، بلکہ پہلے سے دی گئی اذان کی آواز ہے، لہذا اس کا وہ حکم نہیں جو اصل اذان کا ہے جسے نماز کے لیے دیا جاتا ہے۔


فتوی نمبر : 143501200023

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے