بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

NRFC مائیکرو فائنانس بینک سے گاڑی خریدنا


سوال

NRFCمائیکرو فائنانس بینک ہے،  اور اسلامی سسٹم کا دعوی کرتے ہیں۔ اس سے میں ایک گاڑی خرید رہا ہوں 900,000 روپے میں ۔ 20 فیصد روپے ابھی ادا کروں گا جب کہ باقی 80 فی صد 3 سال میں 2 لاکھ کرایہ کے ساتھ ادا کروں گا ۔ تو کیا یہ ڈیل اسلامی نقطہ نظر سے میرے لیے حلال ہے یا حرام؟ کرایہ کے دو لاکھ روپے 9 لاکھ کل قیمت میں شامل ہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ طریقہ کے مطابق گاڑی لینا شرعاً جائز نہیں ہے؛  تاحال ملک کے  کسی بھی  بینک کا طریقہ ( خواہ روایتی بینک ہو یا مروجہ اسلامی بینک ہو)اکثر  جید اور مقتدر علماءِ کرام کے نزدیک شریعت کے اصول کے مطابق نہیں ہیں، لہذا کسی بھی قسم کے بینک سے تمویلی معاملات جائز نہیں ہیں۔

تفصیل کے لیے  "مروجہ اسلامی بینکاری" (تجزیاتی مطالعہ، شرعی جائزہ، فقہی نقد وتبصرہ) ( مکتبہ بینات، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی) کا مطالعہ کرلینا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200300

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے