بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے علاوہ جگہ میں اذان دینا


سوال

السلام علیکم، مفتی صاحب، ہمارے آفس میں ایک جگہ ہے جہاں ہم ظہر اور عصر کی جماعت بغیر اذان کے کرواتے ہیں، جبکہ وقت ہوجاتا ہے مگر آفس کے قریب کی مسجدوں میں اذان نہیں ہوتی، لہذا اس صورت میں ہماری جماعت کی نماز میں کوئی اشکال یا شک تو نہیں ہے؟ اور مستقل اذان نہ دینے پر کیا گناہ لازم ہوگا؟ اللہ رب العزت آپ حضرات کی خدمت کو قبول فرمائے اور آپ کو جزائے خیر عطاء کرے، آمین۔

جواب

مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ گھر، آفس وغیرہ میں نماز پڑھنے کی صورت میں بھی اذان اور اقامت کہنا مستحب ہے، لہذا انہیں چھوڑنے کی مستقل عادت نہ بنائی جائے۔


فتوی نمبر : 143407200004

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے