بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مبیع کوفروخت کرنے کے بعدبائع کی اجازت کے بغیرمشتری کا فروخت کرنا


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے  کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے ایک آدمی کو کچھ سامان ۱۰۰۰ روپے کا بیچا ۔اور اس میں سے ۱۰۰روپے نقد لے لیے اور باقی ۹۰۰ روپے ایک ماہ بعد وصول کرنے تھے ۔ مگر ایک ماہ بعد نا تو وہ خریدار آیا اور نہ ہی میرے باقی پیسے ادا کیے۔ آخر کار ایک سال تک میں اسکو وقتا فوقتا کہتا رہا کہ بھایٔ آجاو اور اپنا مال وصول کر لو اور مجھے باقی رقم دے دو ۔مگر نہ تو وہ خود آیا  اور نہ ہی اپنا مال وصول کیا۔ آخر ایک سال کے بعد وہ مال مجھے کم رقم پر بیچنا پڑا ۔۔اب پوچھنا یہ ہے کہ میرے لیے یہ بات جائز ہے ۔کہ اس آدمی کے میرے پاس جو ۱۰۰ روپے پڑے ہیں ۔میں اپنا کچھ نقصان ان پیسوں سے پورا کر لوں۔ یا میرے لیے یہ ۱۰۰روپے واپس کرنا لازمی ہے۔یاد رہے کہ مبیع میرے قبضے میں  ہے اور رقم میں سے صرف ۱۰۰ روپے وصول کیے ہیں باقی ایک ماہ بعد  ادائیگی کرنی تھی۔

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ چیز سودا ہوجانے کےبعد سائل کی ملکیت سے نکل کر مشتری کی ملکیت میں داخل ہوچکی ہے ۔اب سائل کے ذمہ لازم تھاکہ اس مبیع کو مشتری کیلئے محفوظ رکھتا، لیکن جب اس نے اجازت کے بغیر فروخت کردیا تو اب سائل اس کا ضامن ہے اور اس کی کل مالیت جس پر سودا ہواتھا وہ محفوظ رکھے تاوقتیکہ وہ آکر اس کو وصول نہ کرلے اور اس کے ذمہ جوواجب الاداء رقم ہے اس کی ادائیگی کردے ، اگر مشتری نہیں آتا تو بذریعہ عدالت اس کو طلب کرکے معاملہ کا تصفیہ کیاجاسکتاہے ، عدالت اور حاکم کی اجازت کے بغیر سائل کیلئے اس مبیع کو فروخت کرنے کی اجازت نہیں تھی، اور جب فروخت کرچکا تو اس سے اپنے نقصان کو پوراکرنے کی اجازت نہیں ہے ۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143406200030

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے