بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

خلع کے احکام ومسائل


سوال

میرانام صائمہ طاہرہے اورعمر 23سال ہے میری تربیت ایک بہت اچھےاورصاف ستھرے ماحول میں ہوئی ہے۔ دس سال کی عمرمیں میں نے قرآن کریم حفظ کیاتھااقراء روضۃ الاطفال سے، اس کے بعد انٹرتک تعلیم حاصل کی اور21 سال کی عمرمیں 16 جولائی 2009ء کو میری شادی ہوگئی اپنی برادری میں اورسب کی رضامندی سے۔ وہاں کا ماحول میرے لیے بالکل نیا تھاجیسا ہر لڑکی کے لیے ہوتاہے۔میرامسئلہ یہ ہے کہ میرے سسرال والوں کو لگتاہےکہ میرے ہاں اولاد نہیں ہوسکتی، ان لوگوں نے میرے ہرطرح کے ٹیسٹ کروالیے اورالحمدللہ میری ہر رپورٹ کلئر اورپرفیکٹ آئی ہےلیکن پھربی وہ کہتے ہیں کہ تمہارے گھروالوں نے ہمیں دھوکہ دیاہے۔ اورہرڈاکٹرنے میرے شوہرکے ٹیسٹ لکھ کردیے ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ ہمارابیٹا بالکل ٹھیک ہے۔ خرابی لڑکی میں ہے انہی باتوں کے بیچ میرے والداورمیرے سسرکا کاروباری تنازع ہوگیا ، جس میں ہرشخص نے گواہی دی ہے کہ میرےابو بے قصورہیں۔اوراب اپنے والدین کے دباؤ کی وجہ سے میرےشوہربچے نہ ہونے کی وجہ سے مجھے طلاق دے رہے ہیں اورکہہ رہے ہیں کہ میں اس عورت سے خوش نہیں ہوں۔ اوریہ لڑکی فیزیکلی بھی ٹھیک نہیں ہے۔ اس پورے ایک سال میری ساس کا میرے ساتھ وہی مخصوص جہالت والا رویہ رہا لیکن الحمدللہ میں نے کبھی ان کو ئی جواب نہیں دیا یہ میری تربیت تھی۔ جتنی جہالت کا ثبوت وہ دے سکتی تھیں انہوں نےدیا۔nمیرے شوہرکارویہ میرے ساتھ بہت اچھا رہالیکن کاروباری مسئلہ کے بعدسے وہ بھی مجھ سے بدظن ہوگئے اورجہاں تک بچوں کے ہونے کی بات ہےتوہرڈاکٹرنےمیری رپورٹس دیکھ کریہی کہاہے کہ میں بالکل ٹھیک ہوں آپ لوگ کچھ باتیں اللہ پر بھی چھوڑدیں اولاد کا ہونا نہ ہونا سب اللہ کے اختیار میں ہے۔ اورطاہر کا نظریہ بھی یہی تھا لیکن کاروباری مسئلہ کے بعدسے وہ بھی مجھے ہی قصوروارٹہرارہے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہےکہ ان کے گھروالے اورمیرے شوہر مجھے چھوڑ رہے ہیںلیکن ان لوگوں کا مطالبہ خلع کا ہے۔ جب کہ اصولی بات یہ ہے کہ وہ مجھے چھوڑنا چاہ رہے ہیں توطلاق کیوں نہیں دے رہےمجھے۔براہ کرم میری راہنمائی فرمائیں کہ شریعت کیا کہتی ہےاس معاملے میں ؟میرامہر75،000 مؤجل تھا، جب مجھے ان لوگوں نے وہاں سے بھیجا تو اتنی ہی ملکیت کا زیورپہناکربھیجاتھا اور بعد میں کہاکہ ہم نے مہردے دیا۔ کیا زبردستی خلع لینے سےمجھ پر گناہ ہوگا؟اورخلع کے بعد یہ مہر مجھے واپس لوٹانا ہوگا یا نہیں ؟

جواب

اولاد کا ہونایانہ ہونا یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی پرموقوف ہے جسے چاہےاولاد دےاور جسے چاہے بانجھ بنادے۔ [ الشوری : 51] اس لیے سائلہ کے شوہر اور سسرال والوں کو فہم سے کام لینا چاہیے پھرشادی کوکچھ زیادہ عرصہ بھی نہیں ہوا، ممکن ہے آگے چل کراولاد ہوجائے لہٰذا اس معمولی وجہ سے گھرنہ اجاڑاجائے۔ گھر بسانے کی پوری کوشش کی جائے ، تاہم پھربھی اگر شوہراورسسرال والے جدائی ہی چاہتے ہیں توانسانی شرافت کا تقاضا یہ ہے کہ شوہربغیرعوض طلاق دے قرآن کریم کا حکم یہی ہے سورۃ النساء آیت نمبر20۔ سائلہ پر جبرکرکےخلع پر مجبورکرنا درست نہیں، مہرسائلہ کا حق ہے جب تک وہ رضامندی سے نہ چھوڑے کسی کے لیے اس کا لینا حلال نہیں۔ البتہ ان مجبوریوں کے پیش نظر اگرسائلہ اخلاقی دباؤ میں آکر خلع قبول کرلیتی ہےتو خلع واقع ہوجائے گا اورجس مالیت کے بدلہ خلع کیا جائے گا اتنی مالیت سائلہ کودینا ہوگی، سواگر خلع مہر کی مقدارپر ہواتومہرلوٹانالازم ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200547

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں