بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

جعلی ڈگری کا حصول


سوال

آپ سے یہ سوال ہے کہ اگرکوئی شخص جعلی ڈگری یاکوئی بھی جعلی سند لے کر کوئی اعلیٰ نوکری حاصل کرلے یااسمبلی میں منتخب ہوجائے تواس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟اس سلسلے میں سعودی عرب میں مفتی اعظم صاحب نےبھی حال ہی میں ایک فتویٰ (فیصلہ ) دیا ہے ۔

جواب

جعلی ڈگری (سند) کاحصول دھوکہ دہی اورخیانت ہے،حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےارشادکےبموجب دھوکہ دہی کرنےوالا شخص ایمان کامل کی نعمت سےمحروم ہے۔ایسا شخص اگرمتعلقہ عہدےاورادارے میں عملی کارکردگی کےلیے اہل نہ ہوتواس کےلیےمتعلقہ عہدے پرفائزرہناجائز نہیں ہےاس لیے اس کی تنخواہ اورآمدن بھی ناجائزہوگی۔
سعودی عرب کے مفتی اعظم کا فتویٰ نظرسےگزرا ہے وہ فقہی اورانتظامی دونوں پہلوؤں کو سامنے رکھ کرصادر کیا گیا ہے ، فی الجملہ صحیح ہے۔
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200614

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے