بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1440ھ- 18 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

حرام اور مکروہ تحریمی میں فرق، مذی سے پاکی کا طریقہ


سوال

حرام اور مکروہ تحریمی میں عملی اعتبار سے کیا فرق ہے؟ کس حالات میں انسان مکروہ تحریمی کا ارتکاب کر سکتا ہے؟ایک نوجوان شخص کے لیے مذی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، اس لیے کہ وہ بلاقصد بہہ جاتی ہے اور انسان کو خیال نہیں رہتا۔ جب کپڑون پر مذی کی کوئی علامت نہ ہو تو کیا کیا جائے؟ مذی سے بچنے اور کپڑوں کو پاک رکھنے کا کوئی طریقہ بتادیں۔

جواب

عملی اعتبار سے حرام اور مکروہ تحریمی میں کوئی فرق نہیں، دونوں ہی کا ارتکاب خدا کی نافرمانی اور ناراضگی کا باعث ہے۔ پیشاب سے استنجا کے وقت پیشاب کو اچھی طرح سکھا لینے سے مذی کے بلا ارادہ واختیار نکل جانے سے کافی حد تک چھٹکارا حاصل ہوسکتا ہے۔ اگر مذی نکل کر کپڑوں پر بہہ جانے کا یقین ہو جائے، تو کپڑے کے اتنے حصے کو جتنے حصے پر مذی کے لگ جانے کا خیال ہو، تین مرتبہ پانی سے اچھی طرح دھو لینے، اور ہر مرتبہ کے بعد پوری طرح نچوڑ کر سکھا لینے سے کپڑا پاک ہو جاتا ہے۔ مذی کا مستقل بہاو بیماری کیعلامت ہے، ایسے مریض کے لیے ماہر طبیب سے رجوع مفید ہوگا۔


فتوی نمبر : 143101200710

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے