بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

جی پی فنڈ کے انٹرسٹ فری اور انٹرسٹ اپلائید اکاؤنٹ کا حکم


سوال

جی پی فنڈ کے دو اکاؤنٹس ہوتے هیں: انٹرسٹ فری اور انٹرسٹ ایپلائڈ.

انٹرسٹ فری میں اضافہ نہیں ہوتا، جب کہ انٹرسٹ اپلائیڈ پر اضافہ ملتاہے۔ یہ کسی ملازم کے اپنے اختیار میں ہوتاہے کہ وہ کون سا اکاؤنٹ کھولنا چاہتاہے، تو اس صورت میں اگر کوئی انٹرسٹ ایپلائڈ اکاؤنٹ کھولے تو اس پر ملنے والی اضافی رقم کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ نیز فتوی نمبر 2156 میں دیے گئے جواب کی تصحیح فرمائیں کیوں کہ کچھ لوگ اس کو جواز بنا کر اس کو جائز ٹھہراتے ہیں.

جواب

واضح رہے بعض اداروں میں کٹوتی کا ملازم کو اختیار ہوتا ہے کہ اگر وہ نہ چاہے تو جی پی کی مد میں کٹوتی ہی نہیں ہوگی ،اس طرح کے اختیار کی صورت میں اصل رقم جو محکمہ تنخواہ سے وضع کرتا ہے اس کا لینا جائز ہے اورجو اضافی رقم ادارہ اپنی طرف سے اس میں شامل کرتاہے اس کا لیناجائزہے۔ البتہ ان دونوں رقموں کے اوپر جو سود ملتاہے اسے لینا جائز نہیں ہوگا۔ اور جن محکموں میں بہر صورت جی پی کی مد میں کٹوتی ہوتی ہے ان میں اصل اور اضا فہ دونوں کا لینا جائز اور حلال ہے؛ کیوں کہ محکمہ کے اس کو سود کہنے سے وہ رقم سود نہیں ہوجاتی جب تک کہ اس میں سود کی حقیقت نہ ہو۔ اور تحقیق یہی ہے کہ وہ رقم سود نہیں ہوتی ۔ سائل نے جس فتوی کاحوالہ دیا ہے اس کو اس تفصیل کے تناظر میں دیکھا جائے تو کوئی اشکال نہیں رہے گا۔اگر مکمل تفصیل درکار ہو تو مفتی محمد شفیع دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ کا رسالہ پراویڈنٹ فنڈ ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143506200010

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے