بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ایلو پیتھک دوا کااستعمال


سوال

اکثر ایلو پیتھک میڈیسن بنانے والی کمپنیاں اپنی دواؤں کے اجزائے ترکیبی کے بارے میں نہیں لکھتیں۔ جس کی وجہ سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ حلال ہے یا حرام۔ سوال یہ ہے کہ ایسی دوائیں جنکے مآخذ کا علم نہ ہو کہ حلال ہے یا حرام ان کا شریعت میں کیا حکم ہے؟

جواب

جب تک ان دوائوں میں کسی حرام جزء کے شامل ہونے کاتحقیقی طور پر پتہ نہ ہو اس وقت تک ان دواوں کا استعمال جائز ہے، بلاوجہ تجسس کرنے کی اور شبہ میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔اور اگر کوئی حرام جزء شامل ہو تو پہر اگر اس دواء کا متبادل ملتا ہو تو اس کا استعمال ناجائز ھےاور اگر کوئی متبادل نہ ہو اور اس کے بغیر علاج ناممکن ہو تو پھر اس دواء کے استعمال کی گنجائیش ھے۔ واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143412200005

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے