بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

دوسری شادی کی قسم کھانے والا کب حانث ہوگا


سوال

میرے کزن نے اپنی اہلیہ سے جھگڑے کےدوران قسم کھالی تھی کہ میں دوسری شادی کرلوں گا، اب اس کو اپنی اس بات پرافسوس ہے اوراس کادوسری شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اب اس کو کیاکرنا چاہئے ؟ آیا کوئی کفارہ ہے ؟وہ ایک پرائمری اسکول ٹیچرہےاورغریب آدمی ہے۔

جواب

آپ کے جس عزیزنےدوسرانکاح کرنے کی قسم کھائی ہےتوجب تک زندگی سے ناامیدہوکرنکاح کرنےکاامکان باقی نہ رہےاس وقت تک مذکورہ شخص کی قسم نہیں ٹوٹے گی، کسی قسم کا کوئی کفارہ نہیں آئے گاالبتہ جب زندگی کی آخری سانسیں چلنے لگیں اوراس وقت تک انہوں نے دوسرانکاح نہ کیا ہوتوپھران کی قسم ٹوٹ جائے گی اورقسم کا کفارہ یعنی دس مسکینوں کودووقت کاکھانایادس مسکینوں کودرمیانے درجہ کا لباس فراہم کرنا ہوگااوراگراس کی استطاعت نہ ہوتوپھرمتواترتین دن روزے کفارہ کے طورپررکھنے ہوتے ہیں اگرآخری مرحلے میں ادانہ کرسکا تو وصیت کردے تواس کی طرف سےقسم کا کفارہ ادا کیا جائے ۔ فی الحال ان کے ذمے کسی قسم کا کفارہ نہیں ہے لیکن اس طرح بات بے بات پرقسم اٹھالینے سے اجتناب ضروری ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200486

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے