بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

بغيرمحرم كے عمره كرنے كاحكم


سوال

مولاناصاحب میں پاکستان میں رہتا ھوں میں یہ پوچھنا چاھتا ھوں کہ میری امی کی عمر ۴۰ سال ہے۔وہ عمرے پر جانا چاہتی ہے کیا وہ بغیر محرم کہ عمرے پر جا سکتی ہے۔اور عمرہ کر سکتی ہے۔کو ئ محرم کا بندوبست نہیں ہو رہا ۔اسلام میں یہ جائز ہے کہ نہیں۔اور میں نے یہ پوچھنا ہے کہ لوگ عارضی طور پر گروپ میں سے کسی کو محرم بنا لیتےہیں کیا یہ اسلام میں جائز ہے کہ نہیں۔مولانا صاحب جلدی اور مفصل جواب دے۔

جواب

بصورت مسئوله سائل كى والده كے ليے بغيرمحرم كے عمرے پرجانادرست نهيں، شرعى مسافت سفر ميں عورت كے ساتھ محرم كاهونا ضرورى هے، حديث شريف ميں عورت كوبغير محرم كے شرعى سفر كرنے سے منع كياگياهے خواهوه سفر حج هي كاكيوں نه هوجھوٹ كهه كرعارضى طورپر غيرمحرم كومحرم بنانے ميں جھوٹ كے گناه كے ساتھ غيرمحرم سے اختلاط اور حديث بالا كى مخالفت كاگناه بھى هوگا، اس ليےعمرے كے مبارك سفرميں ان گناهوں كا ارتكاب كسي طرح بھي جائزنهيں هے. فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 143506200008

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے