بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1440ھ- 21 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

70 کلومیٹر ریتیلے علاقے میں سفر کے دوران روزہ توڑدینا


سوال

میں 70 کلو میٹر ریتلے علاقے سے سفر کر رہاتھا، گرمی کی وجہ سے مجھے روزہ تکلیف دہ لگا اور واپسی بھی کرنا تھی، ایک جگہ آبادی تھی، باقی ریت کا علاقہ  تھا تو مجھے دوستوں نے کہا: اسلام میں سفر میں روزہ  افطار کی اجازت ہے تو میں نے کر لیا۔ اس صورت میں کیا حکم ہے؟

جواب

اگر سفر کی مسافت کی مقدار کم سے کم اڑتالیس میل (سو استتر کلومیٹر) یا اس سے زیادہ ہو تو ایسے شخص کو اپنے شہر کی حدود سے نکلنے کے بعد روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کا اختیار ہوتا ہے، اور نہ رکھنے کی صورت میں بعد میں اس روزہ  کی قضا کرنا لازم ہوتی ہے، سوا ستتر کلومیٹر سے کم سفر ہو تو وہ شرعی سفر کی مقدار نہیں ہے، اس لیے اس میں روزہ چھوڑنے کی بھی اجازت نہیں ہے، بلاعذر روزہ توڑدیا تو قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے، البتہ شرعی مسافتِ سفر سے کم سفر میں اگر پیاس یا بھوک کی وجہ سے حالت غیر ہوگئی، یا جان جانے کا اندیشہ ہو، یا عقل چلے جانے کا اندیشہ ہو  تو اگر ایسا شخص  روزہ توڑدے تو اس پر کفارہ لازم نہیں ہوگا، صرف ایک روزہ کی قضا لازم ہوگی۔

لہذا اگر آپ کی منزل سوا ستتر کلومیٹر  یا اس سے زیادہ دوری پرتھی اور آپ نے سفر کے دوران روزہ توڑدیا تو  آپ کے لیے سفر میں روزہ توڑنا جائز تھا، اور بعد میں اس کی قضا کرنا ہوگی، اور اگر آپ کا  ارادہ  سوا ستتر کلومیٹر سے کم کا تھا، تو آپ شرعی مسافر نہیں تھے، تاہم اگر ریتیلی علاقے میں سفر کرنے کی وجہ سے گرمی کی شدت اور پیاس سے بے حال ہوکر یا جان یا عقل جانے کے اندیشہ سے روزہ توڑدیا تھا تو اب صرف اس روزہ کی  قضا کرنا لازم ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 421):
" وبقي الإكراه وخوف هلاك أو نقصان عقل ولو بعطش أو جوع شديد ولسعة حية (لمسافر) سفراً شرعياً.
(قوله: وخوف هلاك إلخ) كالأمة إذا ضعفت عن العمل وخشيت الهلاك بالصوم، وكذا الذي ذهب به متوكل السلطان إلى العمارة في الأيام الحارة والعمل حثيث إذا خشي الهلاك أو نقصان العقل. وفي الخلاصة: الغازي إذا كان يعلم يقيناً أنه يقاتل العدو في رمضان ويخاف الضعف إن لم يفطر أفطر، نهر. (قوله: ولسعة حية) عطف على العطش المتعلق بقوله: وخوف هلاك ح أي فله شرب دواء ينفعه (قوله: لمسافر) خبر عن قوله الآتي: الفطر، وأشار باللام إلى أنه مخير ولكن الصوم أفضل إن لم يضره كما سيأتي، (قوله: سفراً شرعياً) أي مقدراً في الشرع لقصر الصلاة ونحوه وهو ثلاثة أيام ولياليها، وليس المراد كون السفر مشروعاً بأصله ووصفه بقرينة ما بعده".

الفتاوى الهندية (1/ 206):
" (منها: السفر) الذي يبيح الفطر وهو ليس بعذر في اليوم الذي أنشأ السفر فيه، كذا في الغياثية. فلو سافر نهاراً لايباح له الفطر في ذلك اليوم، وإن أفطر لا كفارة عليه بخلاف ما لو أفطر ثم سافر، كذا في محيط السرخسي". 
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201454

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے