بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 جنوری 2019 ء

دارالافتاء

 

بچہ جننے کے 40 دن کے بعد آنے والے خون کا حکم


سوال

 میری بیگم جس نے 53 دن پہلے بیٹے کو جنا اور 40 دن بعد غسل کر کے نمازیں شروع کیں پر 50 وے دن تھوڑا سا براؤن رنگ کا خون آنے لگا بیگم نے نماز ترک کردی اس کے بعد 52 دن لال رنگ کا خون آنے لگا اور 53 دن دوبارہ براؤن رنگ کا خون آیا اور بند ہوگیا تو اس حالت میں کیا کریں، نماز پڑھنی چاہیے یا نہیں؟ کیا یہ ماہواری ہے؟

جواب

نفاس یعنی ولادت کے بعد خون آنے کی مدت  صرف 40 دن ہی ہو تی اس سے زیادہ نہیں۔  اور کم سے کم طہر کی مدت 15 دن کی ہے۔لہذا  اگر آپ کی اہلیہ کو چالیس دن تک خون آیا تھا ور چالیس دن پورے ہونے پر غسل کیا تھا تو اب 40 کے بعد جو خون آیا خواہ وہ کسی بھی رنگ کا ہو وہ استحاضہ ہے ان دنوں کی نمازیں واجب ہیں۔

البتہ نفاس کا خون بند ہوجانے کے  15 دن گزرنے کے بعد اگرخون آیا ہے تو وہ ماہ واری ہے۔ ان دنوں کی نمازیں واجب نہیں۔

"عن أم سلمة رضي اللّٰه عنها قالت: کانت النفساء تقعد علی عهد رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم أربعین یوماً". (شامی بیروت ۱؍۴۳۲،)

 سنن دارمی 

"أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: الطُّهْرُ خَمْس عَشْرَةَ".
ترجمہ: سفیان فرماتے ہیں طہر کی مدت پندرہ دن ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200101


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں