بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

بچوں کے ناموں کے ان کی شخصیت پر اثر اور نام رکھنے کے لیے کن باتوں کو پیش نظر رکھا جائے ؟ / حسینین نام رکھنا


سوال

میں نے ایک سوال پوچھا تھا، اس پر مکرر سوال ہے، پہلے سابقہ سوال اور اس کا جواب درج ذیل ہے: 

سوال: میری بیٹی کا نام "حسینین" ہے، کیا یہ درست نام ہے؟ اور اس کا معنٰی کیا ہے؟

جواب:  لغتِ عربی میں حسن ، حسین اور حسنین کے اسماء ملتے ہیں، البتہ ’’حسینین‘‘ کا عرف میں استعمال نہیں ہے، ’’حسینین‘‘ حسین کا تثنیہ ہے، جس کے معنی دو حسین کے ہیں۔ ’’حسنین‘‘ یا’’حسینین‘‘ مذکر کے صیغے ہیں؛ لہٰذا یہ لڑکی کا نام نہیں رکھنا چاہیے۔ بہتر یہ ہے کہ آپ اپنی صاحب زادی کا نام صحابیات کے ناموں میں سے کوئی رکھ لیں، نیز ہماری ویب سائٹ پر اسلامی نام کے حصہ میں اچھے معانی کے اسماء میں سے کوئی اسم منتخب کر لیں۔ فقط واللہ اعلم

اب یہ معلوم کرنا ہے کہ ’’حسینین‘‘  نام رکھنے سے اس بچی کی شخصیت پر تو کوئی اثر نہیں ہوا ؟  کیوں کہ اس نام کے اثرات تو ہمیں اچھے دکھے ہیں؛ اس لیے ہم چاہ رہے ہیں کہ یہی نام رہنے دیں!

جواب

شریعتِ مطہرہ نے مسلمانوں کو اپنے بچوں کے اچھے نام رکھنے کا حکم دیا اور اس کو والدین پر اولاد کا حق قرار دیا ، اور جن ناموں کے معنی اچھے نہیں ہیں ان کو رکھنے سے منع کیا، خود آپ ﷺ نے بہت سے بچوں کے ایسے نام جن کے معنی اچھے نہیں ہوتے ان کو تبدیل کرکے اچھے معنی والے نام رکھ  دیے۔  لہذا   نام کے اچھا اور بامعنی ہونے کا انسان کی شخصیت پر  اثر پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اچھے نام رکھنے کا حکم دیا گیا ہے،  لیکن پیدائش کے دن اور تاریخ کا حساب کرکے یا ستاروں کی مناسبت سے نام رکھنے کا اہتمام کرنا اور اس سے نام کا انسانی شخصیت پر بھاری ہونا یا اس کے اچھا اثر ہونے کا عقیدہ رکھنا یہ  خلافِ شریعت عقائد ہیں، یہ عقیدہ رکھنا درست نہیں ہے، ایسی کوئی بات شریعت سے ثابت نہیں ہے۔

نیز نام کے اچھا یا برا ہونے کا معیار  یہ نہیں ہے کہ وہ نام پسند آجائے، بلکہ اچھا ہونے کی بنیاد  شریعت کی نظر میں اس نام کا اچھا ہونا ہے، فقہاءِ کرام فرماتے ہیں کہ بچوں کا ایسا نام رکھنا جو اللہ نے اپنے بندوں کا نہیں لیا اور نہ اس کو رسول اللہ ﷺ نے ذکر کیا اور نہ اس کو مسلمانوں نے استعمال کیا ہو یعنی مسلمانوں کا اس نام کے رکھنے کا تعارف نہ ہو تو بہتر یہ ہے کہ ایسا نام نہ رکھا جائے۔

"وفي الفتاوى: التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه، والأولى أن لايفعل، كذا في المحيط". (فتاوی عالمگیری 5/362 )
لہذا نام رکھنے کا ادب یہ ہے کہ اس میں نیک لوگوں کی نسبت ملحوظ ہو مثلاً انبیاءِ کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا نیک مسلمانوں کے نام پر ہو، یا وہ اچھا بامعنی لفظ ہو، اس تفصیل کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ :  

 بچی کا نام ”حسینین“ عربی لغت اور مسلمانوں کے عرف دونوں کے مطابق غیر مستعمل ہے، جیساکہ اس کی تفصیل  سابقہ جواب میں مذکور ہے۔ لہذا بچی کے لیے یہ نام رکھنا مناسب معلوم نہیں ہوتا، اسے بدل دینا بہترہے۔ تاہم اگر کوئی رکھ لے تو اس کو ناجائز بھی نہیں کہا جائے گا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200663

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے